نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

دسمبر, 2020 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

گداگری پر مکمل مضمون۔

 گداگری - گداگری پر مکمل مضمون۔

دوستی پر مکمل مضمون۔

 میرے دوست - دوستی پر مکمل مضمون۔

اپنی مدد آپ کرنے کے فوائد۔

 اپنی مدد آپ - اپنی مدد آپ کرنے کے فوائد۔

مریض کی عیادت کرنا۔

 عیادت مریض - مریض کی عیادت کرنا۔

زم زم کی کہانی۔

  زم زم - زم زم کی کہانی۔ مکہ معظمہ کی مسجد الحرام میں کعبہ شریف سے پندرہ میٹر کے فاصلے پر جنوب مشرق میں حجر اسود کی سیدھ میں ایک کنواں ہے۔ جس کے پانی کو آب زم زم کہتے ہیں۔ یہ کنواں کعبہ شریف سے بھی قدیم ہے۔ اور اس کی گہرائی کے بارے میں کیا تھا کہ وہ ایک سو چالیس فٹ ہے۔ لیکن حالیہ پیمائش پر یہ 207 فٹ گہرا پایا گیا۔ ممکن ہے پانی کی مسلسل نکاسی کی وجہ سے یہ نیچا ہو گیا ہوں مسلمانوں کے نزدیک اس کا پانی متبرک ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھڑے ہو کر پیا اور ایک خصوصی دعا فرمائیں۔ اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ایک ایسے علم کا جو فائدہ دینے والا اور ایسے رزق کا جو مجھے دل سے عطا کیا جائے اور مجھے بیماریوں سےشفاء مرحمت فرما۔ آج سے ہزاروں سال پہلے کی بات ہے کہ آج کل جہاں مکہ مکرمہ کا متبرک شہر آباد ہے۔ وہاں ریت اور سٹری ہوئی پہاڑیوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ دور دور تک کسی جاندار کا گمان تک نہ تھا۔ اسی زمانے میں اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ اپنی بیوی حضرت ہاجرہ علیہ السلام کو ان کے نومولود حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ہمرا مکے کی بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ آئیں۔ جب

تعلیم نسواں پر مضمون۔

 تعلیم نسواں پر مضمون - عورتوں کی تعلیم۔   تعلیم ایک ایسا عمل ہے۔ جس سے ایک نسل اپنا تہذیبی اور تمدنی ورثہ دوسری نسل کو منتقل کرتی ہے۔  اس مقصد کے لیے ہر سوسائٹی اپنے تہذیبی مسائل اور تمدنی حالات کے مطابق ادارے قائم کرتی ہے۔ یہ ادارے بھرپور کوشش کرتے ہیں کہ وہ قوم اور ملک کی توقعات پر پورا اتریں۔ ہر معاشرہ اپنی اقدار کے مطابق درسگاہوں کا اہتمام کرتا ہے۔ اسلامی سوسائٹی میں ان درسگاہوں کے انداز جدا ہیں اور لادینی درسگاہوں میں نصاب مختلف ہے۔ لیکن ایک چیز سب میں مشترک ہے۔ وہ یہ کہ پچھلی نسل اگلی نسل کو اپنے تمام تر تجربات منتقل کرے بلکہ پوری انسانیت کے تجربات اور علوم پوری طرح منتقل کرے۔ تاکہ دوسری اقوام عالم کے شنا بشانہ چل کر زندگی کی دوڑ میں شریک ہوا جا سکے۔ اسلام نے واضح کر دیا ہے کہ علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین جانا پڑے۔ آج ہوائی جہاز نے چین کو قریب کر دیا ہے۔ جن دنوں حضور صلی علیہ وسلم نے تحصیل علم کی تاکید میں فرمایا، ان دنوں چین کا سفر جان جو کھو کا کام تھا۔ اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ جو شخص علم حاصل کرنے کی کوشش میں فوت ہو جائے وہ شہید ہے۔ جنگ بدر کے وہ قیدی جو فدیہ دینے کی است

