نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

Nimaz e Janaza in Urdu. How to pray a nimaz e janaza. Explained in urdu

 Nimaz e Janaza in Urdu. How to pray a nimaz e janaza. Explained in urdu. السلام علیکم دوستوں امید کرتا ہوں کہ آپ سب خیریت سے ہوں گے۔ آج ہم نماز جنازہ کو پڑھنے کا طریقہ اور اس کے فوائد جاننے کی کوشش کریں گے۔ تو اس لیے اس مضمون کو پورا پڑھیں اور دھیان سے پڑھے ہیں۔ سب سے پہلے نماز جنازہ اور عام نماز میں فرق کیا ہے۔ ہم جو عام نماز مسجدوں میں پڑھتے ہیں وہ ہم اللہ تعالی کے لیے پڑھتے ہیں جن میں ہم سجدے رکوع اور کرت کی مقدار یعنی التحیات میں بیٹھتے ہیں۔ لیکن نماز جنازہ ہم میت کی بخشش و مغفرت کے لئے پڑھتے ہیں۔ نماز جنازہ میں ہم نہ رکوع کرتے ہیں نہ سجدہ کرتے ہیں اور نہ ہی اتحیات میں بیٹھتے ہیں۔ کیوں کے وہ نماز میت کے لیے ہوتی ہے اور اللہ تعالی نے فرمایا کسی اور کو سجدہ کرنا شرک ہے اور شرک سب سے بڑا گناہ ہے۔ تو سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ کیا نماز جنازہ فرض ہے؟ تو جواب ہے کہ نماز جنازہ پوری طرح سے ہم پر فرض نہیں ہے۔ لیکن کسی حد تک اسے ہم واجب کہہ سکتے ہیں۔ یہ نماز فرض ہے کہافیہ ہے۔ اگر اسے پڑھ لیں تو بہت زیادہ ثواب ملے گا اور اگر نہ پڑھے تو گناہ نہیں ملے گا۔ لیکن مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں چاہیے ک

