نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

Nimaz e Janaza in Urdu. How to pray a nimaz e janaza. Explained in urdu

 Nimaz e Janaza in Urdu. How to pray a nimaz e janaza. Explained in urdu. السلام علیکم دوستوں امید کرتا ہوں کہ آپ سب خیریت سے ہوں گے۔ آج ہم نماز جنازہ کو پڑھنے کا طریقہ اور اس کے فوائد جاننے کی کوشش کریں گے۔ تو اس لیے اس مضمون کو پورا پڑھیں اور دھیان سے پڑھے ہیں۔ سب سے پہلے نماز جنازہ اور عام نماز میں فرق کیا ہے۔ ہم جو عام نماز مسجدوں میں پڑھتے ہیں وہ ہم اللہ تعالی کے لیے پڑھتے ہیں جن میں ہم سجدے رکوع اور کرت کی مقدار یعنی التحیات میں بیٹھتے ہیں۔ لیکن نماز جنازہ ہم میت کی بخشش و مغفرت کے لئے پڑھتے ہیں۔ نماز جنازہ میں ہم نہ رکوع کرتے ہیں نہ سجدہ کرتے ہیں اور نہ ہی اتحیات میں بیٹھتے ہیں۔ کیوں کے وہ نماز میت کے لیے ہوتی ہے اور اللہ تعالی نے فرمایا کسی اور کو سجدہ کرنا شرک ہے اور شرک سب سے بڑا گناہ ہے۔ تو سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ کیا نماز جنازہ فرض ہے؟ تو جواب ہے کہ نماز جنازہ پوری طرح سے ہم پر فرض نہیں ہے۔ لیکن کسی حد تک اسے ہم واجب کہہ سکتے ہیں۔ یہ نماز فرض ہے کہافیہ ہے۔ اگر اسے پڑھ لیں تو بہت زیادہ ثواب ملے گا اور اگر نہ پڑھے تو گناہ نہیں ملے گا۔ لیکن مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں چاہیے ک

علم کے فائدے۔

 علم کے فائدے، علم سیکھنے کے فائدے، پڑھنے لکھنے کے فائدے، ترقی کرنا، کامیابی حاصل کرنا۔

Book on the table.


علم کے معنی ہیں جاننا، آگاہی اور واقفیت۔ یہ ایک ایسی خوبصورت چیز ہے جس کی وجہ سے انسان اشرف المخلوقات کہلاتا ہے۔ علم ہی سے شرف انسانیت ہے۔
علم کی بدولت انسان کو فرشتوں پر برتری اور فضیلت حاصل ہوئی علم ہی کی بدولت انسان کو خلافت پر فائز کیا گیا۔