اتحاد و اتفاق کی برکت۔

 اتحاد - اتحاد و اتفاق کی برکت۔ اتحاد کے معانی ہے اتفاق ، ایکا، میل، دوستی اور محبت۔ مشہور کہاوت ہے کہ اتفاق میں طاقت ہے۔ اتحاد ہی قوت اور طاقت کا ذریعہ ہے۔ نااتفاقی انتشار، کمزوری اور زوال ہے۔ قوموں کی تعمیر اور ترقی خوشحالی اور استحکام کا دارومدار اتحاد پر ہے۔ قوم مستحد ہو تو اسے کوئی ہے دشمن مغلوب نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر قومی یکجہتی نہ ہو تو دشمن آسانی کے ساتھ اسے زیر کر لیتا ہے۔ احادیث میں بھی مسلمانوں کے اتحاد پر بہت زور دیاگیاہے۔ چنانچہ ارشاد ہے۔ مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی ہے اگر جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہو تو اس کا سارا بدن پر پڑتا ہے۔ ایک اور موقع پر آپ صل وسلم نے فرمایا اللہ تعالی کا ہاتھ جماعت پر ہے۔ کتاب کی شیرازہ بندی اتفاق و اتحاد کی مرہون منت ہے۔ اگر یہ شیرازہ بندی نہ ہو تو منتشر اوراق پر کتاب کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ جب منتشر اوراق کو باہم جوڑ کر ان کی شیرازہ بندی کر دی گئی تو کتاب وجود میں آئی۔ اس شیراز کو توڑ دیجیے تو اوراق منتشر ہو جائیں گے اور کتاب کا وجود ختم ہو جائے گا۔ دریا، سمندر، نہر اور چشمہ کیا ہیں؟ یہ پانی کے قطروں کا اتحاد ہی تو ہے۔ اگر قطروں میں یہ

والدین کے ساتھ سلوک۔

 والدین کے ساتھ سلوک ۔ ماں باپ کی اطاعت اور خدمت۔ ایک شخص کسی دوسرے پر احسان کرتا ہے، مصیبت میں اس کی حفاظت کرتا ہے، تکلیف میں اسے راحت پہنچانا ہے، تو دوسرا شخص اس کا شکر گزار ہوتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ کسی اور طریقے سے کسی اور نوعیت سے سے اس کے احسان کا بدلہ دینے کی کوشش کرے اور اگر وہ طاقت رکھتا ہے تو ویسا ہی صلہ دیتا ہے ورنہ اسے دعائیں ضرور دیتا ہے۔  احسان کو یاد رکھنا اور اس کے لیے ممنوع ہونا ہے اور انسانی فریضہ ہے۔ اگر انسان غور کرے تو اسے معلوم ہوگا کہ اگر اس دنیا میں کوئی ہستی ہے جس کے انسان پر سب سے زیادہ احسانات ہوں، جس کی مہربانیاں سب سے زیادہ ہوں جس کی شفقت میں مثال ہو اور جس کی توجہ قابل قدر ہو ہو تو وہ ہستی والدین کی ہے۔ والدین کے ہم پر اتنے احسانات ہیں کہ دل اور نگاہ شاہ ان کی مہربانی اور ان کی شفقتوں کے سامنے جھکے جاتے ہیں اور انسان کے لیے یہ ناممکن ہے کہ وہ ان کی مثال اور پر خلوص خدمت کا صلہ دے سکے۔ حقوق دو طرح کے ہیں۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد۔ جہاں تک حقوق اللہ کا تعلق ہے وہ اگر اللہ چاہے تو معاف کر سکتا ہے۔ لیکن حقوق العباد اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک بندے ی

علم کے فائدے۔

 علم کے فائدے، علم سیکھنے کے فائدے، پڑھنے لکھنے کے فائدے، ترقی کرنا، کامیابی حاصل کرنا۔ علم کے معنی ہیں جاننا، آگاہی اور واقفیت۔ یہ ایک ایسی خوبصورت چیز ہے جس کی وجہ سے انسان اشرف المخلوقات کہلاتا ہے۔ علم ہی سے شرف انسانیت ہے۔ علم کی بدولت انسان کو فرشتوں پر برتری اور فضیلت حاصل ہوئی علم ہی کی بدولت انسان کو خلافت پر فائز کیا گیا۔ اللہ تعالی نے انسان کو دل اور دماغ کی بہترین صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے انسان نثر کا ارتقا کی منزلیں طے کرتا رہتا ہے۔ چنانچہ دنیا میں انسان نے جس قدر ترقی حاصل کی ہے وہ علم ہی کی مرہون منت ہے۔ علم سے محبت اور پیار تقاضا انسانیت ہے۔ خداوند تعالیٰ نے انسان کو ایک کمزور اور بے بس ہستی بنایا کو نہ اس میں پہاڑوں کی سی عظمت، نان دریاؤں اور سمندروں کا سا شکوہ و جلال، نا آندھی کی سی تیزی نہ طوفان کی سی حیمت اور نہ ہاتھی اور گینڈے جیسی طاقت۔ اللہ تعالی نے ان خوبیوں کے بدلے اسے علم کی دولت عطا فرمائی اور  حواسِ خمسہ سے نوازا۔ قدرت کی دی ہوئی قوتوں سے اس نے مختلف علوم سیکھیں اور ان علوم کی بدولت آج یہ کمزور اور ناتواں مشت خاک تمام عال

