نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

Nimaz e Janaza in Urdu. How to pray a nimaz e janaza. Explained in urdu

 Nimaz e Janaza in Urdu. How to pray a nimaz e janaza. Explained in urdu. السلام علیکم دوستوں امید کرتا ہوں کہ آپ سب خیریت سے ہوں گے۔ آج ہم نماز جنازہ کو پڑھنے کا طریقہ اور اس کے فوائد جاننے کی کوشش کریں گے۔ تو اس لیے اس مضمون کو پورا پڑھیں اور دھیان سے پڑھے ہیں۔ سب سے پہلے نماز جنازہ اور عام نماز میں فرق کیا ہے۔ ہم جو عام نماز مسجدوں میں پڑھتے ہیں وہ ہم اللہ تعالی کے لیے پڑھتے ہیں جن میں ہم سجدے رکوع اور کرت کی مقدار یعنی التحیات میں بیٹھتے ہیں۔ لیکن نماز جنازہ ہم میت کی بخشش و مغفرت کے لئے پڑھتے ہیں۔ نماز جنازہ میں ہم نہ رکوع کرتے ہیں نہ سجدہ کرتے ہیں اور نہ ہی اتحیات میں بیٹھتے ہیں۔ کیوں کے وہ نماز میت کے لیے ہوتی ہے اور اللہ تعالی نے فرمایا کسی اور کو سجدہ کرنا شرک ہے اور شرک سب سے بڑا گناہ ہے۔ تو سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ کیا نماز جنازہ فرض ہے؟ تو جواب ہے کہ نماز جنازہ پوری طرح سے ہم پر فرض نہیں ہے۔ لیکن کسی حد تک اسے ہم واجب کہہ سکتے ہیں۔ یہ نماز فرض ہے کہافیہ ہے۔ اگر اسے پڑھ لیں تو بہت زیادہ ثواب ملے گا اور اگر نہ پڑھے تو گناہ نہیں ملے گا۔ لیکن مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں چاہیے ک

انسان اور اس کا ماحول۔

 انسان اور اس کا ماحول۔

Best environment of tees and plants.


انسان صدیوں سے اس زمین پر زندگی گزار رہا ہے۔وہ اپنے اردگرد کے ماحول سے متاثر بھی ہوتا ہے اور اسے متاثر بھی کرتا ہے۔
زمین کے ساتھ انسان کا رشتہ اسی دوستانہ فضا کا عکاس ہے، جو انسانی زندگی کو نت نئے رنگوں میں ڈھالنے اور اس کے حسن اور خوبصورتی میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ زمین کے ساتھ انسان کی وابستگی بڑی پرانی ہے۔ 
وہ اپنے اردگرد کے ماحول سے بے خبر ہوکر زندگی کی خوبصورتیوں کو حاصل نہیں کرسکتا اور نہ ہی ماحول کی انسان سے وابستگی کے بغیر ماحول کا حسن و جمال برقرار رہ سکتا ہے۔
انسان اور زمین لازم و ملزوم ہیں۔ ایک کے بعد دوسرے کا تصور بھی ناممکن ہے۔
جدید دور سائنسی ایجادات کا دور ہے۔ جس قدر ایجادات پچھلی ایک آدھ صدی کے زمانے میں ہوئی ہے اتنی ایجادات پچھلی تمام صدیوں میں مل کر بھی نہیں ہوئیں۔ جس قدر سائنسی ایجادات نے انسانی زندگی پر اچھے اور مثبت اثرات مرتب کیے ہیں وہیں پر ہی سائنس کے منفی اثرات سے منہ موڑنا یا انکار بھی ممکن نہیں۔
سائنسی ترقی کی بدولت صنعت و حرفت کے میدان میں بے پناہ انقلاب پیدا ہوا ہے۔
اس انقلاب اور ترقی کی بدولت ہماری زندگی بہت سی بنیادی سہولتوں سے آشنا ہوئی۔
مثال کے طور پر ہفتوں اور مہینوں میں کیا جانے والا سفر، دنوں اور گھنٹوں میں ہونے لگا۔ کام کے معیار اور مقدار میں اضافہ ہوا۔
انسانی سہولت کی ہزار ہا اشیاء سامنے آئیں، جن کی بدولت انسانی زندگی کی بنیادی سہولتوں سے ہمکنار ہوئی۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ سائنسی ایجادات نے کتنے ہی ایسی باتوں کو جنم دیا، جو انسانی زندگی پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔
صنعتی ترقی نے ہمارے لیے نت نئے مسائل کا اضافہ کیا ہے۔
ان سب مسلوں میں سے ایک بڑا، اہم اور بنیادی مسئلہ آلودگی کا بھی ہے۔ آلودگی ہمارے ماحول کو خاموشی سے دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ 
یہ زمین پانی اور ہوا کو ضرر ساں بنا رہی ہے۔ جس کی وجہ سے نئی نئی بیماریاں انسانی زندگی کو اپنے گھیرے میں لے رہی ہیں۔
آلودگی پوری دنیا کا بہت بڑا مسئلہ ہے یہ مسلہ روزبروز خطرناک صورت اختیار کر رہا ہے، جس کی وجہ سے انسان کو سنگین خطرات کا سامنا ہے۔
زمین پانی اور ہوا اللہ تعالی کی بڑی نعمتیں ہیں، لیکن جدید صنعتی ترقی اور سائنسی انقلاب نے ان نعمتوں کو خالص نہیں رہنے دیا۔
کارخانوں اور فیکٹریوں سے نکلنے والے فاضل زہریلے مادے مٹی پانی اور ہوا کو آلودہ کر رہے ہیں۔ اس وجہ سے انسانی زندگی کو عجیب وغریب مسائل کا سامنا ہے۔
فیکٹری اور کارخانوں کا آلودہ پانی مٹی اور تیری زمین پانی کو بری طرح متاثر کر رہا ہے، اس وجہ سے آج ہیضہ،ٹائیفائیڈ، یرکان، اسہال اور کوئی کئی طرح کی دوسری بیماریاں عام ہیں۔
صنعتی علاقوں کے زہریلے مادے زمین پر بکھرتے ہیں اور پھر  مٹی کی قوت نمو کو اپنے زہریلے پن کا شکار بنا کر ہماری زرخیز زمین کو بنجر بنا دیتے ہیں۔
سونا اگلنے والی زمین سیم، تھور اور بنجر پن کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔
اس وجہ سے نہ صرف ہماری زمین کی زرخیزی میں فرق آرہا ہے بلکہ ہماری فصلوں کے معیار اور مقدار میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے۔
فیکٹریوں یو اور کارخانوں سے نکلتا ہوا دھواں ہماری فضا کو آلودہ کر رہا ہے۔  اسی طرح دھواں چھوڑتی گاڑیاں فضائی آلودگی میں اضافہ کا سبب بن رہی ہیں۔
خالص ہوا میں زہریلی ہوا کی آمیزش سے فضائی پاکیزگی اور خالص پن میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے، جو براہ راست انسانی زندگی سے وابستہ ہیں۔ یوں انسان پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور کئی قسم کی بیماریاں مثلاً کینسر، دمہ اور دل کے عوارض عام ہیں۔
شور اعصابی نظام کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ شور کی آلودگی غیر ضروری اور بے ہنگم آوازوں سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ ہمارے اعصاب، ذہن اور جسم پر انتہائی برے اثرات مرتب کرتی ہے۔
شور کی آلودگی سے انسانوں میں بردباری، متانت عورت حمل کی قوت ختم ہو جاتی ہے اور کئی طرح کے نفسیاتی عوارض جنم لیتے ہیں۔
قوت سماعت اور قوت مدافعت میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ جو نفسیاتی بیماریوں کے ساتھ ساتھ بلڈ پریشر، چڑچڑے پن اور دل کی بیماریوں کا موجب ہے۔
یہ آلودگی انسانی زندگی کے لئے مضر ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھیں تاکہ ہمارے ارد گرد تیزی سے بڑھتی ہوئی ان آلودگیوں پر قابو پایا جا سکیں۔

