نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

Nimaz e Janaza in Urdu. How to pray a nimaz e janaza. Explained in urdu

 Nimaz e Janaza in Urdu. How to pray a nimaz e janaza. Explained in urdu. السلام علیکم دوستوں امید کرتا ہوں کہ آپ سب خیریت سے ہوں گے۔ آج ہم نماز جنازہ کو پڑھنے کا طریقہ اور اس کے فوائد جاننے کی کوشش کریں گے۔ تو اس لیے اس مضمون کو پورا پڑھیں اور دھیان سے پڑھے ہیں۔ سب سے پہلے نماز جنازہ اور عام نماز میں فرق کیا ہے۔ ہم جو عام نماز مسجدوں میں پڑھتے ہیں وہ ہم اللہ تعالی کے لیے پڑھتے ہیں جن میں ہم سجدے رکوع اور کرت کی مقدار یعنی التحیات میں بیٹھتے ہیں۔ لیکن نماز جنازہ ہم میت کی بخشش و مغفرت کے لئے پڑھتے ہیں۔ نماز جنازہ میں ہم نہ رکوع کرتے ہیں نہ سجدہ کرتے ہیں اور نہ ہی اتحیات میں بیٹھتے ہیں۔ کیوں کے وہ نماز میت کے لیے ہوتی ہے اور اللہ تعالی نے فرمایا کسی اور کو سجدہ کرنا شرک ہے اور شرک سب سے بڑا گناہ ہے۔ تو سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ کیا نماز جنازہ فرض ہے؟ تو جواب ہے کہ نماز جنازہ پوری طرح سے ہم پر فرض نہیں ہے۔ لیکن کسی حد تک اسے ہم واجب کہہ سکتے ہیں۔ یہ نماز فرض ہے کہافیہ ہے۔ اگر اسے پڑھ لیں تو بہت زیادہ ثواب ملے گا اور اگر نہ پڑھے تو گناہ نہیں ملے گا۔ لیکن مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں چاہیے ک

تعلیم نسواں پر مضمون۔

 تعلیم نسواں پر مضمون - عورتوں کی تعلیم۔

Two women and book.

 

تعلیم ایک ایسا عمل ہے۔ جس سے ایک نسل اپنا تہذیبی اور تمدنی ورثہ دوسری نسل کو منتقل کرتی ہے۔  اس مقصد کے لیے ہر سوسائٹی اپنے تہذیبی مسائل اور تمدنی حالات کے مطابق ادارے قائم کرتی ہے۔ یہ ادارے بھرپور کوشش کرتے ہیں کہ وہ قوم اور ملک کی توقعات پر پورا اتریں۔
ہر معاشرہ اپنی اقدار کے مطابق درسگاہوں کا اہتمام کرتا ہے۔ اسلامی سوسائٹی میں ان درسگاہوں کے انداز جدا ہیں اور لادینی درسگاہوں میں نصاب مختلف ہے۔ لیکن ایک چیز سب میں مشترک ہے۔
وہ یہ کہ پچھلی نسل اگلی نسل کو اپنے تمام تر تجربات منتقل کرے بلکہ پوری انسانیت کے تجربات اور علوم پوری طرح منتقل کرے۔ تاکہ دوسری اقوام عالم کے شنا بشانہ چل کر زندگی کی دوڑ میں شریک ہوا جا سکے۔
اسلام نے واضح کر دیا ہے کہ علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین جانا پڑے۔ آج ہوائی جہاز نے چین کو قریب کر دیا ہے۔ جن دنوں حضور صلی علیہ وسلم نے تحصیل علم کی تاکید میں فرمایا، ان دنوں چین کا سفر جان جو کھو کا کام تھا۔ اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ جو شخص علم حاصل کرنے کی کوشش میں فوت ہو جائے وہ شہید ہے۔
جنگ بدر کے وہ قیدی جو فدیہ دینے کی استطاعت نہ رکھتے تھے۔ ان کے لئے 10 بچوں کو پڑھانا لکھنا سکھانا ہیں فدیہ ٹھہرایا گیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں علم کا درجہ کتنا بلند ہے۔
 تعلیم نسواں سے مراد عورتوں کی تعلیم ہے۔ جس طرح مرد کے لیے تعلیم حاصل کرنا ضروری ہے۔
اس طرح عورت کے لیے بھی اس کا حصول لازمی ہے۔ مرد اور عورت زندگی کی گاڑی کے دو پہیے ہیں۔ ظاہر ہے جب تک گاڑی کے دو پہیے صحیح طور پر کام نہ کریں گے گاڑی کبھی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتی۔
فرانس کے مشہور بادشاہ نپولین نے اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا آپ مجھے اچھی مائیں دیں میں آپ کو بہترین قوم دوں گا۔
 رسول اکرم صلی اللہ وسلم جہاں مردوں کی تعلیم و تربیت کا اہتمام فرمایا کرتے تھے۔ وہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن عورتوں کی تعلیم و تربیت کے لیے بھی مخصوص فرما رکھا تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات حضور صلی علیہ وسلم سے دین کی باتیں سیکھی تھی اور پھر وہ دوسری مسلمان عورتوں کو یہ باتیں سکھاتی تھی اس طرح دین کی تعلیم عورتوں تک بھی باقاعدہ پہنچتی رہی۔
Ecosystem of women.


