نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

Nimaz e Janaza in Urdu. How to pray a nimaz e janaza. Explained in urdu

 Nimaz e Janaza in Urdu. How to pray a nimaz e janaza. Explained in urdu. السلام علیکم دوستوں امید کرتا ہوں کہ آپ سب خیریت سے ہوں گے۔ آج ہم نماز جنازہ کو پڑھنے کا طریقہ اور اس کے فوائد جاننے کی کوشش کریں گے۔ تو اس لیے اس مضمون کو پورا پڑھیں اور دھیان سے پڑھے ہیں۔ سب سے پہلے نماز جنازہ اور عام نماز میں فرق کیا ہے۔ ہم جو عام نماز مسجدوں میں پڑھتے ہیں وہ ہم اللہ تعالی کے لیے پڑھتے ہیں جن میں ہم سجدے رکوع اور کرت کی مقدار یعنی التحیات میں بیٹھتے ہیں۔ لیکن نماز جنازہ ہم میت کی بخشش و مغفرت کے لئے پڑھتے ہیں۔ نماز جنازہ میں ہم نہ رکوع کرتے ہیں نہ سجدہ کرتے ہیں اور نہ ہی اتحیات میں بیٹھتے ہیں۔ کیوں کے وہ نماز میت کے لیے ہوتی ہے اور اللہ تعالی نے فرمایا کسی اور کو سجدہ کرنا شرک ہے اور شرک سب سے بڑا گناہ ہے۔ تو سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ کیا نماز جنازہ فرض ہے؟ تو جواب ہے کہ نماز جنازہ پوری طرح سے ہم پر فرض نہیں ہے۔ لیکن کسی حد تک اسے ہم واجب کہہ سکتے ہیں۔ یہ نماز فرض ہے کہافیہ ہے۔ اگر اسے پڑھ لیں تو بہت زیادہ ثواب ملے گا اور اگر نہ پڑھے تو گناہ نہیں ملے گا۔ لیکن مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں چاہیے ک

دوستی پر مکمل مضمون۔

 میرے دوست - دوستی پر مکمل مضمون۔


Friends are sitting together.





دوستی ایک ایسا قابل قدر رشتہ ہے۔ جس کی بنیاد صرف خلوص پر ہے۔ یہ ایک قلبی واسطہ اور روحانی تعلق ہے۔

دل مردہ اور روح افسردہ ہو تو پھر یہ تعلق بھی مفاد کا پابند ہو جاتا ہے۔ ورنہ اس تعلق کی قدر و قیمت کوئی نہیں سمجھ سکتا ہے۔ لفظوں میں اس رشتے کی پاکیزگی نہیں آ سکتی۔ اس لئے ایک شاعر نے کسی پرانے دوست کی ملاقات کو مسیحا و خضر کی ملاقات سے بہتر قرار دیا تھا۔

کسی دانشور کا خیال ہے کہ دوستی وہ پاک رشتہ ہے جس کی حدود آسمان اور زمین کی وسعتوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ انسان اس دنیا میں تنہا زندگی بسر کرنے سے قاصر ہے۔ وہ دوسروں کا مرہون منت ہے۔

باہمی میل ملاپ اور محبت الفت سے معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بنتا ہے۔ ورنہ معاشرتی بگاڑ معاشرے کی بنیادیں کھوکھلی کر دیتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جو لوگ آپس میں مل جل کر رہتے ہیں، اپنے مشترکہ مفادات کی نگہبانی کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں۔

وہ سب ایک دوسرے کے مددگار ہوتے ہیں۔ کسی دانشور کا قول ہے کہ دوست کا مطلب ہے جو ہر مشکل میں ایک دوسرے کی مدد کیلئے تیار ہوں۔

دوستی نام ہے اپنے آپ کو کسی کے لئے وقف کر دینے کا۔ دوست کی عزت و آبرو اور دوستی پر مرمٹنے کا۔ دوست کے لئے جان کا نذرانہ پیش کرنا بھی دوستی کے تقاضے کا حق ادا کرنے کے مترادف تصور ہوتا ہے۔ پھر بھی دوستی کے تقاضے پورے نہیں ہوتے ہیں۔ کسی کی خاطر مدارت کرنا دوستی نہیں ہوتی۔ اور نہ کسی سے الفت بڑھا لینا ہی دوستی ہے۔ کسی دانشور کا خیال ہے کہ دوستی ایک مقدس رشتہ ہے۔

شیخ سعدی نے اپنے وسیع تجربے اور شہر و بیاباں کی سیر کے بعد دوستوں کی تین اقسام بیان کی ہیں۔ میں نے بھی اپنے دوستوں کو شیخ سعدی کے بیان کردہ اقسام میں تقسیم کیا ہوا ہے اور ان سے اسی تقسیم کے مطابق تعلق رکھتا ہوں۔

