نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

آخری جنتی کا حال جو جہنم سے نکلے گا۔

  آخری جنتی کا حال کیا ہوگا جو جہنم سے نکلے گا۔ السلام علیکم۔ آج ہم اس موضوع پر بات کریں گے کہ اس آخری جنتی کا حال کیا ہوگا جو ابھی ابھی جہنم سے نکلا ھو گا۔ دوستو ہم مسلمان ہونے کے ناطے یہ ضرور جانتے ہیں کہ ہمارا پروردگار ایک ہے اور وعدہ لاشریک ہے۔ وہ بہت مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے وہ اپنے گناہگار بندوں کو بخش دیتا ہے جس کے دل میں ذرا سا بھی ایمان ہو۔ اگر ایک انسان زمین اور آسمان کو اپنے گناہوں سے کالا کر دے اور پھر اللہ تعالی کے آگے صرف ایک آنسو بہا کے کہے یا اللہ مجھے معاف کر دے اور اپنے گناہوں پر شرمندہ ہو کر اللہ سے معافی مانگیں۔  تو وہ اللہ کے جو مہربان نہایت رحم کرنے والا اور بخشنے والا ہے وہ اس کے سارے گناہوں کو ایسے معاف کر دے گا جیسے کہ پیدا ہوئے بچے کے گناہ ہوتے ہیں۔ ہم زمین اور آسمان پر اللہ کی مرضی سے چلتے پھرتے ہیں اور اللہ کا رزق کھاتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس ہم اللہ تعالی کا شکر اور حق ادا بالکل نہیں کر سکتے۔ ہماری عمر اللہ تعالی کا شکر ادا کرنے کے لئے اس قدر کم ہے کہ ہماری ایسی سو  عمر بھی ہو تو ہم چیونٹی کے برابر بھی اللہ تعالی کا حق ادا نہیں کر سکتے۔ اللہ تعالی ک

نماز جنازہ کو پڑھنے کا طریقہ اور اس کے فوائد

  نم از جنازہ کو پڑھنے کا طریقہ اور اس کے فوائد  السلام علیکم دوستوں امید کرتا ہوں کہ آپ سب خیریت سے ہوں گے۔ آج ہم نماز جنازہ کو پڑھنے کا طریقہ اور اس کے فوائد جاننے کی کوشش کریں گے۔ تو اس لیے اس مضمون کو پورا پڑھیں اور دھیان سے پڑھے ہیں۔ سب سے پہلے نماز جنازہ اور عام نماز میں فرق کیا ہے۔ ہم جو عام نماز مسجدوں میں پڑھتے ہیں وہ ہم اللہ تعالی کے لیے پڑھتے ہیں جن میں ہم سجدے رکوع اور کرت کی مقدار یعنی التحیات میں بیٹھتے ہیں۔ لیکن نماز جنازہ ہم میت کی بخشش و مغفرت کے لئے پڑھتے ہیں۔ نماز جنازہ میں ہم نہ رکوع کرتے ہیں نہ سجدہ کرتے ہیں اور نہ ہی اتحیات میں بیٹھتے ہیں۔ کیوں کے وہ نماز میت کے لیے ہوتی ہے اور اللہ تعالی نے فرمایا کسی اور کو سجدہ کرنا شرک ہے اور شرک سب سے بڑا گناہ ہے۔ تو سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ کیا نماز جنازہ فرض ہے؟ تو جواب ہے کہ نماز جنازہ پوری طرح سے ہم پر فرض نہیں ہے۔ لیکن کسی حد تک اسے ہم واجب کہہ سکتے ہیں۔ یہ نماز فرض ہے کہافیہ ہے۔ اگر اسے پڑھ لیں تو بہت زیادہ ثواب ملے گا اور اگر نہ پڑھے تو گناہ نہیں ملے گا۔ لیکن مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دوسرے بھائیوں ک

