نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

Nimaz e Janaza in Urdu. How to pray a nimaz e janaza. Explained in urdu

 Nimaz e Janaza in Urdu. How to pray a nimaz e janaza. Explained in urdu. السلام علیکم دوستوں امید کرتا ہوں کہ آپ سب خیریت سے ہوں گے۔ آج ہم نماز جنازہ کو پڑھنے کا طریقہ اور اس کے فوائد جاننے کی کوشش کریں گے۔ تو اس لیے اس مضمون کو پورا پڑھیں اور دھیان سے پڑھے ہیں۔ سب سے پہلے نماز جنازہ اور عام نماز میں فرق کیا ہے۔ ہم جو عام نماز مسجدوں میں پڑھتے ہیں وہ ہم اللہ تعالی کے لیے پڑھتے ہیں جن میں ہم سجدے رکوع اور کرت کی مقدار یعنی التحیات میں بیٹھتے ہیں۔ لیکن نماز جنازہ ہم میت کی بخشش و مغفرت کے لئے پڑھتے ہیں۔ نماز جنازہ میں ہم نہ رکوع کرتے ہیں نہ سجدہ کرتے ہیں اور نہ ہی اتحیات میں بیٹھتے ہیں۔ کیوں کے وہ نماز میت کے لیے ہوتی ہے اور اللہ تعالی نے فرمایا کسی اور کو سجدہ کرنا شرک ہے اور شرک سب سے بڑا گناہ ہے۔ تو سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ کیا نماز جنازہ فرض ہے؟ تو جواب ہے کہ نماز جنازہ پوری طرح سے ہم پر فرض نہیں ہے۔ لیکن کسی حد تک اسے ہم واجب کہہ سکتے ہیں۔ یہ نماز فرض ہے کہافیہ ہے۔ اگر اسے پڑھ لیں تو بہت زیادہ ثواب ملے گا اور اگر نہ پڑھے تو گناہ نہیں ملے گا۔ لیکن مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں چاہیے ک

زم زم کی کہانی۔

 زم زم - زم زم کی کہانی۔

Fresh water in sea.


مکہ معظمہ کی مسجد الحرام میں کعبہ شریف سے پندرہ میٹر کے فاصلے پر جنوب مشرق میں حجر اسود کی سیدھ میں ایک کنواں ہے۔
جس کے پانی کو آب زم زم کہتے ہیں۔ یہ کنواں کعبہ شریف سے بھی قدیم ہے۔ اور اس کی گہرائی کے بارے میں کیا تھا کہ وہ ایک سو چالیس فٹ ہے۔ لیکن حالیہ پیمائش پر یہ 207 فٹ گہرا پایا گیا۔
ممکن ہے پانی کی مسلسل نکاسی کی وجہ سے یہ نیچا ہو گیا ہوں مسلمانوں کے نزدیک اس کا پانی متبرک ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھڑے ہو کر پیا اور ایک خصوصی دعا فرمائیں۔
اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ایک ایسے علم کا جو فائدہ دینے والا اور ایسے رزق کا جو مجھے دل سے عطا کیا جائے اور مجھے بیماریوں سےشفاء مرحمت فرما۔
آج سے ہزاروں سال پہلے کی بات ہے کہ آج کل جہاں مکہ مکرمہ کا متبرک شہر آباد ہے۔ وہاں ریت اور سٹری ہوئی پہاڑیوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ دور دور تک کسی جاندار کا گمان تک نہ تھا۔
اسی زمانے میں اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ اپنی بیوی حضرت ہاجرہ علیہ السلام کو ان کے نومولود حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ہمرا مکے کی بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ آئیں۔
جب یہ کافہ منزل مقصود پر پہنچا تو اس صابر و شاکر خاتون نے صرف ایک بات اپنے مجازی خدا سے پوچھی۔
کیا ہمارا یہاں آنا اور رہنا اللہ کے حکم کی تکمیل میں ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس بات میں جواب دیا تو وہ مطمئن ہوگئی کہ اب ان کے لئے پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔
کیوں کہ جو ان کو وہاں لایا ہے وہیں ان کی خبر گیری کرے گا۔
ماں اپنے ننھے شیر خوار کو لیے ایک پہاڑ کی اوٹ میں بیٹھ گئی۔ سورج بلند ہوتا گیا دھوپ کی تیزی سے بڑھتی گئی زمین تپی، ہوا جلی گرم لو کے بھبھوکے آنے لگے۔
پانی کی چھاگل خشک ہونے لگیں اور ذرہ دیر میں سوکھ گئی۔
Desert of sand