اللہ تعالی نے انسان کو دل اور دماغ کی بہترین صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے انسان نثر کا ارتقا کی منزلیں طے کرتا رہتا ہے۔
چنانچہ دنیا میں انسان نے جس قدر ترقی حاصل کی ہے وہ علم ہی کی مرہون منت ہے۔
علم سے محبت اور پیار تقاضا انسانیت ہے۔ خداوند تعالیٰ نے انسان کو ایک کمزور اور بے بس ہستی بنایا کو نہ اس میں پہاڑوں کی سی عظمت، نان دریاؤں اور سمندروں کا سا شکوہ و جلال، نا آندھی کی سی تیزی نہ طوفان کی سی حیمت اور نہ ہاتھی اور گینڈے جیسی طاقت۔
اللہ تعالی نے ان خوبیوں کے بدلے اسے علم کی دولت عطا فرمائی اور  حواسِ خمسہ سے نوازا۔
قدرت کی دی ہوئی قوتوں سے اس نے مختلف علوم سیکھیں اور ان علوم کی بدولت آج یہ کمزور اور ناتواں مشت خاک تمام عالم کو تابع فرماں کیے ہوئے ہے۔
اس کی برکت سے انسان پہاڑوں کو چوٹیوں اور سمندر کی موجوں پر حاوی ہے۔ اس نے خوفناک اور خون آشام درندوں پر قابو پالیا ہے اور ان سے اپنی مرضی کے مطابق کام لے رہا ہے۔
علم معرفتِ الہی کا ذریعہ ہے علم ہی کی بدولت انسان اللہ تعالی کی محبت یا پہچان حاصل کرتا ہے۔ ایک جاھل شخص اللہ تعالی کی معرفت حاصل نہیں کر سکتا۔ اسے جب تک معرفت الہی حاصل نہ ہوا انسان کبھی حقیقی فلاح و کامرانی حاصل نہیں کر سکتا۔
علم کے ذریعے انسان یہ معلوم کرتا ہے کہ اس کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہے؟ اللہ تعالی نے اس کائنات کو میں مقصد نہیں بنایا بلکہ تخلیق کائنات کا ایک خاص مقصد ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ بنا کر منصب خلافت پر فائز کیا ہے۔
اس میں خدا کی پرستش کے ساتھ ساتھ یہ بھی شامل ہے کہ ہم زندگی خدا کے بتائے ہوئے طریقے اور قانون کے مطابق گزاریں۔
اسی صورت میں اصل مقصد حیات حاصل ہو سکتا ہے اور اور اس کے لئے علم کا ہونا لازمی ہے۔ 
علم ایک ایسا نور اور روشنی ہے جس سے جماعت کے اندھیرے دور ہوجاتے ہیں اور انسان کے دل و دماغ عرفان و آگہی سے منور ہوتے ہیں۔
عرب کے کسی دانا کا قول ہے۔ بے شک علماء زمانے کی چراغ ہیں۔ ہر عالم اپنے وقت کا چراغ ہے۔
علم کی بدولت دل اور دماغ کی خوابیدہ صلاحیتیں بیدار ہوتی ہے اور علم کی وجہ سے انسان کے رہن سہن اور طرز زندگی میں تہذیب و شائستگی پیدا ہوتی ہے۔
اس میں تعصب اور تنگ نظری کی بجائے فراخ دلی اور رواداری کی بجائے عجز و انکسار حرص اور لالچ کے بجائے صبروقناعت اور حسد اور نفرت کی بجائے محبت اور اخوت جیسے ادصاف پیدا ہوتے ہیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا علم سے انسان کی وحشت اور دیوانگی دور ہوجاتی ہے۔
علم ایک لازوال دولت ہے اس دولت کے لئے فنا نہیں ہے۔ دنیا کا مال و دولت ترتیب پھرتی چھاؤں ہے۔ لیکن علم کی دولت لازوال اور غیر فانی ہے۔ دنیا کی دولت خرچ کرنے سے کرتی ہے لیکن علم کی دولت خرچ کرنے سے بڑھتی ہے۔
کسی دانشور کا قول ہے کہ علم ایک ایسی لازوال دولت ہے جسے نہ کوئی چرا سکتا ہے اور نہ چھین سکتا ہے۔
دنیا کی دولت سے انسان روحانی اطمینان و سکون حاصل نہیں کر سکتا ہے۔ لیکن علم انسان کو روحانی سکون سے مالا مال کر دیتا ہے۔ 
اسی طرح علم کو مال اور دولت دونوں پر فوقیت حاصل ہے۔ حضرت علی رضی اللہ انہوں نے علم کے بارے میں فرمایا ہم اللہ تعالی کی اس تقسیم سے بہت خوش ہے کہ اس نے ہمیں علم عطا کیا اور جاہلوں کو دولت دی۔ کیونکہ دولت و آخر ختم ہو جائے گی اور علم اور زوال نہیں۔
علم کی بدولت انسان کو صحیح قدر اور منزلت کی پہچان ہوتی ہے۔ 
صاحب علم کسی بستی یا محلے میں ہوں لوگ اس کی عزت و توقیر کرتے ہیں، اس کے مقابلے میں ایک جاھل شخص کی کوئی قدر و منزلت نہیں ہوتی۔
تو چلانا ایک دفعہ ہارون الرشید نے دیکھا کہاس کے بیٹے مامون اور امین اس بات پر جھگڑا کر رہے تھے کہ کون استاد کے جوتے اٹھائے؟ آخر استاد کے کہنے پر وہ ایک ایک دو دفعہ اٹھا لائے اگلے دن ہارون الرشید نے دربار میں سوال کیا کہ آج سب سے معزز کون ہے سب نے کہا خلیفہ ہیں سب سے معزز شخص ہے۔ لیکن ہارون الرشید نے کہا کہ سب سے عظمت والا  شخص میرے بیٹوں کے استاد ہیں جن کا جوتا اٹھانے میں بھی میرے دونوں بیٹے فخر محسوس کرتے ہیں۔
علم انسان کو دنیا میں عزت اور سرفرازی بخشتا ہے۔ علم ہی کی بدولت انسان دنیاوی چاہ وجلال حاصل کرتا ہے۔ اکثر صورتوں میں معمولی آدمی کمال علم سے بڑے ہونے پر پہنچ جاتا ہے اور شہرت عام اور بقائے دوام حاصل کر لیتا ہے۔
اگر تلوار بھی بڑی قوت و طاقت رکھتی ہے۔ تلوار کے ذریعے حکمرانوں فاتح ملکوں  اور اسی کے ذریعے انتظام سلطنت چلاتے ہیں۔
لیکن تلوار کی طاقت اور قوت علم سے نہیں بڑھ سکتی۔ قلم دلوں اور روحوں کو مسخر کرتا ہے یہ لوگوں کے دل اور دماغ میں انقلاب لاتا ہے  اور اس طرح ان کی کایا پلٹ دیتا ہے۔ تلوار کی فتوحات عارضی ہوتی ہیں لیکن قلم کی فتوحات لازوال ہیں۔

