نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اتحاد و اتفاق کی برکت۔

 اتحاد - اتحاد و اتفاق کی برکت۔

Unity of friends.


اتحاد کے معانی ہے اتفاق، ایکا، میل، دوستی اور محبت۔
مشہور کہاوت ہے کہ اتفاق میں طاقت ہے۔ اتحاد ہی قوت اور طاقت کا ذریعہ ہے۔ نااتفاقی انتشار، کمزوری اور زوال ہے۔
قوموں کی تعمیر اور ترقی خوشحالی اور استحکام کا دارومدار اتحاد پر ہے۔ قوم مستحد ہو تو اسے کوئی ہے دشمن مغلوب نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر قومی یکجہتی نہ ہو تو دشمن آسانی کے ساتھ اسے زیر کر لیتا ہے۔
احادیث میں بھی مسلمانوں کے اتحاد پر بہت زور دیاگیاہے۔
چنانچہ ارشاد ہے۔
Friend are shaking hands.


مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی ہے اگر جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہو تو اس کا سارا بدن پر پڑتا ہے۔
ایک اور موقع پر آپ صل وسلم نے فرمایا اللہ تعالی کا ہاتھ جماعت پر ہے۔
کتاب کی شیرازہ بندی اتفاق و اتحاد کی مرہون منت ہے۔ اگر یہ شیرازہ بندی نہ ہو تو منتشر اوراق پر کتاب کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ جب منتشر اوراق کو باہم جوڑ کر ان کی شیرازہ بندی کر دی گئی تو کتاب وجود میں آئی۔
اس شیراز کو توڑ دیجیے تو اوراق منتشر ہو جائیں گے اور کتاب کا وجود ختم ہو جائے گا۔
دریا، سمندر، نہر اور چشمہ کیا ہیں؟ یہ پانی کے قطروں کا اتحاد ہی تو ہے۔ اگر قطروں میں یہ اتحاد نہ ہو تو ان کا وجود نہ پیدا ہو جائے۔ لیکن جب قطرے باہر مستحد ہوتے ہیں تو دریا، ندی ندی نالے اور سمندر بن جاتے ہیں۔
قطروں کی یہی متحدہ قوت سیلاب کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ 
شہد کی مکھیاں باہم اتحاد و تنظیم سے کام لیتی ہیں تو  شہد جیسی مفید شے وجود میں آتی ہے۔ یہ مکھیاں ایک اجتماعی نظم کے تحت مختلف وادیوں گھاٹیوں اور باغوں میں پھیل جاتی ہیں اور پھولوں کا رس چوس کر شہد کا چھاتیاں کرتی ہیں اور اسی طرح شہد وجود میں آتا ہے۔
اتفاق و اتحاد کے بارے میں بہت سی کہانیاں مشہور ہیں۔ مثلا بوڑھے کسان اور اس کے بیٹوں کی کہانی شیر اور بلیوں کی کہانی۔ یہ کہانیاں ہمیں اتفاق و اتحاد کا سبق دیتی ہیں۔
کہتے ہیں کہ کسی جنگل میں چار بیل رہتے تھے۔ اس طرح ان کا آپس میں بہت اتفاق و اتحاد تھا۔ وہ کبھی ایک دوسرے سے جدا نہ تھے اور اکٹھے ہی چرتے پھرتے اور رہتے تھے۔ اسی جنگل میں ایک شیر بھی تھا۔ اس نے کئی بار ان بیلوں پر حملہ کرکے انہیں اپنا لقمہ بنانا چاہا۔ لیکن ان کے زبردست اتحاد کے سامنے اس کی پیش نہ گئی۔ آخر شعر میں ایک لومڑی کی خدمات حاصل کیں۔ چلاک لومڑی نے ان دنوں میں پھوٹ ڈال دیں اور اس پھوٹ اور نا اتفاقی کے نتیجے میں شیر نے ان بیلوں کا ایک ایک کر کے شکار کرلیا۔
Friends are together.


