نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

والدین کے ساتھ سلوک۔

 والدین کے ساتھ سلوک ۔ ماں باپ کی اطاعت اور خدمت۔

Parents and her children.




ایک شخص کسی دوسرے پر احسان کرتا ہے، مصیبت میں اس کی حفاظت کرتا ہے، تکلیف میں اسے راحت پہنچانا ہے، تو دوسرا شخص اس کا شکر گزار ہوتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ کسی اور طریقے سے کسی اور نوعیت سے سے اس کے احسان کا بدلہ دینے کی کوشش کرے اور اگر وہ طاقت رکھتا ہے تو ویسا ہی صلہ دیتا ہے ورنہ اسے دعائیں ضرور دیتا ہے۔ 
احسان کو یاد رکھنا اور اس کے لیے ممنوع ہونا ہے اور انسانی فریضہ ہے۔ اگر انسان غور کرے تو اسے معلوم ہوگا کہ اگر اس دنیا میں کوئی ہستی ہے جس کے انسان پر سب سے زیادہ احسانات ہوں، جس کی مہربانیاں سب سے زیادہ ہوں جس کی شفقت میں مثال ہو اور جس کی توجہ قابل قدر ہو ہو تو وہ ہستی والدین کی ہے۔
والدین کے ہم پر اتنے احسانات ہیں کہ دل اور نگاہ شاہ ان کی مہربانی اور ان کی شفقتوں کے سامنے جھکے جاتے ہیں اور انسان کے لیے یہ ناممکن ہے کہ وہ ان کی مثال اور پر خلوص خدمت کا صلہ دے سکے۔
حقوق دو طرح کے ہیں۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد۔ جہاں تک حقوق اللہ کا تعلق ہے وہ اگر اللہ چاہے تو معاف کر سکتا ہے۔ لیکن حقوق العباد اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک بندے یہ حقوق معاف نہ کرے، ان میں والدین کا حق سب سے زیادہ ہے۔
والدین کے بغیر بچے کی صحیح پرورش اور تربیت نہیں ہو سکتی۔ یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ تمام جانداروں میں انسان کے بچے کی پرورش اور دیکھ بھال سب سے مشکل کام ہے۔
جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو محض گوشت کا ایک لوتھڑا ہوتا ہے وہ پروان چڑھنے کے لیے کئی برس تک والدین کی پرورش اور دیکھ بھال کا محتاج ہوتا ہے۔
اس لئے والدین کو بڑا مقام ہے اور ان کا درجہ خدا کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔
قرآن مجید میں والدین کی اطاعت خدمت اور حسن سلوک پر زور دیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں والدین کے ساتھ حسن سلوک نے کی اور خدمت کی تاکید بارہ مختلف آیتوں میں نازل ہوئی اور اکثر موقعوں پر یہ تعلیم توحید کے بعد آئی۔
ایک دفعہ رسول نے اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے اور ممبر پر بیٹھتے ہوئے تین مرتبہ آمین کہاں۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے تعجب سے اس کا سبب پوچھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کے کے ابھی جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے تھے تھے انہوں نے تین بد دعائیں دیں اور میں نے ان پر آمین کہا۔