امید ہے آپ کو یہ مضمون علم کے اوپر بہت زیادہ پسند آیا 
ہوگا۔ مزید ایسے ان کے لئے ہماری سائٹ وزٹ کرتے رہا کریں۔

آپ کا بہت بہت شکریہ آپ نے ہمارے سائٹ وزٹ کی۔

ہجرت مدینہ کا پورا واقعہ تفصیل کے ساتھ جاننے کے لئے نیچے دیئے گئے کلِک لنک پر کلک کریں۔

ہجرت مدینہ کا پورا واقعہ تفصیل سے جانیں۔



امید ہے آپ کو ہجرت مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پورا واقعہ بہت پسند آئے گا اور آپ کے علم میں بہت اضافہ ہو جائے گا۔

شکریہ

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اتحاد و اتفاق کی برکت۔

 اتحاد - اتحاد و اتفاق کی برکت۔ اتحاد کے معانی ہے اتفاق ، ایکا، میل، دوستی اور محبت۔ مشہور کہاوت ہے کہ اتفاق میں طاقت ہے۔ اتحاد ہی قوت اور طاقت کا ذریعہ ہے۔ نااتفاقی انتشار، کمزوری اور زوال ہے۔ قوموں کی تعمیر اور ترقی خوشحالی اور استحکام کا دارومدار اتحاد پر ہے۔ قوم مستحد ہو تو اسے کوئی ہے دشمن مغلوب نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر قومی یکجہتی نہ ہو تو دشمن آسانی کے ساتھ اسے زیر کر لیتا ہے۔ احادیث میں بھی مسلمانوں کے اتحاد پر بہت زور دیاگیاہے۔ چنانچہ ارشاد ہے۔ مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی ہے اگر جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہو تو اس کا سارا بدن پر پڑتا ہے۔ ایک اور موقع پر آپ صل وسلم نے فرمایا اللہ تعالی کا ہاتھ جماعت پر ہے۔ کتاب کی شیرازہ بندی اتفاق و اتحاد کی مرہون منت ہے۔ اگر یہ شیرازہ بندی نہ ہو تو منتشر اوراق پر کتاب کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ جب منتشر اوراق کو باہم جوڑ کر ان کی شیرازہ بندی کر دی گئی تو کتاب وجود میں آئی۔ اس شیراز کو توڑ دیجیے تو اوراق منتشر ہو جائیں گے اور کتاب کا وجود ختم ہو جائے گا۔ دریا، سمندر، نہر اور چشمہ کیا ہیں؟ یہ پانی کے قطروں کا اتحاد ہی تو ہے۔ اگر قطروں میں ی

طہارت اور پاکیزگی پر مضمون۔

 طھارت اور پاکیزگی۔

گداگری پر مکمل مضمون۔

 گداگری - گداگری پر مکمل مضمون۔
COPYRIGHT © BY MHASSAAN.XYZ