اپنی مدد آپ کرنے کے فوائد۔

 اپنی مدد آپ - اپنی مدد آپ کرنے کے فوائد۔

Friend is helping to other friend



اپنی مدد آپ سے مراد ہے کہ اپنا کام خود کیا جائے۔ کسی کی مدد یا سہارا تلاش نہ کیا جائے۔ یہ ایک نہایت آزمودہ معقولہ ہے۔
اس چھوٹے سے فقرے میں انسانوں نسلوں اور قوموں کا اتحاد جمع ہے۔
جب لوگ اس کی اہمیت اور افادیت سے آشنا ہو جائیں گے تو پھر خضر کو ڈھونڈنا بھول جائیں گے۔ ایک شخص نے اپنی مدد آپ کرنے کا جو شخص سچی اور یقینی ترقی کی بنیاد ہے۔
اور جب یہ جوش اور ولولہ کسی قوم کے تمام افراد میں پایا جائے، تو اس قوم کو ترقی کرنے سے بھلا کون روک سکتا ہے۔
قرآن پاک ایک مکمل آئین زندگی ہے۔ اس میں انسان کے لئے  دائمی رہنمائی کے ابدی اصول ہیں۔
قرآن پاک میں یہ بات واضح طور پر موجود ہے کہ انسان کے لئے کچھ نہیں ہے۔ سوائے اس کے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔
کسی کا عمل اور کسی کی مدد دوسرے کے کام آئے گی۔ جو کچھ انسان اپنے لئے حاصل کرسکتا ہے وہ اپنے ہی عمل اپنی ہی جدوجہد اور اپنی ہی تگ ودو سے ہے۔
اپنی مدد آپ دو طرح سے ہوتی ہے۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ کوئی آدمی ذاتی اور انفرادی طور پر اپنا مسئلہ کوشش کرکے خود حل کرے۔
 مثلا کوئی شخص دریا کے کنارے چلتے چلتے بے خیالی میں دلدل میں پھنس جاتا ہے۔ اب اگر وہ اس بات کا انتظار کرتا رہے کہ کوئی راہ گیر آکر اسے نکالنے تب ہی نکلے گا۔  تو ممکن ہے کہ وہ دلدل سے نکل ہی نہیں سکے گا کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ فوری طور پر کوئی آدمی ادھر آ ہی جائے۔ فرض کیا کہ کوئی شخص ادھر سے گزر بھی رہا ہے، تو ضروری نہیں کہ وہ خود کو خطرے میں ڈال کر اسے دلدل سے نکالنے کے لئے تیار ہو جائے گا۔
اس کے برخلاف اگر دلدل میں پھنسا ہوا مسافر اپنی مدد آپ کرنے کا تہیہ کرلیتا ہے۔ 
اور عقل سے کام لے کر دل پر پر کمر کے بل لیٹ کر ٹانگیں نکالنے کی کوشش کرتا ہے۔ تو وہ ضرور خطرے سے باہر نکل آئے گا۔
اس طرح جو لڑکے محنت کر کے امتحان میں بیٹھتے ہیں اور اچھے پر چیک کر کے آتے ہی وہ اپنی مدد آپ کرتے ہیں۔ ان کا پاس ہونا یقینی ہوتا ہے لیکن وہ بچے جو خود محنت نہیں کرتے اور امتحان کے قریب اپنے والدین کو پریشان کرتے ہیں۔ کے وہ سفارش کرتے پھریں یا نگران عملہ کو رشوت دے کر نقل لگوانے کا انتظام کرے۔
ایسے بچے کبھی کامیاب نہیں ہوتے اور زندگی میں ناکام رہتے ہیں۔
اپنی مدد آپ کرنے کی دوسری صورت اجتماعی مدد کی ہوتی ہے۔ یہ طریقہ گروہوں، قبیلوں اور قوموں پر لاگو ہوتا ہے۔ دنیا کی سمجھ دار قومیں ہمیشہ اپنے معاملات مل جل کر خود ہی طے کر لیتی ہیں۔
مگر کسی وقت قوم ملی پریشانی سے دوچار ہوتی ہے یا اقتصادی طور پر کسی مشکل سے دوچار ہو جاتی ہے۔ تو وہ اپنی مدد آپ کے اصول پر عمل کر کے بچ سکتی ہے۔
اگر مال و دولت کی کمی ہے تو اس قوم کے کھاتے پیتے لوگ سامنے آ جاتے ہیں اور آپس میں چندہ کرکے یا فنڈ جمع کرکے کمی کو پورا کر دیتے ہیں۔
غلے یا دیگر کھانے پینے کی چیزوں کی قلت کی صورت میں خود دار اقوام کے افراد ایک وقت کا کھانا کھا کر گزارا کر لیتے ہیں۔
مگر کسی دوسری قوم کے آگے بھیک نہیں مانگتے۔ اس کے برخلاف جو قومیں اپنی مدد آپ کے جذبے سے خالی ہوتی ہیں۔ وہ خود غرض، لالچ اور غداری جیسی خوفناک برائیوں میں مبتلا ہوتی ہیں اور آخرکار تباہ اور برباد ہو جاتی ہیں۔
اللہ تعالی ہر حال میں انسان کی مدد کرتے ہیں۔ ان کی نماز سے ہم پر بے شمار ہیں مگر اللہ تعالی کی رحمت بھی اس امر کو دیکھتی ہے۔ کے کسی دل میں ابھرنے اور سنورنے کی تمنا ہے۔

ہم مسلمانوں کے لیے ہدایت کا مینار ہمارے پیارے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔  قصور سلم نے اپنی مدد آپ کرنے کا اصول ہمیں نہ صرف سکھایا ہے بلکہ عملی طور پر کرکے بھی دیکھا ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر میں پروین خود لگایا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ وسلم اپنے جوتے بھی خود گانٹھ لیتے تھے۔ پیاس لگتی تو قوی سے پانی بھی خود نکال لیتے آپ کی نگرانی میں مسلمان قومیں بہت سارے کام کیے اور جنگیں لڑیں۔

