نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

Nimaz e Janaza in Urdu. How to pray a nimaz e janaza. Explained in urdu

 Nimaz e Janaza in Urdu. How to pray a nimaz e janaza. Explained in urdu. السلام علیکم دوستوں امید کرتا ہوں کہ آپ سب خیریت سے ہوں گے۔ آج ہم نماز جنازہ کو پڑھنے کا طریقہ اور اس کے فوائد جاننے کی کوشش کریں گے۔ تو اس لیے اس مضمون کو پورا پڑھیں اور دھیان سے پڑھے ہیں۔ سب سے پہلے نماز جنازہ اور عام نماز میں فرق کیا ہے۔ ہم جو عام نماز مسجدوں میں پڑھتے ہیں وہ ہم اللہ تعالی کے لیے پڑھتے ہیں جن میں ہم سجدے رکوع اور کرت کی مقدار یعنی التحیات میں بیٹھتے ہیں۔ لیکن نماز جنازہ ہم میت کی بخشش و مغفرت کے لئے پڑھتے ہیں۔ نماز جنازہ میں ہم نہ رکوع کرتے ہیں نہ سجدہ کرتے ہیں اور نہ ہی اتحیات میں بیٹھتے ہیں۔ کیوں کے وہ نماز میت کے لیے ہوتی ہے اور اللہ تعالی نے فرمایا کسی اور کو سجدہ کرنا شرک ہے اور شرک سب سے بڑا گناہ ہے۔ تو سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ کیا نماز جنازہ فرض ہے؟ تو جواب ہے کہ نماز جنازہ پوری طرح سے ہم پر فرض نہیں ہے۔ لیکن کسی حد تک اسے ہم واجب کہہ سکتے ہیں۔ یہ نماز فرض ہے کہافیہ ہے۔ اگر اسے پڑھ لیں تو بہت زیادہ ثواب ملے گا اور اگر نہ پڑھے تو گناہ نہیں ملے گا۔ لیکن مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں چاہیے ک

وقت کی پابندی۔

 وقت کی پابندی

Watch on the table.



وقت زنجیر ہے۔ لمحے ساقی گھنٹے دن رات ہفتے مہینے اور سال اور دیا اس زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ جوہر ان میں گزر رہی ہیں۔ اگر دیکھیں تو زندگی اور وقت ایک ہی چیز ہے۔
جس چیز کو ہم زندگی یا حیات کہتے ہیں وہ ایک وقت معین کے اندر جیتے رہنے کا نام ہے۔
اگر کوئی شخص اپنی زندگی کو مرتب اور منظم بنانا چاہے،  تو اسے چاہیے کہ ہر کام کو مقررہ وقت پر سر انجام دے اور اس کی عادت ڈالے اسے وقت کی پیش بندی یا وقت کی پابندی کہا جاتا ہے۔ ورنہ سیل زمانہ تو رواں دواں ہے نہ وہ کسی کے لیے ٹھہرتا ہے اور نہ ہی کسی کا انتظار کرتا ہے۔
 حضور صلی اللہ علیہ وسلم سرور کائنات نے اے الوقت سیف قاطع کہاں ہے۔ یعنی وقت تلوار ہے جو رکتی نہیں کاٹتی چلی جاتی ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ نظام کائنات سارے کا سارا پابندی وقت کے ساتھ چل رہا ہے۔ سورج وقت پر طلوع ہوتا ہے اور وقت پر غروب ہوتا ہے۔ چاند کے طلوع و غروب کا وقت مقرر ہے۔
رات دن اور موسموں کے تغیر و تبدل میں پابندی وقت کا اصول کار فرما ہے سیاروں کی گردش بھی وقت کی پابند ہے۔ اسی طرح فصلوں پھولوں اور پھلوں کے بھی مقررہ اوقات ہیں۔
کسان وقت پر فصل کاشت کرنا اور وقت پر انہیں کاٹتا ہے۔ باغبان پودوں کو وقت پر پانی دیتا اور وقت پر پھل حاصل کرتا ہے۔
دفاتر وقت مقررہ پر کھلتے اور بند ہوتے ہیں۔ فیکٹریوں اورکارخانوں کے کھلنے کے اوقات مقررہ ہیں۔ ریلیں ٹائم ٹیبل کے مطابق چلتی ہیں تعلیمی ادارے وقت پر کھلتے ہیں اور امتحانات کا وقت مقررہ ہے۔ زندگی کا ہر شعبہ پابندی وقت سے منسلک ہے۔ اگر کسی بھی شعبہ میں وقت کی پابندی سے انحراف لیا جائے تو پورا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ پھر زندگی کی تمام رعنائی، حسینی اور دلکشی افراتفری میں بدل جائے گی۔
 وقت قدرت کا انتہائی قیمتی عطیہ ہے۔
وقت اللہ تعالی کی ایک امانت ہے وقت کی قدر نہ کرنا امانت میں خیانت کے مترادف ہے۔
دنیا میں وہی شخص کامیاب زندگی گزار سکتا ہے جو اپنے کام کاج میں وقت کا پابند ہو۔ دنیا میں کامیابی اسی کا مقدر ٹھہری جس نے وقت جیسی انمول نعمت کو بے دردی سے ضائع کرنے کی بجائے، اس کی اہمیت کو جانا، اس کی قدر کی۔