ہم جس پاک مذہب کے پیروکار ہیں۔ اس کی پاکیزہ تعلیمات اتحاد و مساوات اور ربط باہمی کے ایسے پہلو لئے ہوئے ہیں جس پر عمل کرنے سے یہ سرفراز ہوتی ہے۔اسلام کا ہر رکن اتفاق کی تعلیم دیتا ہے۔ حج اتفاق کا ایک عالمگیر نمونہ ہے۔

نماز باجماعت اتفاق و اتحاد کا عملی مظاہرہ ہے۔ تو ایک دوسرے کے حالات کا پتہ چلتا رہے گا۔ اسی طرح جمعہ کی نماز عید کی نمازیں اپنے اندر اتفاق مساوات اور اتحاد کی ایک ایسی دنیا لیے ہوئے ہیں، جس کی مثال دنیا کا کوئی مذہب پیش نہیں کرسکتا۔ آپ صل وسلم کا ارشاد ہے جو جماعت سے الگ رہا وہ تباہ ہوا جو بکری ریوڑ سے الگ ہوگئی بھیڑیے کی خوراک بن گئی۔
اسلامی اتحاد کی بنیاد دین و مذہب پر ہے۔ مذہب ہی ایک ایسی چیز ہے جو ہماری ملت کی مشترکہ اثاثہ ہے اور جس کے تحت ہم بحیثیت قوم اور ملت، متحد اور منظم ہو سکتے ہیں۔ 
ہمارے اتحاد کی بنیاد کلمہ طیبہ پر ہے۔ تمہارا خدا ایک رسی ایک قرآن ایک اور قبلہ ایک ہے۔ اس لیے ہمیں بھی ایک ہونا چاہیے۔
اسی قدر ہماری ایمان یا قوت مضبوط ہوگی۔ اسی قدر ہمارااتحاد مضبوط ہوگا۔
جب تک افراد میں اختلاف رہتا ہے تو وہ کوئی ایسی قوم نہیں بن سکتے جس پر تاریخ فخر کر سکے۔ ایک فرد کی تنہا کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اس کی زندگی ربط ملت سے ہے۔ باریک تار یا باہم ملتے ہیں تو تھان بن جاتے ہیں۔
دانہ دانہ مل کر انبار بن جاتا ہے۔ اکیلا فرد بہرحال اکیلا ہے۔  لیکن جب ربطِ باہمی سے ایک قوم بن جاتی ہے اور ان کا ایک ایسا نظام مرتب ہو جاتا ہے جس میں اتحاد و اتفاق اور جان نثاری جیسی خوبیاں ہوں۔ تو افراد کا یہ اتفاق مشکل سے مشکل کام پر بھی غالب آجاتا ہے۔ تو وہ قوم ایک ایسی دیوار بن جاتی ہے جسے گرایا نہیں جا سکتا۔
Two womens are hugging.


تاریخ کے اوراق دیکھتے جائیے۔ اتفاق کے کرشمے واضح ہوتے جائیں گے۔ ماضی قریب میں جب ہندوستان میں آزادی کی جدوجہد شروع ہوئی تو کانگریس نے یہی نظریہ پیش کیا کے ہندوستان میں ایک ہی غالب قوم ہے جسے ہندو کہتے ہیں۔ قائد اعظم نے مسلمانوں کو متحد کیا ایک مرکز پر جمع کیا اور مطالبہ کیا کے ہندوستان میں ایک قوم نہیں دو قومی بستی ہیں۔ ایک مسلمان بھی ہیں۔ ہندوؤں نے اس مطابق کا مضحکہ اڑایا۔ انگریزوں نے روڑے اٹکائے اور بعض مسلمانوں نے بھی اس نظریے کی مخالفت کی اور غیروں کی امداد کی۔
لیکن اپنوں اور بیگانوں کی یہ مخالفت مسلمانوں کے اتفاق کے باہمی کے سامنے ناکام ہو کر رہ گئی اور پاکستان اسی اتفاق باہمی کا معجزہ ہے۔
ء1965 کی جنگ میں پاکستان نے بھارت کو شرمناک شکست سے دوچار کیا۔ ہالا کے پاکستانی فوج کی مقدار انتہائی کم تھی۔ پاکستان کے پاس اسلحہ کی بھی کمی تھی۔ پھر بھارت نے بغیر الٹی میٹم دیے اچانک حملہ کیا تھا۔ لیکن پاکستان قوم متحد تھی۔ 
یہی وجہ ہے کہ بھارت کو ہر محاذ پر منہ کی کھانی پڑی اور جیسے وہ ترنوالا سمجھ رہا تھا وہ اس کے لئے چنا ثابت ہوا۔
پاکستانیوں کے لیے اتحاد باہمی کی سخت ضرورت ہے۔  پاکستان اس وقت تک مضبوط نہیں بن سکتا جب تک ہم اپنے اختلافات کو مٹا کر ایک نہ ہو جائیں۔ اور ایک ہو جائیں گے تو ہمارے اتحاد و اتفاق اور وحدت کے سامنے مخالفین کے منصوبے ناکام ہو کر رہ جائیں گے۔ غیروں کو مخالفت کی جرات اس وقت تک ہوتی ہے جب وہ اندرونی اختلاف کو دیکھتے ہیں۔ جب ہم ایک ہو گے تو کوئی مخالف ہماری طرف آنکھ اٹھا نہیں سکے گا اور کوئی ہمارا بال بھی بیکا نہیں کر سکے گا۔
اسلام کی سسٹر اب جب عرب کے ریگستان سے اٹھا تو عرب مادی وسائل سے خالی تھے۔ ایک مقصد عظیم کے لیے ایک مرکز پر جمع ہوگئے۔ ان کے باہمی اختلافات مٹ گئے تھے۔ تحیز و امتیاز کہ پرخچے اڑ گئے تھے۔ نتیجہ یہ کہ وہ ایک عالم پر چھا گئے اور ان کے حضور میں کجکلاہوں کی اکڑی گردنیں جھک گئی۔
اس وقت اتحاد عالم اسلام ایک اہم ترین ضرورت ہے اس وقت دنیا میں مسلمانوں کی تعداد ایک ارب سے زیادہ ہے اور پچاس سے زیادہ آزاد مملکتوں کے مالک ہیں۔ ان کے پاس بے پناہ افرادی قوت و مادی وسائل ہیں صرف جذبہ ایمانی اور اتحاد و یکجہتی کی ضرورت ہے۔