ہمیں کون سا مضمون پڑھنا چاہیے۔

 What subject should I choose for study in urdu?   ہمیں کون سا مضمون پڑھنا چاہیے۔ اکثر طالب علم یہ سوال کرتے ہیں کہ میٹرک یا ایف ایس سی وغیرہ میں ہمیں کون سا  مضمون پڑھنا چاہیے۔  اور والدین دین کو سب سے پہلے تو یہ نصیحت ہے کہ اپنے بچے کی مرضی کا مضمون ان کو پڑھائے اور لکھائیں گا کہ جس میں اس کا ذہن متفق ہو، وہی وہ مضمون پڑھے اور اس میں ہی اس کو قابلیت حاصل ہوگی چاہے وہ کوئی چھوٹا سا مضمون ہی کیوں نہ ہو۔ اگر آپ اپنے بچے پر زبردستی کوئی مضمون مسلط کر دیں گے تو وہ اسے اپنے آپ پر بوجھ سمجھے گا۔ بچے کی مرضی سے اس کو مضمون پڑھانا۔  جب کہ جب آپ اپنے بچے کی مرضی سے اس کو مضمون پڑھائیں گے تو وہ اس کو شوق سے پڑھے گا۔  اور اسے لگے گا کہ اسے رٹا نہیں لگانا اسے سمجھنا ہے یہ ایک علم ہے جسے ہم نے سیکھنا ہے اور اس کو عمل میں لانا ہے۔ اور وہ اس کو ٹھیک نیت سے پڑھے گا اور اس میں کوئی ریاکاری نہیں کرے گا اسے محنت سے یاد کرے گا اور آپ کو پھر ان کی محنت کا پھل ملے گا اور آپ کے اتنی فیس بھی بچ جائے گی۔  اور آپ کو وہ ایک اچھا اچھا مستقبل بنا کر دے گا اور آپ کو ایک اچھا پھیلے گا اور اسے لگے گا کہ میں آج جہاں

سائنس کے کرشمے۔

 سائنس کے کرشمے۔ انسان اشرف المخلوقات ہے۔ یہ شرف اسے اس لیے حاصل ہے کہ اسے علم جیسی نعمت سے نوازا گیا ہے۔ سائنس علم ہی کا ایک شعبہ مشہور ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو بہترین دماغی صلاحیتیں عطا کی ہیں۔ وہ ان صلاحیتوں سے کام لے کر مسلسل ارتقاء کا اور ترقی کی منازل طے کرتا رہتا ہے۔ انسان نے علم کی بدولت اس قدر ترقی حاصل کر لی ہے کہ اس کے کارناموں پر حیرت ہوتی ہے۔ انسان نے آج تک کتنی منازل طے کی ہیں وہ سائنس ہی کی مرہون منت ہیں اور ابھی ارتقاء اور ترقی کا یہ سلسلہ برابر جاری و ساری ہے۔ آج انسان عقل اور فکر کی کرشمہ سازیوں نے اس کی معاشرت اور طرز زندگی میں ایک ایسا حیرت انگیز انقلاب پیدا کیا ہے کہ اگر انیسویں صدی کا انسان اتفاق سے موجودہ دنیا میں آجائے، تو لوگوں نے حاضر کی معجزہ ایجادات کو دیکھ کر یقینا اپنے حواس کھو بیٹھے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج سائنسی ایجادات کی بدولت ہم ایک ایسی تجربہ سماتی دنیا میں پہنچ گئے ہیں۔ جس کا تصور بھی ہمارے پر پشیرو نہیں کر سکتے تھے۔ ہر لحظ تغیر پذیر ہے۔ ماضی کی ناممکن باتیں آج ممکن ہوگئی ہیں۔ جن چیزوں کا ذکر ہم قدیم قصے کہانیوں میں سنتے تھے اور ان کی صداقت پر یقین

شکر - شکر پر مکمل مضمون۔

 شکر - شکر پر مکمل مضمون۔ شکر کا مفہوم۔ شکر کے لغوی معنی ہیں۔ پر اس کی تعریف کرنا اس کا شکریہ ادا کرنا۔ اس کا احسان ماننا اور زبان سے اس کا کھل کر اظہار کرنا شکر کہلاتا ہے۔ شکر عربی زبان کا لفظ ہے۔ اس کے اصل معنی یہ ہیں کہ مویشی چھوڑے چہرے پراس کے اصل معنی یہ ہیں کہ مویشی تھوڑے چارے پر بی موٹا تازہ رہے اور مادہ تھوڑے چارے پر بھی وافر دودھ دے۔ ایرانی تھوڑی سی بھلائی کا بھی خوب اعتراف کیا جائے۔ اللہ تعالی کا شکر ادا کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالی کی نعمتوں اور احسانات کی دل سے قدر کی جائے اور صبح ان سے اس کا اظہار کیا جائے۔ بندے کی طلب سے اللہ تعالی کے شکر کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ توحید پر پہنچتا ہے نہ رکھے اور اللہ تعالی کی تمام احکام بجا لائے۔ حمادون ہر ایک کو ذکر کرنے والی زبان اور شکر کرنے والا دل رکھنا چاہیے۔ قیامت کے دن بلند آواز میں پکارا جائے گا۔  حمادون مطلب کھڑے ہوں۔ کچھ لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے۔ ان کے لئے ایک جھنڈا نصب کر دیا جائے گا پس وہ جنت میں داخل کر دیئے جائیں گے۔  عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حمادون کون ہوں گے۔ آپ صلی اللہ وسلم نے فرمایا جو ہر حال میں اللہ تع