وقت کی پابندی۔

 وقت کی پابندی وقت زنجیر ہے۔ لمحے ساقی گھنٹے دن رات ہفتے مہینے اور سال اور دیا اس زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ جوہر ان میں گزر رہی ہیں۔ اگر دیکھیں تو زندگی اور وقت ایک ہی چیز ہے۔ جس چیز کو ہم زندگی یا حیات کہتے ہیں وہ ایک وقت معین کے اندر جیتے رہنے کا نام ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی زندگی کو مرتب اور منظم بنانا چاہے،  تو اسے چاہیے کہ ہر کام کو مقررہ وقت پر سر انجام دے اور اس کی عادت ڈالے اسے وقت کی پیش بندی یا وقت کی پابندی کہا جاتا ہے۔ ورنہ سیل زمانہ تو رواں دواں ہے نہ وہ کسی کے لیے ٹھہرتا ہے اور نہ ہی کسی کا انتظار کرتا ہے۔  حضور صلی اللہ علیہ وسلم سرور کائنات نے اے الوقت سیف قاطع کہاں ہے۔ یعنی وقت تلوار ہے جو رکتی نہیں کاٹتی چلی جاتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ نظام کائنات سارے کا سارا پابندی وقت کے ساتھ چل رہا ہے۔ سورج وقت پر طلوع ہوتا ہے اور وقت پر غروب ہوتا ہے۔ چاند کے طلوع و غروب کا وقت مقرر ہے۔ رات دن اور موسموں کے تغیر و تبدل میں پابندی وقت کا اصول کار فرما ہے سیاروں کی گردش بھی وقت کی پابند ہے۔ اسی طرح فصلوں پھولوں اور پھلوں کے بھی مقررہ اوقات ہیں۔ کسان وقت پر فصل کاشت کرنا اور وقت پر انہیں کاٹتا

محنت کی برکات۔

 محنت کی برکات۔ دنیا میں ہر کام کے لئے حرکت، طاقت اور قوت کی ضرورت ہوتی ہے اور کام کی انجام دہی محنت کہلاتی ہے۔ دنیا کی تمام تر خوبصورتی پائیداری محنت اور مشقت کی بدولت ہے۔ محنت اس کائنات کا ایک ایسا اصول ہے جس پر عمل کی بنیاد پر انسان کو زندگی کے ہر شعبے میں ثمرات میسر آتے ہیں۔ خود خالق کائنات نے بھی بڑے واضح الفاظ میں فرمادیا ہے کہ انسان کو وہی کچھ ملے گا جس کے لیے وہ محنت کرے گا۔ گویا مذہبی اعتبار سے بھی ایک کاہل سست اور بے عمل انسان معاشرے کے لیے قابل قبول نہیں۔ اسلام کی تعلیمات میں کام کرنے والے کو اللہ کا دوست کہا گیا ہے۔ خود ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا ہر کام اپنے ہاتھ سے کرنے میں فخر محسوس کرتے تھے، اپنے جوتے خود گانٹھتے اور پھٹے کپڑوں کو پیوند بھی خود لگایا کرتے تھے۔ مسجد نبوی کی تعمیر میں حضور صلی علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ مل کر پتھر اٹھائے اور غزوہ خندق کے موقع پر خود بھی خندق کھودنے کا کام سرانجام دیا۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ وسلم نے ہمارے لیے ایک مثال اور نمونہ دیا کہ کوئی بھی کام خود کرنے میں عار محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ پا