ان میں بھی جگہ جگہ وہ اپنی مدد آپ کرتے نظر آتے تھے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جنگ خندق کے موقع پر میدان جنگ میں میں چاروں طرف جو خندق کھودی گئی تھی اس میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سمیت قوم کے لوگ شریک تھے اور اپنی مدد آپ کر رہے تھے۔

جن لوگوں کو دوسروں پر تکیہ کرنے کی عادت پڑ جاتی ہے۔ وہ اس قدر ناکارہ اور کاہل ہو جاتے ہیں کہ چھوٹے چھوٹے کام بھی انہیں پہاڑ دکھائ دیتے ہیں۔

وہ اس پوستیں کی طرح مست ہو جاتے ہیں۔ جس کی چھاتی پر بیر پڑا ہو اور وہ دوسروں کو آواز دے کوئی آئے اور اس کی چھاتی سے میرا اٹھا کر اس کے منہ میں ڈال دے۔

ایسے لوگ تندرست ہوتے ہوئے بھی چلنے کے لئے بیساکھیوں کے طلب گار ہوتے ہیں اور دوسروں کی طرف التماس بھری نظروں سے دیکھتے ہیں۔ تو اس مضمون سے ہمیں سیکھنے کو کو ملتا ہے کہ ہمیں اپنا کام خود کرنا چاہیے اور کسی دوسرے کا سہارا نہیں لینا چاہیے۔

محنت کی برکات۔ محنت کرنے کے فائدے۔

امید ہے آپ کو یہ مضمون اپنی مدد آپ کے اوپر بہت زیادہ پسند آیا ہوگا مزید ایسی معلومات کے لیے ہماری سائٹ وزٹ کرتے رہا کریں۔ ہم آپ کو سو فیصد نئی معلومات دیتے ہیں۔

ٹیگز

اپنی مدد آپ
 اپنی مدد آپ کرنے کے فوائد
اپنی مدد آپ کرنا
اپنی مدد خود کرنا
اپنا کام خود کرنا
اپنے کام کو خود سرانجام دینا

آپ کا بہت بہت شکریہ ہماری سائٹ وزٹ کرنے کے لئے خدا حافظ۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اتحاد و اتفاق کی برکت۔

 اتحاد - اتحاد و اتفاق کی برکت۔ اتحاد کے معانی ہے اتفاق ، ایکا، میل، دوستی اور محبت۔ مشہور کہاوت ہے کہ اتفاق میں طاقت ہے۔ اتحاد ہی قوت اور طاقت کا ذریعہ ہے۔ نااتفاقی انتشار، کمزوری اور زوال ہے۔ قوموں کی تعمیر اور ترقی خوشحالی اور استحکام کا دارومدار اتحاد پر ہے۔ قوم مستحد ہو تو اسے کوئی ہے دشمن مغلوب نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر قومی یکجہتی نہ ہو تو دشمن آسانی کے ساتھ اسے زیر کر لیتا ہے۔ احادیث میں بھی مسلمانوں کے اتحاد پر بہت زور دیاگیاہے۔ چنانچہ ارشاد ہے۔ مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی ہے اگر جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہو تو اس کا سارا بدن پر پڑتا ہے۔ ایک اور موقع پر آپ صل وسلم نے فرمایا اللہ تعالی کا ہاتھ جماعت پر ہے۔ کتاب کی شیرازہ بندی اتفاق و اتحاد کی مرہون منت ہے۔ اگر یہ شیرازہ بندی نہ ہو تو منتشر اوراق پر کتاب کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ جب منتشر اوراق کو باہم جوڑ کر ان کی شیرازہ بندی کر دی گئی تو کتاب وجود میں آئی۔ اس شیراز کو توڑ دیجیے تو اوراق منتشر ہو جائیں گے اور کتاب کا وجود ختم ہو جائے گا۔ دریا، سمندر، نہر اور چشمہ کیا ہیں؟ یہ پانی کے قطروں کا اتحاد ہی تو ہے۔ اگر قطروں میں ی

طہارت اور پاکیزگی پر مضمون۔

 طھارت اور پاکیزگی۔

گداگری پر مکمل مضمون۔

 گداگری - گداگری پر مکمل مضمون۔
COPYRIGHT © BY MHASSAAN.XYZ