 
ماں نے دیکھا کہ بچے کے ہونٹ سوکھنے پر زبان خشک ہوگئی ہے۔ ماں گھبرایٔ ننھا سسکنے لگا ماں کے ہوش اڑ گئے۔ 
اپنی پیاس بھول گئی بچے کی حالت دیکھ کر م ادھر ادھر دیکھا ریت کے زروں کے سوا کچھ نظر نہ آیا۔ اوپر دیکھا آسمان کو دور پایا نیچے دیکھا زمین کو تنور پایا۔
ان حالات میں حضرت ہاجرہ بےساختہ پکاریں۔اے خدا پانی پانی! ایک گھونٹ ایک قطرہ میرے لئے نہیں میرے بچے شیرخوار اسماعیل علیہ السلام کے لئے لیے۔ اے ابراہیم کے خدا! اس جنگل میں اس بیاباں میں، اس ریگستان میں، آگ کو گلستان بنانے والے! اس آگ کے دریا میں پانی کا چشمہ بہا میرے ننھے کو پانی کا ایک قطرہ عطا فرما۔ اللہ میاں مجھے اپنی جان کی پرواہ نہیں اس ننھہی جان پر کرم فرما۔
بچہ پیاس سے بے ہوش ہو چکا تھا۔ کبھی کبھی ٹانگ ہلا لیتا ما ں نے اپنے منہ سے لعاب نکال کر اس کے منہ میں ڈالا مگر دن کی تمازت ختم ہو تو زندگی کی امید پیدا ہو ذرا دیر کو بچے کے سانس کی حالت ٹھیک ہوتی۔ پھر وہی خشکی بچے کی رگیں تک خشک کر دیتی۔
آخر بچے کی حالت نہایت نازک ہوگئی۔ حضرت ہاجرہ پریشانی کے عالم میں کبھی صفا کی پہاڑی پر جا کر دیکھتی کبھی مروا سے کہ شاید کہیں پانی آنے والا کوئی شخص نظر آ جائے۔ 
جس سے وہ مدد لے سکیں۔ وہ اسی طرح پہاڑوں پر دوڑتی رہی تھی کہ چھ پھیرے مکمل ہوگئے۔ ساتویں مرتبہ خدا سے دعائیں کرتی ہوئی دوڑیں تو انہوں نے ایک آواز سنی۔
انہوں نے فورا اسے مخاطب جب کرکے نیکی کے نام پر مدد کی درخواست کی۔ 
حضرت جبرائیل علیہ السلام ظاہر ہوئے اور انہوں نے اپنی ایڑی زمین پر ماری تو زمین سے پانی ابلنے لگا۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ کہ جب ساتویں مرتبہ اللہ سے دعائیں کرتی ہوئی حضرت ہاجرہ دوڑی اور واپس آئے تو دیکھا کہ بچے نے بے تابی سے  جہاں ایڑیاں ماری اور لگ رہی تھی وہاں سے پانی کا چشمہ پھوٹ رہا ہے۔ حضرت ہاجرہ نے گھبراہٹ میں پتھر جمع کر کے اس کے ارد گرد ایک ہالہ سا بنا لیا۔
Foot of child.


تاکہ پانی ضائع نہ ہو اور کچھ دنوں کے لیے ذخیرہ ہوجائے۔
اور فرمایا زم زم یعنی اے پانی ٹھہر جا، ٹھہر جا۔ اسی سے چشمے کا نام بھی زم زم ہوا اور اس کا پانی آب زم زم کہلایا اور مقدس پانی گردانا گیا۔
حضرت ہاجرہ علیہ السلام نے اسی چشمے کے پاس اپنی رہائش اختیار کر لی تھی۔ چند دن ہی گزرےتھےکہ صحرا نشین بدوؤں کا ایک قافلہ قریب سے گزرا۔ 
انہوں نے اڑتے اور چہچہا تے پرندے دیکھے تو قیاس کیا کے یہاں اس مقام پر کہیں پانی ہے۔ پانی کی تلاش و جستجو انہیں حضرت ہاجرہ کے پاس لے آئی۔ حضرت ہاجرہ کے پاس پہنچ کر انہوں نے پانی پینے کی اجازت طلب کی آپ کی اجازت سے لوگوں نے خود بھی پانی پیا اور اپنے اونٹوں کو بھی پانی پلایا۔
پانی کی فراوانی دیکھ کر وہ بندوں حضرت ہاجرہ علیہ السلام کی اجازت سے اپنے خیمے نصب کر کے وہیں مقیم ہوگئے۔ اس کے بعد یہ معجرہ ہوا کہ لوگ آتے گئے اور یوں شہر آباد ہو گیا۔ پہلے پہل خیموں کا شہر تھا، پھر لوگوں نے پتھروں اور مٹی سے مکانات کی تعمیر شروع کر دی اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک عظیم شہر وجود میں آگیا۔ جو آج مکہ مکرمہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فلم جب تک مکہ میں رہے آب زم زم بڑے احترام کے ساتھ پیتے رہے اور جب ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لے گئے، تو صلح حدیبیہ کے موقع پر منگوا کر پیا اور واپسی میں ساتھ لے کر آئے۔ ان کے بعد حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہا ‏ بھی  سفر حج کے بعد واپسی پر ہمراہ لایا کرتے تھے اور یہ پیاری رسم اسی ذوق و شوق سے آج بھی جاری ہے۔
حج کے دنوں میں اور ان کے بعد حجاج اور زائرین کو پانی پلانا ہر دور میں عزت کا باعث سمجھا جاتا ہے۔ قریش نے پانی پلانے کی خدمت کے لئے السقایا شعبہ قائم کیا تھا۔  جس کی یادگار لفظ کہ اردو میں بی پانی لانے اور پلانے والوں کے لیے موجود ہے۔ قیام مکہ کے دوران حجاج اپنے لئے کفن کا کپڑا خرید کر اسے متبرک پانی میں بھگو کر خشک کرکے اپنے وطن واپس لے جاتے ہیں۔

