نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

Nimaz e Janaza in Urdu. How to pray a nimaz e janaza. Explained in urdu

 Nimaz e Janaza in Urdu. How to pray a nimaz e janaza. Explained in urdu. السلام علیکم دوستوں امید کرتا ہوں کہ آپ سب خیریت سے ہوں گے۔ آج ہم نماز جنازہ کو پڑھنے کا طریقہ اور اس کے فوائد جاننے کی کوشش کریں گے۔ تو اس لیے اس مضمون کو پورا پڑھیں اور دھیان سے پڑھے ہیں۔ سب سے پہلے نماز جنازہ اور عام نماز میں فرق کیا ہے۔ ہم جو عام نماز مسجدوں میں پڑھتے ہیں وہ ہم اللہ تعالی کے لیے پڑھتے ہیں جن میں ہم سجدے رکوع اور کرت کی مقدار یعنی التحیات میں بیٹھتے ہیں۔ لیکن نماز جنازہ ہم میت کی بخشش و مغفرت کے لئے پڑھتے ہیں۔ نماز جنازہ میں ہم نہ رکوع کرتے ہیں نہ سجدہ کرتے ہیں اور نہ ہی اتحیات میں بیٹھتے ہیں۔ کیوں کے وہ نماز میت کے لیے ہوتی ہے اور اللہ تعالی نے فرمایا کسی اور کو سجدہ کرنا شرک ہے اور شرک سب سے بڑا گناہ ہے۔ تو سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ کیا نماز جنازہ فرض ہے؟ تو جواب ہے کہ نماز جنازہ پوری طرح سے ہم پر فرض نہیں ہے۔ لیکن کسی حد تک اسے ہم واجب کہہ سکتے ہیں۔ یہ نماز فرض ہے کہافیہ ہے۔ اگر اسے پڑھ لیں تو بہت زیادہ ثواب ملے گا اور اگر نہ پڑھے تو گناہ نہیں ملے گا۔ لیکن مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں چاہیے ک

مریض کی عیادت کرنا۔

 عیادت مریض - مریض کی عیادت کرنا۔


Patient is taking the rest.



