نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

Nimaz e Janaza in Urdu. How to pray a nimaz e janaza. Explained in urdu

 Nimaz e Janaza in Urdu. How to pray a nimaz e janaza. Explained in urdu. السلام علیکم دوستوں امید کرتا ہوں کہ آپ سب خیریت سے ہوں گے۔ آج ہم نماز جنازہ کو پڑھنے کا طریقہ اور اس کے فوائد جاننے کی کوشش کریں گے۔ تو اس لیے اس مضمون کو پورا پڑھیں اور دھیان سے پڑھے ہیں۔ سب سے پہلے نماز جنازہ اور عام نماز میں فرق کیا ہے۔ ہم جو عام نماز مسجدوں میں پڑھتے ہیں وہ ہم اللہ تعالی کے لیے پڑھتے ہیں جن میں ہم سجدے رکوع اور کرت کی مقدار یعنی التحیات میں بیٹھتے ہیں۔ لیکن نماز جنازہ ہم میت کی بخشش و مغفرت کے لئے پڑھتے ہیں۔ نماز جنازہ میں ہم نہ رکوع کرتے ہیں نہ سجدہ کرتے ہیں اور نہ ہی اتحیات میں بیٹھتے ہیں۔ کیوں کے وہ نماز میت کے لیے ہوتی ہے اور اللہ تعالی نے فرمایا کسی اور کو سجدہ کرنا شرک ہے اور شرک سب سے بڑا گناہ ہے۔ تو سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ کیا نماز جنازہ فرض ہے؟ تو جواب ہے کہ نماز جنازہ پوری طرح سے ہم پر فرض نہیں ہے۔ لیکن کسی حد تک اسے ہم واجب کہہ سکتے ہیں۔ یہ نماز فرض ہے کہافیہ ہے۔ اگر اسے پڑھ لیں تو بہت زیادہ ثواب ملے گا اور اگر نہ پڑھے تو گناہ نہیں ملے گا۔ لیکن مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں چاہیے ک

ہجرت نبویّ کا پورا واقعہ تفصیل کے ساتھ۔

ہجرت نبویّ کا پورا واقعہ تفصیل کے ساتھ۔

Passengers in the desert.


نبوت کا 13 سال شروع ہوا اور اکثر صحابہ رضی اللہ تعالی عنہ مدینہ پہنچ چکے تھے تو وحی الہی کے مطابق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مدینہ کا عزم فرمایا قریش نے دیکھا کہ میں مسلمان مدینے میں جا کر طاقت پر جاتے ہیں اور وہاں اسلامی ضابطہ حیات ہے چنانچہ لوگوں نے مختلف رائے پیش کی ایک نے کہا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پاؤں میں زنجیر ڈال کر بند کر دیا جائے دوسرے نے کہا جلاوطن کر دیا جائے ابوجہل نے کہا ہے قبیلے سے ایک شخص انتخاب ہوں اور پورا مجمع ایک ساتھ مل کر تلواروں سے ان کا خاتمہ کر دیں اس صورت میں ان کا خون تمام قبائل میں بٹ جائے گا اور مسلمان اکیلے تمام قبائل کا مقابلہ نہ کر سکیں گے اس عقیل رائے پر اتفاق ہوگیا اور جھٹ پٹی سے آکر رسول صلی اللہ وسلم کے آستانہ مبارک کا معاشرہ کرلیا اہل عرب زنانہ مکان کے اندر گھسنا معیوب سمجھتے تھے اس لئے باہر ٹھہرے رہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو یہ فرض ادا کیا جائے۔

رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قریش کو اس درجہ عداوت تھی تاہم آپ کی دیانت پر یہ اعتماد تھا کہ جس شخص کو کچھ مال یا اسباب امانت رکھنا ہوتا تھا آپ ہی کے پاس لاکھ رکھتا تھا اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بہت سی امانتے رہنما تھی آپ کو قریش کے ارادے کی پہلے سے خبر ہو چکی تھی۔

اس بنا پر جناب امیر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو بلا کر فرمایا مجھ کو ہجرت کا حکم ہو چکا ہے میں آج مدینہ روانہ ہو جاؤں گا تم میرے پلنگ پر میری چادر اوڑھ کر سو رہے ہو صبح کو سب کی امانت جاکر واپس دے آنا۔ 

یہ خطرے کا موقع تھا۔ جناب امیر رضی اللہ تعالی عنہ کو معلوم ہو چکا تھا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا ارادہ کر چکے ہیں اور آج رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا بستر خواب قتل گاہ کی زمین ہے، لیکن فاتح خیبر کے لیے قتل گاہ فرش گل تھا۔

کفار نے جب آپ صل وسلم کے گھر کا محاصرہ کیا اور رات زیادہ گزر گئی تو قدرت نے ان کو خبر کر دیا صلی اللہ علیہ وسلم ان کو سوتا چھوڑ کر باہر آئے کو دیکھا اور فرمایا کہ تو مجھ کو دنیا سے زیادہ عزیز ہے لیکن تیرے فرزند مجھ کو رہنے نہیں دیتے۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے پہلے قرارداد ہوچکی تھی دونوں صاحب پہلے جبل ثور کے غار میں کشیدہ ہوگئے یہ غار آج بھی موجود ہے اور بوسہ گاہ خلائق ہے۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے بیٹے عبداللہ جو نوخیز جوان تھے شب کو غار میں ساتھ ہوتے صبح منہ اندھیرے شہر چلے جاتے اور پتہ لگاتے کے قریش کیا مشورے کر رہے ہیں۔ 