اس کی اہمیت نہ سمجھنے والے زندگی میں کامیابی حاصل نہیں کر پاتے۔ جو بڑی بے دردی سے وقت ضائع کرتے ہیں وہ بڑی بھول میں ہوتے ہیں۔
 وہ وقت کو ضائع نہیں کر رہے ہوتے بلکہ وقت انہیں ضائع کر رہا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ بعد میں بہت پچھتاتےہیں لیکن بیتا ہوا وقت منہ سے نکلی ہوئی بات اور کمان سے نکلے ہوئے تیر کی طرح واپس نہیں لایا جاسکتا۔
جس طرح دریا کا گزرا ہوا پانی اور ہوا کا گزر ہوا جھونکا واپس نہیں آئے گا آئے گا اسی طرح گزرے ہوئے وقت کا واپس لانا بھی ممکن نہیں۔ ہم محنت اور مشقت سے پیسے کما سکتے ہیں۔ عمدہ خوراک، دوا اور پرہیز سے کھوئی ہوئی صحت بحال کر سکتے ہیں۔
تعلیم نیک چلنی اور رفاہ عامہ کے کاموں سے نیک نامی حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن ہم اپنی تمام تر فہم اور فراست  اثرورسوخ اور دولت و ثروت کے باوجود گزرے ہوئے وقت کا ایک لمحہ بھی واپس نہیں لا سکتے۔
 طلبہ کے لئے بھی وقت کی پابندی نہایت ضروری ہے۔ اگر ایک طالبعلم صبح سویرے وقت مقررہ پر اٹھے، وقت پر سکول جائے، پڑھائی کاکام محنت اور باقاعدگی سے کرے،وقت پر کھیلے اور وقت پر سوئے تو اس کی صحت بھی اچھی رہے گی اور وہ تعلیم میں بھی ترقی کرے گا۔
اس کے برعکس جو طالب علم کا پابند نہیں ہوتا وہ امتحان میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل نہیں کر سکتا۔ طلبہ کسی قوم کا سب سے قیمتی سرمایا ہیں، انہیں پر قوم کی ترقی و خوشحالی کا انحصار ہے۔
مستقبل کی عظیم ذمہ داریاں انہیں نے سنبھالنی ہیں۔ اس لیے انہیں وقت کی قدر و قیمت کا پورا احساس ہونا چاہیے اور اس کا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
فوج کی زندگی پابندی وقت کا بہترین نمونہ ہے۔ ایک فوجی پابندی وقت کا پورا پورا لحاظ رکھتا ہے۔ اس کا کھانا پینا سونا جاگنا پریڈ کرنا اور دیگر امور سب وقت کی پابندی کے تابع ہوتے ہیں۔ جو فوج وقت کی پابندی کا خیال نہ رکھے اور اس کی قیمت کو نہ سمجھے وہ کبھی کوئی امور سر انجام نہیں دے سکتی۔ وہ ہمیشہ دشمن سے مغلوب ہو جاتی ہے۔
نیوٹن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ وقت کا اتنا پابند تھا کے وہ جب سیر کو نکلتا تھا تو لوگ اپنی گھڑیا ٹھیک کر لیا کرتے تھے۔
مگر یہ عظیم الشان انسان وقت کا اتنا پابند ہے کہ اس سے غلطی سرزد نہیں ہو سکتی۔
سرسید احمد خان ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جب میں لندن سے واپس آ رہا تھا اور جہاز ڈوبنے کا خطرہ تھا ہر شخص پریشان اور جان کے خطرے میں مبتلا تھا۔ مگر میں نے اپنے ساتھ کے کمرے میں اپنے ایک ہمسفر انگریز کو دیکھا کہ ہر قسم کے خطرات سے بے نیاز ہو کر مطالعہ میں مصروف تھا۔ جب میں نے اس سے پوچھا اس وقت جب کہ ہر شخص سراسیمہ اور جان بچانے کی فکر میں ہے، آپ مطمئن ہیں۔ اس انگریز نے جواب دیا کہ اگر ہمارا ڈوب جانا یقینی ہے۔ تو میں زندگی کے ان قیمتی لمحات کو کیوں ضائع کروں؟
وقت کی پابندی نہ کرنے سے تمام نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ کسان فصلوں سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ طالب علم امتحان میں ناکام ہو جاتا ہے کارخانے اور فیکٹریاں دیوالیہ ہو جاتی ہیں۔ ملازم اپنی ملازمتیں کھو بیٹھتے ہیں۔مسافر گاڑی میں سوار ہو جانے سے رہ جاتے ہیں۔ ایک دانشور کا قول ہے کہ کبھی میں نے وقت کو برباد کیا تھا افسوس اب وقت مجھے برباد کر رہا ہے۔
ایک عجیب بدنظمی پیدا ہوجاتی ہے اجتماعی طور پر قوم تنزل اور پستی میں گر جاتی ہے۔ وقت کی پابندی نہ کرنا غلام اور بیمار قوم کا شیوا ہے۔ آزاد قوم وقت کو ضائع کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔ سینکڑوں ایسے واقعات موجود ہیں جہاں قوم چند لمحوں کی قدر نہ کرنے سے صدیوں پیچھے چلی گئیں۔
وقت بہت بڑی دولت ہے یہ تو ایسا جوار پھاٹا ہے جو ایک دفعہ بھرا تو دوبارہ واپس نہیں لایا جاسکتا۔
وقت کی قدر کی جائے تو یہ انسان کا بہت بڑا دوست ہے یہ حق دوستی ادا کرتا ہے۔ 
انسان مستعدی اور فرض شناسی سے کام لے تو وقت اسے کامیابی و کامرانی سے ہمکنار کرتا ہے۔ یہ محنت کا بہترین پھل دیتا ہے۔ فتح نصرت کا پیغام دیتا ہے۔ کامیابی اس کے قدم چومتی ہے۔
 وقت انسان کا دشمن بھی ہوتا ہے اگر انسان غفلت سے کام لے۔ وقت اسے اپنے قدموں تلے روند کے چلا جاتا ہے۔
اس کے حصے میں سوائے ناکامیوں حضرت کے کچھ نہیں آتا۔ واٹرلو کی جنگ دنیا کی مشہور ترین گو میں سے ایک ہے، اس میں یورپ کے سب سے بڑے جرنل بادشاہ پنولین نے شکست کھائی تھی۔ اگر تاریخی واقعات کو غور سے دیکھیں تو یہ بات واضح کے پنولین کو یہ شکست چند لمحوں کے، ھیر پھیر سے ہوئی۔ 
اس کا ایک نہایت ہی آزمودہ کار اور معتمد جرنل وقت مقررہ سے سات منٹ دیر سے پہنچا ادھر جنگ کا نقشہ بدل چکا تھا۔
ہماری زندگی بہت مختصر ہے کام زیادہ ہیں اور وقت کم ہے اس زندگی میں بہت سے ضروری کام ہمارے ذمے میں باقی ہیں۔ اگر ہم روزمرہ کار بار میں وقت کی قدر کریں تو ہم اپنی تھوڑی سی زندگی میں زیادہ سے زیادہ کام انجام دے سکتے ہیں۔
ہمیں چاہئے کہ اس مہلت زندگی سے پورا پورا فائدہ اٹھایا اور وقت کی قدر و قیمت نہ سمجھتے ہوئے اس سے بہتر استغفادہ کریں۔