انسانی جسم ایک مشین کی طرح ہے۔ اس میں ہزاروں پردے ہیں جو اپنا کام خوش اسلوبی سے انجام دیتے رہتے ہیں۔
اگر ان میں سے ایک پرزہ بھی خراب ہوجائے تو انسانی جسم میں بھی خرابی پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ تمام جسمانی پرزہ جات حکم ربی سے صحیح کام کرتے ہیں اور اسی کے حکم سے خراب ہوتے ہیں۔
اس سے ہرگز یہ مراد نہیں کہ خدا ہمارے جسم میں خرابیاں پیدا کرتا ہے۔ ایک امریکی طبی بک کا کہنا ہے کہ اگر ہمارے دل میں خرابی اسی سال تک پیدا ہوتو یہ ہمارا اپنا قصور ہے کلب کی خرابی نہ تو مشیت ایزدی ہے نہ ہی تقاضہ فطرت۔
آدمی کے تمام اعضاء بہ احسن و خوبی چلتے رہیں، تو وہ صحت مند تصور ہوتا ہے۔ اگر کوئی پرزہ خراب ہو جائے تو آدمی کی صحت خراب ہو جاتی ہے۔
معاشرہ انسانوں کے مجموعے کا نام ہے لوگوں کا ایک دوسرے سے میل جول باہم تقریبات میں شرکت، ایک دوسرے کے معاملات کی خبرگیری خوشی اور غمی میں ساتھ نبھانا انہیں ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔
بھائی چارے کی فضا پیدا ہوتی ہے اور رواداری کا ماحول جنم لیتا ہے۔ سماجی طور پر ہم رشتے ناطوں سے جڑے ہوتے ہیں۔ لوگ زندگی کے سفر میں انسان کو سو طرح کی مشکلات پیش آتی ہیں۔
ایک مرحلہ ایسا بھی ہوتا ہے جو بہت توجہ چاہتا ہے وہ مرحلہ حالت مرض بھی ہوتا ہے۔ اللہ تعالی نے جہاں ہمیں صحت بخشی وہاں ہمارا واسطہ بیماری سے بھی پڑتا ہے۔ بیمار سے اس کا حال چال دریافت کرنا اس کی بیماری کی سنگینی کو معمولی کر دیتا ہے، اس کو خوش آئندہ بات تو سے دلاسہ دینا ہی عیادت کہلاتا ہے۔
عیادت ہمارے معاشرتی اور اخلاقی فریضہ ہی نہیں بلکہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر حق ہے۔ ایک پرخلوص روس کا مالک انسان اپنے ہی جیسے انسان سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ دردمند دل رکھنے والا دوسروں کے درد کا احساس ضرور کرتا ہے۔
مریض کی بیمار پرسی کرنا عبادت کے زمرے میں آتا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غریب سے غریب بیمار ہوتا تو عیادت کو تشریف لے جاتے۔ کسی کی عیادت کرنا اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کا موجب بنتی ہے۔
انسان ایک دوسرے سے مربوط اور بندہ ہوتا ہے کہا جاتا ہے کہ معاشرے کی جان افراد معاشرہ ہیں۔ 
اس کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ کوئی بھی اس کی مزاج پرسی کو آ ئے۔ یہ خواہش پوری ہونے پر وہ مریض دوسروں کی تیمارداری کے لیے اپنے دل میں بھی جذبات محسوس کرے گا۔
جب آدمی کو اپنے عز و اقارب دوست احباب یا کسی محلے داریوں کی بیماری کا پتہ چلے، تو اس کی تیمارداری کے لیے ضرور جانا چاہیے۔
مریض سے بڑے خلوص اور سادہ الفاظ میں ہمدردی کا اظہار کریں۔ بیمار کو جلد صحت یابی کی امید دلائیں۔ سسے بھرپور تسلی دیں کے اللہ تعالی اسے ضرور شفا دے گا۔
اپنے تاثرات سے اس بات کو عملی طور پر ظاہر کرنے کی کوشش کریں کہ آپ مریض کی تکلیف کی شدت کو محسوس کر رہے ہیں۔
مریض اگر مایوسی کا اظہار کرتا ہے، تو تسلی و تشنی دیں ۔ اس پر ہر گز قنوطیت طاری نہ ہونے دیں۔ بیماری کی شدت کے باوجود اسے حوصلہ دیں بیماری سے مقابلے کی ہمت دلائیں۔
عیادت اسلامی تہذیب و روایات کا حصہ ہے اس کے بھی کچھ اصول و ضوابط ہیں۔ بعض اوقات مرض کی شدت کی بنا پر یا طوالت پر کی وجہ سے مریض کے مزاج میں پیدا ہونے والا چڑچڑا پن آجاتا ہے۔ اس لئے اس کے مزاج کی مناسب دیکھ بھال کی جانی چاہیے۔
آپ کی اولین کوشش یہی ہونی چاہیے کہ آپ کی گفتگو آپ کی تیمارداری کی طبیعت پر بوجھ نہ بنے۔
مریض کو پرسکون ماحول کی ضرورت ہوتی ہے اس کے پاس  شور و غل سے اجتناب کریں۔ ملیس کے پاس زیادہ دیر نہیں بیٹھنا چاہیے کیونکہ بیمار آدمی کی کی کی حاجتیں ہوتی ہیں ہو سکتا ہے آپ کی موجودگی کی حاجت کو پورا کرنے میں مانع ہو۔ لیکن اگر منیر خود بیٹھنے کی خواہش ظاہر کرے تو اس کی تسلی کے لیے کچھ دیر بیٹھنا چاہیے۔
آپ کا لہجہ مریض کے لیے ہی نہیں اس کے اہل خانہ کے لئے بھی دل آویز ہو۔
آپ کا یہ وصف ہر دو کو بھائے گا۔ وہ آپ سے سے پھر تشریف لانے کا تقاضہ کریں گے۔ مریض کے گھر عیادت کے لیے جائیں تو ادھر اُدھر تانک جھانک معیوب تصور کی جاتی ہے۔ 
یاد رہے عدت میں اہل خانہ کو تکلیف نہ ہو۔
جب آپ مریض کی عیادت کے لیے جائیں تو مرض کے لیے اس موسم کا کوئی پھل وغیرہ لے جائیں۔ 
پھل ویسے تو صحت و تندرستی کے ضامن سمجھے جاتے ہیں لیکن عیادت کے لیے پھل ہمراہ لے جانے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ آپ اس کی تندرستی کی دلی طور پر خواہاں ہیں۔
بعض اوقات ڈاکٹروں نے مریضوں کو صرف نو کے استعمال کی اجازت دی ہوتی ہے۔ ایسے موقع پر آپ کا تحفہ بہت قیمتی اور بروقت ثابت ہوتا ہے۔ یہ آپ کے خلوص کی نشاندہی بھی کرتا ہے اور مریض کو خوشی بھی عطا کرتا ہے۔
ہمیں غیر مسلم کی بھی تیمار داری کرنی چاہیے یہ تمارداری انسانیت کے بہت قریب اہم ہے۔ وہ لوگ ہمارے اس معاشرے کا حصہ ہیں۔ آپ کی اپنائیت خلوص قیادت اس غیر مسلم کے دل کو متاثر کر سکتی ہے۔
بیمار کے لئے اللہ تعالی سے دعا کرتے رہا کریں کہ وہ صحت یاب ہو جائے۔ نا صرف اس دعا سے اس کو شفا ملے گی بلکہ آپ کو بھی ثواب حاصل ہوگا۔ اپنے بھائی کے لئے اللہ تعالی کے دربار سے صحت اور تندرستی مانگئیے اللہ تعالی آپ کو بھی صحت مند رکھے گا۔
مریض کی تیمارداری کو اپنا دینی فرض سمجھ کر ادا کریں اس میں کوتاہی دینوی اور اُخروی خسارے کا باعث بن سکتی ہے۔
اگر بیمار آدمی مالی مدد کا مستحق ہو تو اس کی مالی اعانت سے گریز نہ کریں اور جس حد تک بھی ہو سکے اس کی مدد کریں۔