کاہلی کے نقصان پر مضمون۔


فیکٹریوں اور کارخانوں سے نکلنے والے زہریلے پانی اور فالتو مادوں کو ختم کرنے کا مناسب انتظام کرنا چاہیے۔ تاکہ یہ نقصان دہ مادے پھیل کر ہماری زمین کو برباد نہ کریں۔
اسی طرح زہریلے پانی کو بھی ذخائر سے نہیں ملنے دینا چاہیے تاکہ وہ اس نعمت کو خراب نہ کر سکے۔

ان آلودگیوں پر قابو پانے کے لیے ہمیں موثر تدابیر اختیار کرنی چاہیں۔ معاشرے کے تمام طبقوں میں ان کا شعور پیدا ہونا چاہیے تاکہ لوگ اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کیلئے مثبت کردار ادا کر سکیں۔


امید ہے آپ کو یہ سبق پسند آیا ہوگا۔ آپ کا شکریہ ہماری سائٹ وزٹ کرنے کے لیے۔ آپ ہماری سائیڈ پر مسلسل آتے رہا کریں امید ہے آپ کو اور بھی ضرورت مند اشیاء کا تعارف کروائیں گے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اتحاد و اتفاق کی برکت۔

 اتحاد - اتحاد و اتفاق کی برکت۔ اتحاد کے معانی ہے اتفاق ، ایکا، میل، دوستی اور محبت۔ مشہور کہاوت ہے کہ اتفاق میں طاقت ہے۔ اتحاد ہی قوت اور طاقت کا ذریعہ ہے۔ نااتفاقی انتشار، کمزوری اور زوال ہے۔ قوموں کی تعمیر اور ترقی خوشحالی اور استحکام کا دارومدار اتحاد پر ہے۔ قوم مستحد ہو تو اسے کوئی ہے دشمن مغلوب نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر قومی یکجہتی نہ ہو تو دشمن آسانی کے ساتھ اسے زیر کر لیتا ہے۔ احادیث میں بھی مسلمانوں کے اتحاد پر بہت زور دیاگیاہے۔ چنانچہ ارشاد ہے۔ مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی ہے اگر جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہو تو اس کا سارا بدن پر پڑتا ہے۔ ایک اور موقع پر آپ صل وسلم نے فرمایا اللہ تعالی کا ہاتھ جماعت پر ہے۔ کتاب کی شیرازہ بندی اتفاق و اتحاد کی مرہون منت ہے۔ اگر یہ شیرازہ بندی نہ ہو تو منتشر اوراق پر کتاب کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ جب منتشر اوراق کو باہم جوڑ کر ان کی شیرازہ بندی کر دی گئی تو کتاب وجود میں آئی۔ اس شیراز کو توڑ دیجیے تو اوراق منتشر ہو جائیں گے اور کتاب کا وجود ختم ہو جائے گا۔ دریا، سمندر، نہر اور چشمہ کیا ہیں؟ یہ پانی کے قطروں کا اتحاد ہی تو ہے۔ اگر قطروں میں ی

طہارت اور پاکیزگی پر مضمون۔

 طھارت اور پاکیزگی۔

گداگری پر مکمل مضمون۔

 گداگری - گداگری پر مکمل مضمون۔
COPYRIGHT © BY MHASSAAN.XYZ