1 پہلی بد دعا یہ تھی وہ شخص تباہ اور برباد ہو جس نے والدین کو بڑھاپے میں میں پایا اور ان کی خدمت نہ کی۔
2 دوسری دعا یہ تھی وہ شخص تباہ اور برباد ہو جس نے رمضان شریف کے روزے پائے اور نہ رکھے۔
3  تیسری بد دعا یہ تھی وہ شخص تباہ اور برباد ہو جس نے میرا نام سنا اور درود نہ پڑھا۔
 ایک شخص حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ وسلم سے جہاد کی اجازت مانگی آپ صل وسلم نے فرمایا۔ کیا تیرے ماں باپ زندہ ہیں؟
وہ بولا کہ ہاں آپ صل وسلم نے ارشاد فرمایا آیا کے آجاؤ او اور ان کی خدمت میں جہاد کی کوشش کرو۔
مسجد نبوی میں ایک شخص سرکار مدینہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اور عرج کی یا رسول صلی اللہ وسلم میرے  حسن سلوک کا سب سے بڑا حقدار کون ہے؟  پوچھا تو آپ صلی وسلم نے فرمایا تیری ماں، دوسری مرتبہ پھر پوچھا تو آپ صلی وسلم نے فرمایا تیری  ماں تیری مرتبہ پھر پوچھا تو آپ صلی وسلم نے فرمایا تیری ماں۔ چوتھی مرتبہ پھر پوچھا تو آپ صلی اللہ نے فرمایا تیرا باپ۔
اگرچہ باپ کا بھی بڑا حق ہے لیکن ماں کا حق فوقیت رکھتا ہے۔ اس لیے کہ ماں کو بچے کی خاطر باپ کے مقابلے میں زیادہ تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔
سب سے پہلے تووہ نو ماہ تک بچے کو پیٹ میں اٹھائے پھرتی ہے۔ یہ عرصہ اس کے لیے بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہو کر بچے کو جنم دیتی ہے اور بعض عورتیں تو بچے کی پیدائش ہی کے موقع پر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں پھر بچے کی پرورش کا کٹھن مرحلہ ہوتا ہے۔
بچے کی پرورش کے سلسلے میں ذرا ماں کی ذمہ داریوں پر غورکیجیے ماں بچے کی خاطر تکلیف اٹھاتی ہیں، ایک عام آدمی اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ 
خدانخواستہ اگر بچہ بیمار ہو جائے تو بچاری ماں کی جان پر بن جاتی ہے۔ 
اس کی نیندیں حرام ہو جاتی ہیں ہیں اور جب تک بچہ صحت یاب نہ ہو جائے اسے سکھ کا سانس لینا نصیب نہیں ہوتا۔
بچے کو کھلانا پلانا سنگل اناج گانا وغیرہ اس کے فرائض میں شامل ہے بچے کی خوشی سے خوش اور اس کی تکلیف سے غمگین ہو جاتی ہے۔
آپ صل علی وسلم نے فرمایا ماں کے قدموں تلے جنت ہے۔
  اللہ تعالی کے فرمان کے مطابق اولاد پر فرض ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔
ان سے محبت اور احترام سے بات کریں دل میں ان کی عزت اور احترام کو جگہ دے۔ کوئی ایسی بات منہ سے نہ نکالیں جس سے نفرت کا اظہار ہوتا ہو۔
عاجزی اور انکساری کے ساتھ پیش آئیں۔ والدین کا ادب اور احترام صرف باتوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ دل میں بھی والدین کی اجازت ہونی چاہیے۔ اگر کبھی والدین کے حق میں گستاخی بے ادبی ہو جائے تو فورا توبہ کرنی چاہیے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص کی وفات کا وقت آیا تو اس کی زبان پر کلمہ جاری نہ ہوتا تھا ادھر سے ہم کو اس کی اطلاع کی گئی۔ حضور اکرم صل وسلم نے پوچھا کیا اس کی ماں زندہ ہے؟ عرض کیا گیا حضور صلی وسلم نے اس کی والدہ کو طلب فرمایا جب وہ حاضر ہوئی تو حضور صلی اللہ وسلم کے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ وہ اپنے بیٹے سے ناراض ہے۔ حضور صلی علیہ وسلم نے فرمایا لکڑیاں جمع کی جائے اور ان میں آگ لگائی جائے اور پھر اس کے بیٹے کو آگ میں ڈال دیا جائے۔ 
اس پر ماکڑ اٹھی اور عرض کرنے لگی کہ دور ظلم اسے آگ میں نہ ڈالا جائے۔ اس پر اس عورت نے اپنے بیٹے کو معاف کر دیا اور اس کے بعد اس کی زبان پر کلمہ جاری ہوا اور وہ اللہ کو پیارا ہو گیا۔
والدین بچوں کی خدمت اور پرورش میں جو مصائب عید اور تکلیف برداشت کرتے ہیں، بچوں کا فرض ہے کہ اپنی باری پر انہیں مدنظر رکھے بلخصوص ماں کی تکلیفوں کا تو کوئی ٹھکانہ ہی نہیں۔
باپ اپنے بچوں کی پرورش اور تعلیم اور تربیت کے لئے کتنی  محنت کرتا ہے۔ وہ اپنی بھوک پیاس اور آرام آرام اور آسائش پر  بچوں کی ضروریات کو ترجیح دیتا ہے۔ اس لئے بچوں کا کا فرض ہے کہ وہ جوانی کی عمر کو پہنچے اور والدین بوڑھے ہو جائیں تو انہیں نہیں نیک بدلہ دینے کی پوری کوشش کریں۔ اس کی یہی صورت ہے کہ والدین کی خدمت کی جائے ان سے نیک برتاؤ کیا جائے اور نہ صرف ان کی ضروریات کا خیال رکھا جائے بلکہ ان کے جذبات اور احساسات کو پورا پورا لحاظ رکھا جائے اور کان کی پسند اور ذوق کو مدنظر رکھا جائے۔
خدا کے بعد والدین اولاد کے بڑے محسن ہوتے ہیں۔ محسن کی خدمت کرنا اور اس کا شکریہ ادا کرنا لازمی بھی ہے۔