تو میں امید کرتا ہوں آپ کو یہ مضمون اتحاد و اتفاق کے اوپر بہت زیادہ پسند آیا ہوگا اور آپ نے اسے بہت غور سے پڑھا ہوگا۔ مزید معلومات کے لیے میری ویب سائٹ وزٹ کرتے رہا کریں۔

وقت کی پابندی کرنے کے فائدے اور وقت کو ضائع کرنے کے نقصانات جاننے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کیجئے۔


اوپر دیئے گئے لنک پر کلک کرے اور مزید معلومات حاصل کریں۔

ٹیگز اور اس مضمون کے فائدے۔

 اتحاد
اتحاد باہمی
اتحاد و اتفاق کی برکت
 اتحادیه طلا
 اتحاد و تنظیم
 اتحاد و یکجہتی
 اتحاد و مساوات
اتفاق


آپ کا بہت بہت شکریہ ہماری ویب سائیٹ کو وزٹ کرنے کے لیے۔ اللہ تعالی آپ سب کو سلامت رکھے اور اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

طہارت اور پاکیزگی پر مضمون۔

 طھارت اور پاکیزگی۔

سائنس کے کرشمے۔

 سائنس کے کرشمے۔ انسان اشرف المخلوقات ہے۔ یہ شرف اسے اس لیے حاصل ہے کہ اسے علم جیسی نعمت سے نوازا گیا ہے۔ سائنس علم ہی کا ایک شعبہ مشہور ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو بہترین دماغی صلاحیتیں عطا کی ہیں۔ وہ ان صلاحیتوں سے کام لے کر مسلسل ارتقاء کا اور ترقی کی منازل طے کرتا رہتا ہے۔ انسان نے علم کی بدولت اس قدر ترقی حاصل کر لی ہے کہ اس کے کارناموں پر حیرت ہوتی ہے۔ انسان نے آج تک کتنی منازل طے کی ہیں وہ سائنس ہی کی مرہون منت ہیں اور ابھی ارتقاء اور ترقی کا یہ سلسلہ برابر جاری و ساری ہے۔ آج انسان عقل اور فکر کی کرشمہ سازیوں نے اس کی معاشرت اور طرز زندگی میں ایک ایسا حیرت انگیز انقلاب پیدا کیا ہے کہ اگر انیسویں صدی کا انسان اتفاق سے موجودہ دنیا میں آجائے، تو لوگوں نے حاضر کی معجزہ ایجادات کو دیکھ کر یقینا اپنے حواس کھو بیٹھے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج سائنسی ایجادات کی بدولت ہم ایک ایسی تجربہ سماتی دنیا میں پہنچ گئے ہیں۔ جس کا تصور بھی ہمارے پر پشیرو نہیں کر سکتے تھے۔ ہر لحظ تغیر پذیر ہے۔ ماضی کی ناممکن باتیں آج ممکن ہوگئی ہیں۔ جن چیزوں کا ذکر ہم قدیم قصے کہانیوں میں سنتے تھے اور ان کی صداقت پر یقین