علم کے فائدے مضمون


امید ہے آپ کو یہ یہ مضمون وقت کی پابندی پسند آیا ہوگا اور آپ آگے سے وقت کی پابندی کرنا سیکھ گئے ہوں گے۔ دنیا میں صرف وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو وقت کی پابندی کو اچھی طریقے سے سیکھ جاتے ہیں۔

آپ کا شکریہ ہماری سائٹ وزٹ کرنے کے لیے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اتحاد و اتفاق کی برکت۔

 اتحاد - اتحاد و اتفاق کی برکت۔ اتحاد کے معانی ہے اتفاق ، ایکا، میل، دوستی اور محبت۔ مشہور کہاوت ہے کہ اتفاق میں طاقت ہے۔ اتحاد ہی قوت اور طاقت کا ذریعہ ہے۔ نااتفاقی انتشار، کمزوری اور زوال ہے۔ قوموں کی تعمیر اور ترقی خوشحالی اور استحکام کا دارومدار اتحاد پر ہے۔ قوم مستحد ہو تو اسے کوئی ہے دشمن مغلوب نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر قومی یکجہتی نہ ہو تو دشمن آسانی کے ساتھ اسے زیر کر لیتا ہے۔ احادیث میں بھی مسلمانوں کے اتحاد پر بہت زور دیاگیاہے۔ چنانچہ ارشاد ہے۔ مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی ہے اگر جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہو تو اس کا سارا بدن پر پڑتا ہے۔ ایک اور موقع پر آپ صل وسلم نے فرمایا اللہ تعالی کا ہاتھ جماعت پر ہے۔ کتاب کی شیرازہ بندی اتفاق و اتحاد کی مرہون منت ہے۔ اگر یہ شیرازہ بندی نہ ہو تو منتشر اوراق پر کتاب کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ جب منتشر اوراق کو باہم جوڑ کر ان کی شیرازہ بندی کر دی گئی تو کتاب وجود میں آئی۔ اس شیراز کو توڑ دیجیے تو اوراق منتشر ہو جائیں گے اور کتاب کا وجود ختم ہو جائے گا۔ دریا، سمندر، نہر اور چشمہ کیا ہیں؟ یہ پانی کے قطروں کا اتحاد ہی تو ہے۔ اگر قطروں میں ی

طہارت اور پاکیزگی پر مضمون۔

 طھارت اور پاکیزگی۔

گداگری پر مکمل مضمون۔

 گداگری - گداگری پر مکمل مضمون۔
COPYRIGHT © BY MHASSAAN.XYZ