اولاد کا فرض ہے کہ وہ اپنے والدین کے رشتہ داروں عزیزوں دوستوں اور سہیلیوں کا لحاظ رکھے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی شخص نے پوچھا کہ والدین کی وفات کے بعد ان سے کیا نیکی کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ وسلم نے فرمایا ان کی بخشش کی دعا مانگو ان کے کیے ہوئے وعدوں کو پورا کرو۔ ان کے رشتے داروں کے ساتھ نیک سلوک کرو اور ان کے دوستوں اور سہیلیوں کی عزت کرو۔
ایک دفعہ ایک شخص نے آکر عرض کیا یا رسول اللہ میں نے ایک بہت بڑا گناہ کیا ہے کہ اس کے لئے کوئی توبہ نہیں۔ فرمایا گیا تیری ماں زندہ ہے؟ جواب دیا نہیں دریافت کیا خالہ ہے بتایا ہے۔ فرمایا تو اس کے ساتھ نیکی کریں ہیں اس کی توبہ بتائی۔
ارشاد نبوی صلی اللہ وسلم ہے خالہ بھی ماں کی مانند ہے پھر ارشاد فرمایا چچا بھی باپ کے مانند ہے۔
اولاد کا فرض ہے کہ وہ والدین این زندگی میں ان کے لیے دعائے خیر کرے وفات کے بعد ان کے لیے مغفرت کی دعا کرے۔
قرآن مجید میں ہمیں یہ دعائیں سکھائی گئی ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے اے میرے میرے پروردگار ان پر رحم فرما جس طرح انہوں نے نے رحمت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالا تھا۔
اے ہمارے پروردگار مجھے اور میرے والدین کو بخش دے

انسان والدین کا احترام کرے ان کی اطاعت کرے ان کے احکام کے سامنے دیدہ اور دل کو جھکا دے۔ ان کی سختیوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کرے کیونکہ ان کی دعائیں ہیں اخروی نجات کا ذریعہ ہیں۔ بڑھاپے میں ان کی راحت ان کے آرام اور ان کے آسائش کا خیال رکھنا چاہیے۔ کیوں کہ جب وہ خود بے بس اور لاچار تھا تھا انہوں نے اتنے تکلیف اٹھا کر کر اسے پالا آج وہ بڑھاپے میں بے بس اور لاچار ہیں تو انہیں تمہارا سہارا درکار ہے۔



امید ہے آپ کو یہ سب بہت ہی زیادہ پسند آیا ہوگا اور آپ ماں باپ کی عظمت کو سیکھ گئے ہوں گے مجھے اور آپ کو پتہ چل گیا ہوگا کہ ہمارے ماں باپ نے کتنی محنت کرکے ہمیں پالا ہے۔ اب ہمارا بھی فرض بنتا ہے کہ ہم ان کی خدمت کریں اور ان کی فرمانبرداری کریں۔ اللہ عزوجل ہمارے والدین کو لمبی زندگی عطا فرمائے آمین۔