جو کچھ خبر ملتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرتے۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا غلام کچھ رات گئے بکریاں چرا کر لاتا۔

آپ صلی اللہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ ان کا دودھ پی لیتے۔

کچھ دن یہی غذا رھی۔

لیکن ابن ہشام نے لکھا ہے کہ روزانہ شام کو اسماء رضی اللہ تعالی عنہ سے کھانا پکا کر گھر میں پہنچا آتی تھیں۔

اسی طرح تین راتیں غارمیں گزاریں۔

صبح کریش کی آنکھیں کھولیں تو فلنگ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے جناب امیر رضی اللہ تعالی عنہ تھے۔

ظالموں نے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو پکڑا اور حرم میں لے جا کر تھوڑی دیر محفبوس رکھا اور چھوڑ دیا۔

پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تلاش میں نکلے تھے ڈھونڈتے گھر کے دہانے تک آگئے۔

آہٹ پاکر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ غمزدہ ہوئے۔

آپ صل وسلم سے عرض کیا کہ اب دشمن اس قدر قریب آگئے ہیں کہ اگر آپ نے قدم پر ان کی نظر پڑ جائے تو ہم کو دیکھ لیں۔

آپ صل وسلم نے فرمایا گھبراؤ نہیں بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔

قریش نے آپ صل وسلم اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو گرفتار کرنے کا انعام اونٹ مقرر کیا۔

سراقہ بن جعشم نے سنا تو انعام کی امید میں نکلا عین اس حالت میں کہ آپ صلی اللہ وسلم روانہ ہورہے تھے۔

اس نے عبدالاسلم کو دیکھ لیا اور گھوڑا دوڑا کر قریب آگیا لیکن گھوڑے نے ٹھوکر کھائی وہ گر پڑا۔

ترکش سے فال کے تیر نکالے کے حملہ کرنا چاہیے یا نہیں جواب میں نہیں نکلا۔

لیکن سو اونٹوں کی لالچ میں وہ دوبارہ روانہ ہوا ہوا لیکن اب کی مرتبہ اس کے گھوڑے کے پاؤں گھٹنوں تک زمین میں دھنس گئے۔

اس نے پھر فال نکالی اب بھی وہی جواب تھا۔ چنانچہ اس نے توبہ کی اور ان کی تحریر لکھوائی۔

وہاں مدینے میں آپ صلی اللہ وسلم کی تشریف آوری کی خبر پہلے ھی پہنچ چکی تھی۔

سب لوگ شہر کے باہر صبح کو کھڑے ہوجاتے اور دوپہر تک انتظار کر کے حسرت سے واپس چلے جاتے۔

ایک دن سب لوگ واپس جارہے تھے کہ ایک یہودی نے قلعے سے دیکھا اور قرائن سے پہچان کر پکارا۔

اہل عرب لو تم جس کا اظہار کرتے تھے وہ آ گیا۔

تمام شہر تکبیر کی آواز سے گونج اٹھا۔

زم زم کی کہانی پوری تفصیل کے ساتھ۔

یہاں کلک کریں


یہ سبق ہجرت نبوی مولانا شبلی نعمانی کا لکھا ہوا ہے۔ اس میں انہوں نے ہجرت کے تمام واقعات کو بیان کیا ہے ہے اور ہجرت کے تمام واقعات کی تفصیل لکھی ہے۔


امید ہے آپ کو یہ واقعی بہت ہی اچھا لگا ہوگا۔ مزید معلومات کے لئے ہماری ویب سائٹ پر آتے رہے۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اتحاد و اتفاق کی برکت۔

 اتحاد - اتحاد و اتفاق کی برکت۔ اتحاد کے معانی ہے اتفاق ، ایکا، میل، دوستی اور محبت۔ مشہور کہاوت ہے کہ اتفاق میں طاقت ہے۔ اتحاد ہی قوت اور طاقت کا ذریعہ ہے۔ نااتفاقی انتشار، کمزوری اور زوال ہے۔ قوموں کی تعمیر اور ترقی خوشحالی اور استحکام کا دارومدار اتحاد پر ہے۔ قوم مستحد ہو تو اسے کوئی ہے دشمن مغلوب نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر قومی یکجہتی نہ ہو تو دشمن آسانی کے ساتھ اسے زیر کر لیتا ہے۔ احادیث میں بھی مسلمانوں کے اتحاد پر بہت زور دیاگیاہے۔ چنانچہ ارشاد ہے۔ مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی ہے اگر جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہو تو اس کا سارا بدن پر پڑتا ہے۔ ایک اور موقع پر آپ صل وسلم نے فرمایا اللہ تعالی کا ہاتھ جماعت پر ہے۔ کتاب کی شیرازہ بندی اتفاق و اتحاد کی مرہون منت ہے۔ اگر یہ شیرازہ بندی نہ ہو تو منتشر اوراق پر کتاب کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ جب منتشر اوراق کو باہم جوڑ کر ان کی شیرازہ بندی کر دی گئی تو کتاب وجود میں آئی۔ اس شیراز کو توڑ دیجیے تو اوراق منتشر ہو جائیں گے اور کتاب کا وجود ختم ہو جائے گا۔ دریا، سمندر، نہر اور چشمہ کیا ہیں؟ یہ پانی کے قطروں کا اتحاد ہی تو ہے۔ اگر قطروں میں ی

طہارت اور پاکیزگی پر مضمون۔

 طھارت اور پاکیزگی۔

گداگری پر مکمل مضمون۔

 گداگری - گداگری پر مکمل مضمون۔
COPYRIGHT © BY MHASSAAN.XYZ