داناؤں کا قول ہے کہ ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہے۔ بچہ جو کچھ اس درسگاہ سے سیکھتا ہے وہ اس کی آئندہ زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ بچے کی بہتر تربیت کے لئے ماں کا تعلیم یافتہ ہونا بے حد ضروری ہے.
تعلیم یافتہ میں بچوں کو بہترین اور ذمہ دار افراد میں ڈھالتی ہیں۔ وہ بچوں کے اندر محبت ایمانداری صداقت اور حب وطن کے جذبات پیدا کرتی ہیں۔ بچوں کی صحیح تعلیم  تربیت کا انتظام صرف تعلیم یافتہ ماں ہی کر سکتی ہے۔
گھر کی مثال ایک چھوٹی سی سلطنت کی سی ہے۔ جس میں خاوند بادشاہ بیوی اس کی وزیر ہے ظاہر ہے کہ بادشاہ تنہا اپنی سلطنت کا نظام نہیں چلا سکتا، اسے لازماً وزیر کی مدد لینی پڑتی ہے۔
بادشاہ خواہ کتنا ہی منتظم اور لائق کیوں نہ ہو اگر اس کا وزیر دانا اور معتبر نہ ہو تو وہ سلطنت کے معاملات میں بادشاہ کو صحیح مشورہ نہیں دے سکے گا۔ اور ایسی سلطنت ملدا نظمی کا شکار ہو کر رہ جائے گی اور پھر اس کا زوال یقینی ہو جائے گا۔ لہذا گھریلو سلطنت کا انتظام بطریق احسن چلانے کے لئے ضروری ہے کہ عورت سلیقہ مند سمجھدار اور تعلیم یافتہ ہو۔
Learning of women


ایک تعلیم یافتہ عورت گھر کا انتظام خوش اسلوبی کے ساتھ چلا سکتی ہے۔ وہ جملہ خانگی امور بطریق احسن سرانجام دے سکتی ہے۔
وہ گھر کا ماہانہ حساب کتاب قاعدگی سے رکھ سکتی ہے اور کفایت شعاری کے اصولوں پر عمل کر کے اپنے شوہر کی کمائی کو ٹھیک طریقے سے خرچ کرتی ہے۔ اس کے برعکس جاھل عورت زندگی میں قدم قدم پر ٹھوکر کھاتی ہے اور گھر کی آمدنی کا زیادہ تر حصہ اس کی جہالت اورلا عملی کی وجہ سے  ضائع ہو جاتا ہے۔ اس طرح ایک پڑھی لکھی اور ایک جاھل عورت کے گھریلو ماحول میں ایک واضح فرق نظر آتا ہے۔
تعلیم عورت کے اندر احساس ذمہ داری اخلاق پاکیزگی اور دین سے محبت پیدا کرتی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ عورت ہی صحیح طور پر خاوند کی خدمت گزاری کر سکتی ہے۔
یہ مسرت اور اطمینان اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب بیوی تعلیم یافتہ اور حقوق و فرائض سے واقف ہو گئی۔ 
بچوں کو مختلف بیماریوں سے بچانے اور صحت مند رکھنے کے لیے بھی یہ نہایت ضروری ہے کہ ماں حفظان صحت کے اصولوں سے پوری طرح واقف ہوں۔
اور یہ علم کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے۔ 
تعلیم یافتہ عورت ان اصولوں سے باخبر ہوتی ہے اس لئے وہ گھر کے ماحول کو صحت مند رکھ سکتی ہے۔ لیکن ایک جاھل عورت صحت و صفائی کے اصولوں سے بے خبر ہوتی ہے۔
غیر صحت مندانہ ماحول کے باعث بچے طرح طرح کی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔
Brain of women