روزہ کی فضیلت اور اہمیت۔

 روزہ - روزہ کی فضیلت اور اہمیت۔ روزے کا مفہوم قرآن پاک میں رونے کے لئے صوم اور صیام کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ صوم کی جمع صیام ہے۔ صوم کے معنی کسی کام سے روکنا اسے ترک کرنے اور چپ رہنے کے ہیں۔ جبکہ شریعت کی اصطلاح میں صبح صادق سے غروب آفتاب تک کھانے پینے اور دیگر تمام گناہ سے روک جانے کا نام روزہ ہے۔ اسماء رمضان حضور صل وسلم نے ماہ رمضان کو مندرجہ ذیل چار نام دیے ہیں۔ شھر عظیم (عظمت والا مہینہ) شھر الصبر (صبر کا مہینہ) شھر مبارک (بابرکت مہینہ) شھرالمواساۃ (ہمدردی کا مہینہ) فضیلت روزہ روزہ ایک بدنی عبادت ہے اس میں انسان اور جنسی ملاب تعلقات سے رکا رہتا ہے۔ روزہ دین اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے اور ہرا کر بالغوں اور تندرست مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ بیمار اور مسافر روزہ چھوڑ سکتے ہیں بعد میں رکھنے۔ فضیلت رمضان  رمضان المبارک کے ماہ کو نیکیوں کی فصل اور لیلۃ القدر کو جشن قرآن کی رات بھی کہتے ہیں۔ ضبط نفس انسان مسلسل ایک ماہ صرف اللہ کی رضا کی خاطر اپنی اپنی نفسیاتی خواہشات کو قابو میں رکھتا ہے۔ لڑائیوں سے بچتا اور نیکیوں کی طرف لپکتا ہے۔ اس طرح اسے ضبط نفس کیوں وہ

غسل اور وضو کا صحیح طریقہ۔

 غسل اور وضو کا صحیح اسلامی طریقہ۔ وضو کا طریقہ وضو کی تعریف۔ عبادت کرنے سے پہلے کچھ جسمانی حصوں کو خاص ترتیب سے دھونا وضو کہلاتا ہے۔ وضو کے بغیر کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی ہے۔ وضو کا طریقہ۔ پاک اور صاف پانی لے کر پاک اور صاف اونچی جگہ پر بیٹھیں۔  قبلہ کی طرف منہ کرنا زیادہ بہتر ہے۔ پھر بسم اللہ پڑھیں اور تین بار پہنچوں تک دونوں ہاتھ دھوئیں۔ پھر تین بار کال کریں، مسواک کرنا سنت ہے۔ ورنہ انگلی سے دانت مل لیں۔ پھر تین بار ناک میں پانی ڈال کر بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے ناک صاف کریں، پھر تین بار چہرے پر آہستہ آہستہ پانی ڈال کر دھویں۔  پیشانی کے بالوں سے تھوڑی کے نیچے تک  اور دونوں کانوں کی لو تک چہرہ دھونا چاہیے۔ پھر کہنیوں سمیت دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئیں۔ پھر ہاتھ کرکے ایک بار سر، کانوں اور گردن کا مسح کریں۔ دایاں اور بایاں پاؤں ٹخنوں سمیت دھویں۔ یہ وضو کرنے کا مسنون طریقہ ہے۔ وضو کے بعد وضو کرنے کے بعد دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی آسمان کی طرف بلند کرکے کلمہ شہادت پڑھنا اور اس کے ساتھ دعا ملانا سنت ہے۔ نوٹ اگر وضو کرنے کے لئے پانی میسر نہ ہو یا پانی سے بیماری کے بڑھنے کا خدشہ ہو تو ا