امید ہے آپ کو یہ مضمون آب زم زم کے اوپر بہت پسند آیا ہوگا۔ تاریخ کی ایسی دلچسپ معلومات حاصل کرنے کے لئے ہماری ویب سائٹ وزٹ کرتے رہا کریں آپ کا بہت بہت شکریہ آپ نے ہماری ویب سائیٹ وزٹ کی۔
بے شک آب زمزم بہت ہیں یہی مقدس پانی ہے۔
اسے کھڑا ہو کر تین سانسوں میں پینا چاہیے اور اسے پیتے وقت جو بھی دعا مانگی جائے وہ قبول ہوتی ہے۔

ہجرت نبوی کا پورا واقعہ تفصیل کے ساتھ جاننے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کریں

ٹیگز

زم زم 
 زم زم کی کہانی
 آب زم زم کی کہانی
آب زم زم کی پوری کہانی
 آب زم زم کی پوری کہانی پوری تفصیل کے ساتھ۔

آپ کا بہت بہت شکریہ بھائی تھریڈ پسند کرنے کے لیے اگر آپ کے ذہن میں کوئی بھی سوال یا معلومات حاصل کرنی ہے تو ہمارا کنٹیکٹ اس پیج دیکھیں گے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اتحاد و اتفاق کی برکت۔

 اتحاد - اتحاد و اتفاق کی برکت۔ اتحاد کے معانی ہے اتفاق ، ایکا، میل، دوستی اور محبت۔ مشہور کہاوت ہے کہ اتفاق میں طاقت ہے۔ اتحاد ہی قوت اور طاقت کا ذریعہ ہے۔ نااتفاقی انتشار، کمزوری اور زوال ہے۔ قوموں کی تعمیر اور ترقی خوشحالی اور استحکام کا دارومدار اتحاد پر ہے۔ قوم مستحد ہو تو اسے کوئی ہے دشمن مغلوب نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر قومی یکجہتی نہ ہو تو دشمن آسانی کے ساتھ اسے زیر کر لیتا ہے۔ احادیث میں بھی مسلمانوں کے اتحاد پر بہت زور دیاگیاہے۔ چنانچہ ارشاد ہے۔ مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی ہے اگر جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہو تو اس کا سارا بدن پر پڑتا ہے۔ ایک اور موقع پر آپ صل وسلم نے فرمایا اللہ تعالی کا ہاتھ جماعت پر ہے۔ کتاب کی شیرازہ بندی اتفاق و اتحاد کی مرہون منت ہے۔ اگر یہ شیرازہ بندی نہ ہو تو منتشر اوراق پر کتاب کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ جب منتشر اوراق کو باہم جوڑ کر ان کی شیرازہ بندی کر دی گئی تو کتاب وجود میں آئی۔ اس شیراز کو توڑ دیجیے تو اوراق منتشر ہو جائیں گے اور کتاب کا وجود ختم ہو جائے گا۔ دریا، سمندر، نہر اور چشمہ کیا ہیں؟ یہ پانی کے قطروں کا اتحاد ہی تو ہے۔ اگر قطروں میں ی

طہارت اور پاکیزگی پر مضمون۔

 طھارت اور پاکیزگی۔

گداگری پر مکمل مضمون۔

 گداگری - گداگری پر مکمل مضمون۔
COPYRIGHT © BY MHASSAAN.XYZ