دین و مذہب کے اہم اور بنیادی مسائل اور اور تعلیمات کا جاننا ہر مرد عورت کے لیے ضروری ہے۔ دین و مذہب کا یہ عالم انسان کی زندگی کو کامیاب و کامران بناتا ہے۔ اگر عورت پڑھی لکھی ہوگی تو وہ دینی مسائل کو بہتر طور پر سمجھ اور جان سکے گی۔
اور اس طرح وہ اپنی زندگی دین کے ان سنہری اصولوں کے مطابق گزار سکے گی وہاں وہ اپنی اولاد کی تربیت بھی دینی اصولوں کی روشنی میں بہتر طور پر کر سکتی ہے۔
بچے کو کس عمر میں میں کونسے دینی شعار سے آگاہ آگاہ کرنا نا ضروری ہے ہے کون سے اخلاقی اور مذہبی اصول اسے سکھانے کی ضرورت ہے۔ یہ سب دینی تعلیم رکھنے والی ماں ہی بہتر بتا سکتی ہے۔ اسلام کے سنہری اصول اگر اس عمر میں صحیح طور پر ذہن میں راسخ ہو جائیں تو بچے کے کردار میں ساری عمر کبھی ٹیڑھا پن نہیں آۓ گا۔
وہ ہمیشہ سیدھے راستے پر چلے گا۔
لیکن ایک جاھل عورت دین و مذہب کے ان اصولوں کا علم حاصل نہیں کر سکتی۔ لہذا وہ خود بھی ان سے بیگانہ رہتی ہے اور اپنی اولاد کو بھی ان سے بے بہرہ رکھتی ہے۔
عورت کے لیے واقفیت عامہ یا معلومات عامہ جا ننا ضروری ہے۔ اسے روزمرہ زندگی میں ضروری معلومات حاصل ہونی چاہیئں۔ تاکہ وہ خانگی گندگی کو زیادہ سے زیادہ کامیاب بنا سکے۔ جاہل عورت ضروری معلومات سے بے بہرہ ہوتی ہے۔ جس کے نتیجے میں وہ خانگی امور اور اولاد کی تربیت وغیرہ کا بہتر انتظام نہیں کرسکتی۔ آج کی دنیا نہایت تیز رفتاری کے ساتھ ترقی کی منازل طے کر رہی ہے۔ اس لیے ایک پڑھی لکھی عورت ہی اس نے ماحول سے مطابقت پیدا کرتی ہے۔
Women with her baby.


ظاہر ہے عورتوں کیلئے امور خانہ داری کی تعلیم ضروری ہے کیونکہ اس شعبے کا عورت کی زندگی سے براہ راست تعلق ہے۔ اس کے علاوہ اسے دستکاری سکھائی جائے بوقت ضرورت وہ اس فن کو بروئے کار لا سکتی ہے۔ ایسے اخلاقیات اور مذہب کی تعلیم دی جائے تاکہ وہ بچوں کی پرورش صحیح خطوط پر کر سکیں۔   اسے روزمرہ سائنس اور بچوں کی نفسیات کی تعلیم دی جائے۔ لڑکیوں کے نصاب میں ان کی عملی زندگی کی ضروریات مثلا میرا دست کاری سوزن کاری نرسنگ وغیرہ شامل ہونی چاہیے۔


امید ہے آپ کو یہ مضمون تعلیم نسواں کے اوپر بہت زیادہ پسند آیا ہوگا اور آپ کو اس میں بہت سی جانکاری ملی ہو گی جو آپ نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔ 
معلومات کے لئے ہماری سائٹ وزٹ کرتے رہا کریں۔
 
اگر آپ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک پورا جاننا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔


اوپر دیئے گئے لنک پر کلک کریں اور مزید پوسٹ وزٹ کرے۔

ٹیگز

عورتوں کی تعلیم و تربیت 
 تعلیم نسواں
تعلیم نسواں پر مضمون
تعلیم نسواں پر اشعار
 عورتوں کی دینی تعلیم
 عورتوں کے حقوق
تعلیم نسواں کیوں ضروری ہے

آپ کا بہت بہت شکریہ ہماری سائٹ وزٹ کرنے کے لئے خدا حافظ۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اتحاد و اتفاق کی برکت۔

 اتحاد - اتحاد و اتفاق کی برکت۔ اتحاد کے معانی ہے اتفاق ، ایکا، میل، دوستی اور محبت۔ مشہور کہاوت ہے کہ اتفاق میں طاقت ہے۔ اتحاد ہی قوت اور طاقت کا ذریعہ ہے۔ نااتفاقی انتشار، کمزوری اور زوال ہے۔ قوموں کی تعمیر اور ترقی خوشحالی اور استحکام کا دارومدار اتحاد پر ہے۔ قوم مستحد ہو تو اسے کوئی ہے دشمن مغلوب نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر قومی یکجہتی نہ ہو تو دشمن آسانی کے ساتھ اسے زیر کر لیتا ہے۔ احادیث میں بھی مسلمانوں کے اتحاد پر بہت زور دیاگیاہے۔ چنانچہ ارشاد ہے۔ مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی ہے اگر جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہو تو اس کا سارا بدن پر پڑتا ہے۔ ایک اور موقع پر آپ صل وسلم نے فرمایا اللہ تعالی کا ہاتھ جماعت پر ہے۔ کتاب کی شیرازہ بندی اتفاق و اتحاد کی مرہون منت ہے۔ اگر یہ شیرازہ بندی نہ ہو تو منتشر اوراق پر کتاب کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ جب منتشر اوراق کو باہم جوڑ کر ان کی شیرازہ بندی کر دی گئی تو کتاب وجود میں آئی۔ اس شیراز کو توڑ دیجیے تو اوراق منتشر ہو جائیں گے اور کتاب کا وجود ختم ہو جائے گا۔ دریا، سمندر، نہر اور چشمہ کیا ہیں؟ یہ پانی کے قطروں کا اتحاد ہی تو ہے۔ اگر قطروں میں ی

طہارت اور پاکیزگی پر مضمون۔

 طھارت اور پاکیزگی۔

گداگری پر مکمل مضمون۔

 گداگری - گداگری پر مکمل مضمون۔
COPYRIGHT © BY MHASSAAN.XYZ