اللہ تعالی کے نزدیک مریض کی عیادت کرنے کا بہت بڑا اجر اور ثواب ہے جو اللہ تعالی آپ کو بھی نصیب فرمائے اور ہمیں نصیب فرمائے آمین۔


امید ہے آپ کو یہ مضمون عیادت مریض کے اوپر بہت زیادہ پسند آیا ہوگا اور آپ آگے سے اپنے ہر مسلمان بھائی کی عیادت کرنے جائیں گے۔ 

اتحاد و اتفاق کی فضیلت اور برکتیں 

کا مضمون پوری تفصیل کے ساتھ جاننے کے لئے نیچے دیئے گئے بٹن پر کلک کریں۔

 کلک کریں



ٹیگز

عیادت مریض
مریض کی عیادت کرنا
مریض کی عیادت کرنے کے فائدے
بیمار کی تیمارداری کرنا
 مریض کی تیمارداری کرنا۔

اگر آپ کے ذہن میں کوئی بھی سوال ہے تو براہ کرم ہم سے پوچھ لے مجھے نیچے تبصرہ کرلیں لے یا ہمارا کانٹیکٹ فارم فل کر لیں۔

ہماری سائٹ وزٹ کرنے کے لئے آپ کا بہت بہت شکریہ۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اتحاد و اتفاق کی برکت۔

 اتحاد - اتحاد و اتفاق کی برکت۔ اتحاد کے معانی ہے اتفاق ، ایکا، میل، دوستی اور محبت۔ مشہور کہاوت ہے کہ اتفاق میں طاقت ہے۔ اتحاد ہی قوت اور طاقت کا ذریعہ ہے۔ نااتفاقی انتشار، کمزوری اور زوال ہے۔ قوموں کی تعمیر اور ترقی خوشحالی اور استحکام کا دارومدار اتحاد پر ہے۔ قوم مستحد ہو تو اسے کوئی ہے دشمن مغلوب نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر قومی یکجہتی نہ ہو تو دشمن آسانی کے ساتھ اسے زیر کر لیتا ہے۔ احادیث میں بھی مسلمانوں کے اتحاد پر بہت زور دیاگیاہے۔ چنانچہ ارشاد ہے۔ مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی ہے اگر جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہو تو اس کا سارا بدن پر پڑتا ہے۔ ایک اور موقع پر آپ صل وسلم نے فرمایا اللہ تعالی کا ہاتھ جماعت پر ہے۔ کتاب کی شیرازہ بندی اتفاق و اتحاد کی مرہون منت ہے۔ اگر یہ شیرازہ بندی نہ ہو تو منتشر اوراق پر کتاب کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ جب منتشر اوراق کو باہم جوڑ کر ان کی شیرازہ بندی کر دی گئی تو کتاب وجود میں آئی۔ اس شیراز کو توڑ دیجیے تو اوراق منتشر ہو جائیں گے اور کتاب کا وجود ختم ہو جائے گا۔ دریا، سمندر، نہر اور چشمہ کیا ہیں؟ یہ پانی کے قطروں کا اتحاد ہی تو ہے۔ اگر قطروں میں ی

طہارت اور پاکیزگی پر مضمون۔

 طھارت اور پاکیزگی۔

گداگری پر مکمل مضمون۔

 گداگری - گداگری پر مکمل مضمون۔
COPYRIGHT © BY MHASSAAN.XYZ