انسان اور اس کا ماحول۔

 انسان اور اس کا ماحول۔ انسان صدیوں سے اس زمین پر زندگی گزار رہا ہے۔وہ اپنے اردگرد کے ماحول سے متاثر بھی ہوتا ہے اور اسے متاثر بھی کرتا ہے۔ زمین کے ساتھ انسان کا رشتہ اسی دوستانہ فضا کا عکاس ہے، جو انسانی زندگی کو نت نئے رنگوں میں ڈھالنے اور اس کے حسن اور خوبصورتی میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ زمین کے ساتھ انسان کی وابستگی بڑی پرانی ہے۔  وہ اپنے اردگرد کے ماحول سے بے خبر ہوکر زندگی کی خوبصورتیوں کو حاصل نہیں کرسکتا اور نہ ہی ماحول کی انسان سے وابستگی کے بغیر ماحول کا حسن و جمال برقرار رہ سکتا ہے۔ انسان اور زمین لازم و ملزوم ہیں۔ ایک کے بعد دوسرے کا تصور بھی ناممکن ہے۔ جدید دور سائنسی ایجادات کا دور ہے۔ جس قدر ایجادات پچھلی ایک آدھ صدی کے زمانے میں ہوئی ہے اتنی ایجادات پچھلی تمام صدیوں میں مل کر بھی نہیں ہوئیں۔ جس قدر سائنسی ایجادات نے انسانی زندگی پر اچھے اور مثبت اثرات مرتب کیے ہیں وہیں پر ہی سائنس کے منفی اثرات سے منہ موڑنا یا انکار بھی ممکن نہیں۔ سائنسی ترقی کی بدولت صنعت و حرفت کے میدان میں بے پناہ انقلاب پیدا ہوا ہے۔ اس انقلاب اور ترقی کی بدولت ہماری زندگی بہت سی بنیادی سہولتوں سے آش

کاہلی کے نقصان۔

کاہلی کے نقصان۔ یہ ایک ایسا لفظ ہے جس کا مطلب سمجھے میں لوگ غلط کرتے ہیں ۔لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہاتھ پاؤں سے محنت نہ کرنا کام کاج محنت مزدوری میں چشتی نہ کرنا  اٹھنے   بیٹھنے چلنے پھرنے میں سستی کرنا، کاہلی ہے۔ مگر یہ خیال نہیں کرتے کہ دلی قویٰ یعنی دل کی طاقتوں کو بیکار چھوڑ دینا سب سے بڑی کاہلی ہے۔  ہاتھ پاؤں کی محنت اوقات بسر کرنے اور روٹی کما کر کھانے کے لئے نہایت ضروری ہے۔ روٹی پیدا کرنا اور پیٹ بھرنا ایک ایسی چیز ہے کہ بہ مجبوری اس کے لیے محنت کی جاتی ہے اور ہاتھ پاوں کی کاہلی چھوڑی جاتی ہے۔ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ محنت مزدوری کرنے والے لوگ اور وہ جو کہ اپنی روزانہ محنت سے اپنی بسر اوقات کا سامان مہیا کرتے ہیں، بہت کم کاہل ہوتے ہیں۔ محنت کرنا اور سخت کاموں میں ہر روز لگے رہنا گویا ان کی طبیعت ثانی یعنی عادت ہو جاتی ہے۔ مگر جن لوگوں کو ان باتوں کی حاجت یا ضرورت نہیں ہے وہ اپنے دلی قویٰ کو بے کار چوڑ کر بڑے کاہل اور بالکل حیوان صفت ہو جاتے ہیں۔  ہاں یہ سچ ہے کہ لوگ پڑھتے بھی ہیں اور پڑھنے میں ھی ترقی بھی کرتے ہیں اور ہزار پڑھے لکھوں لوگوں میں سے شاید کسی کوئی ایک شخص کو ایسا بھی مو

ہجرت نبویّ کا پورا واقعہ تفصیل کے ساتھ۔

ہجرت نبویّ کا پورا واقعہ تفصیل کے ساتھ۔ نبوت کا 13 سال شروع ہوا اور اکثر صحابہ رضی اللہ تعالی عنہ مدینہ پہنچ چکے تھے تو وحی الہی کے مطابق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مدینہ کا عزم فرمایا قریش نے دیکھا کہ میں مسلمان مدینے میں جا کر طاقت پر جاتے ہیں اور وہاں اسلامی ضابطہ حیات ہے چنانچہ لوگوں نے مختلف رائے پیش کی ایک نے کہا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پاؤں میں زنجیر ڈال کر بند کر دیا جائے دوسرے نے کہا جلاوطن کر دیا جائے ابوجہل نے کہا ہے قبیلے سے ایک شخص انتخاب ہوں اور پورا مجمع ایک ساتھ مل کر تلواروں سے ان کا خاتمہ کر دیں اس صورت میں ان کا خون تمام قبائل میں بٹ جائے گا اور مسلمان اکیلے تمام قبائل کا مقابلہ نہ کر سکیں گے اس عقیل رائے پر اتفاق ہوگیا اور جھٹ پٹی سے آکر رسول صلی اللہ وسلم کے آستانہ مبارک کا معاشرہ کرلیا اہل عرب زنانہ مکان کے اندر گھسنا معیوب سمجھتے تھے اس لئے باہر ٹھہرے رہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو یہ فرض ادا کیا جائے۔ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قریش کو اس درجہ عداوت تھی تاہم آپ کی دیانت پر یہ اعتماد تھا کہ جس شخص کو کچھ مال یا اسباب امانت رکھ