کاہلی کے نقصان اور کاہلی سے ہونے والی عادتوں کی مکمل تفصیل جاننے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کریں۔

کاہلی کے نقصان۔


آپ کا بہت بہت شکریہ ہماری سائٹ وزٹ کرنے کے لیے۔
آپ کا شکر گزار۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

طہارت اور پاکیزگی پر مضمون۔

 طھارت اور پاکیزگی۔

اتحاد و اتفاق کی برکت۔

 اتحاد - اتحاد و اتفاق کی برکت۔ اتحاد کے معانی ہے اتفاق ، ایکا، میل، دوستی اور محبت۔ مشہور کہاوت ہے کہ اتفاق میں طاقت ہے۔ اتحاد ہی قوت اور طاقت کا ذریعہ ہے۔ نااتفاقی انتشار، کمزوری اور زوال ہے۔ قوموں کی تعمیر اور ترقی خوشحالی اور استحکام کا دارومدار اتحاد پر ہے۔ قوم مستحد ہو تو اسے کوئی ہے دشمن مغلوب نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر قومی یکجہتی نہ ہو تو دشمن آسانی کے ساتھ اسے زیر کر لیتا ہے۔ احادیث میں بھی مسلمانوں کے اتحاد پر بہت زور دیاگیاہے۔ چنانچہ ارشاد ہے۔ مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی ہے اگر جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہو تو اس کا سارا بدن پر پڑتا ہے۔ ایک اور موقع پر آپ صل وسلم نے فرمایا اللہ تعالی کا ہاتھ جماعت پر ہے۔ کتاب کی شیرازہ بندی اتفاق و اتحاد کی مرہون منت ہے۔ اگر یہ شیرازہ بندی نہ ہو تو منتشر اوراق پر کتاب کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ جب منتشر اوراق کو باہم جوڑ کر ان کی شیرازہ بندی کر دی گئی تو کتاب وجود میں آئی۔ اس شیراز کو توڑ دیجیے تو اوراق منتشر ہو جائیں گے اور کتاب کا وجود ختم ہو جائے گا۔ دریا، سمندر، نہر اور چشمہ کیا ہیں؟ یہ پانی کے قطروں کا اتحاد ہی تو ہے۔ اگر قطروں میں یہ

سائنس کے کرشمے۔

 سائنس کے کرشمے۔ انسان اشرف المخلوقات ہے۔ یہ شرف اسے اس لیے حاصل ہے کہ اسے علم جیسی نعمت سے نوازا گیا ہے۔ سائنس علم ہی کا ایک شعبہ مشہور ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو بہترین دماغی صلاحیتیں عطا کی ہیں۔ وہ ان صلاحیتوں سے کام لے کر مسلسل ارتقاء کا اور ترقی کی منازل طے کرتا رہتا ہے۔ انسان نے علم کی بدولت اس قدر ترقی حاصل کر لی ہے کہ اس کے کارناموں پر حیرت ہوتی ہے۔ انسان نے آج تک کتنی منازل طے کی ہیں وہ سائنس ہی کی مرہون منت ہیں اور ابھی ارتقاء اور ترقی کا یہ سلسلہ برابر جاری و ساری ہے۔ آج انسان عقل اور فکر کی کرشمہ سازیوں نے اس کی معاشرت اور طرز زندگی میں ایک ایسا حیرت انگیز انقلاب پیدا کیا ہے کہ اگر انیسویں صدی کا انسان اتفاق سے موجودہ دنیا میں آجائے، تو لوگوں نے حاضر کی معجزہ ایجادات کو دیکھ کر یقینا اپنے حواس کھو بیٹھے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج سائنسی ایجادات کی بدولت ہم ایک ایسی تجربہ سماتی دنیا میں پہنچ گئے ہیں۔ جس کا تصور بھی ہمارے پر پشیرو نہیں کر سکتے تھے۔ ہر لحظ تغیر پذیر ہے۔ ماضی کی ناممکن باتیں آج ممکن ہوگئی ہیں۔ جن چیزوں کا ذکر ہم قدیم قصے کہانیوں میں سنتے تھے اور ان کی صداقت پر یقین