شیخ سعدی نے دوستوں کی دو اقسام بیان کی ہیں وہ درج ذیل ہیں۔

شیخ موصوف کہتے ھیں کہ ایک دوست وہ ہے کہ دیکھ لیتے ہیں تو قربان ہو جاتے ہیں اور اس دل سوزی سے خیر خبر پوچھتے ہیں۔ کے اپنے آپ پر رحم آنے لگتا ہے۔ کام کاج کی حالت بھی پوچھتے ہیں اور کاروبار کے بہتر ہو جانے کے بارے میں تسلی آمیز گفتگو بھی فرماتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ کاش میں اس قابل ہوتا کہ آپ کی کوئی مدد کر سکتا۔ ایسے ہی ادھر ادھر کی چند باتیں کی اور چلتے بنے۔ انہوں نے ایسے دوستوں کو زبانی دوست کا خطاب دیا۔


پھر ایک دوست ایسے بھی ہیں جو مرزا ظاہر وار بیگ کے خاندان سے ہیں۔ ایسے وقت میں ملاقات کے لیے آتے ہیں کہ کھانے کا وقت قریب تر ہوتا ہے اور با امر مجبوری انہیں کھانے میں شریک ایک کرنا پڑتا ہے یا کھانے کی دعوت دینی پڑتی ہے۔ جس سے وہ فورا منظور فرما لیتے ہیں اور کبھی انکار نہیں کرتے۔ یہ صاحب خود کبھی کھانے کی دعوت نہیں دیتے۔ باتیں بہت اچھی دار کرتے ہیں اور دوستی کے حقوق گناتے نہیں تھکتے۔ ان سے دوستی نبھانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ان کی باتیں شیر مادر سمجھ کر پیے جاؤ اور انہیں کھانا کھلاتے جاؤ۔ کبھی ان سے کھلانے کی توقع نہ رکھو۔ ایسے دوست کھانے پینے کے دوست ہوتے ہیں۔

دوستوں کی تیسری قسم وہ ہیں جن کے دل میں قربانی اور ایثار کا ولولہ ہوتا ہے۔ یہ بے تکلف دوست ہوتے ہیں دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں۔ ان کی باتیں سچی اور اخلاق سے بھرپور ہوتی ہیں خوشامد سے دور رہتے ہیں۔ اور دوست کو فائدہ دینے کی سبیل سوچتے ہیں۔ اور جب اسے کوئی فائدہ پہنچا دیں تو ان کی مذمت کی انتہا نہیں رہتی۔ شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ نے ایسے دوستوں کو سچے دوست یا جانی دوست قرار دیا گیا ہے۔

شیخ سعدی رحمتہ اللہ کی نصیحت: شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ذبانی دوست اسے زبانی ہمدردی کرو اور گلو خلاصی کرالو اور روٹی کے دوست کو روٹی کھلاؤ اور نکال دو، لیکن یار جانی کو اپنے ہاتھ سے نہ جانے دو ایسے دوست پر جان بھی قربان کرنا پڑے تو دریغ نہ کرو۔

میرے دوست یوں تو بے شمار ہیں۔  شہر میں میرا کوئی نہ کوئی دوست موجود ہے۔ ہر کسی سے میرا گہرا تعلق ہے لیکن ان میں سے چند ایک ہیں میرے دوست ہیں۔ ان کو میں نے بارہا آزمایا ہے اور وہ دوستی کے معیار پر بالکل پورے اترے ہیں۔ تین دوست ایسے ہیں جن پر مجھے بجا طور پر فخر ہے۔ آپ کو ان کے متعلق ذرا تفصیل سے بتاتا ہوں۔

سلیم میرے ایک ایسے دوست ہیں جن کی باتوں میں دلنوازی اور اداؤں میں محبت کی جھلک ہے اور اور کبھی حالت یہ ہے کہ ان کا دل اللہ کے خوف سے آباد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ میرا بہترین دوست ہے اس کی کوشش رہتی ہے کہ وہ کسی کا دل نہ دکھائے اور ان کی کسی بات سے کسی کے دل کا رشتہ ٹوٹنا جائے۔ 

میرے یہ دوست ایک عظیم انسان ہیں انہوں نے اپنی دنیا خود تعمیر کی ہے۔ انہوں نے دل لگی کے بہت سے گرم اور سرد دور دیکھے ہیں۔ اللہ تعالی والدین کا سایہ اس پر ہمیشہ قائم رکھے۔ چھوٹی عمر میں ہی ہیں اسے بیماریوں نے گھیر لیا مگر انہوں نے اپنے روز و شب کو مایوس نہیں ہونے دیا اور کسی کے سامنے اپنی بیماری کا گلہ اور شکوہ بھی نہیں کیا۔ انہوں نے اپنی زندگی کو اپنے ہی خون جگر سے رنگین بنایا۔

آپ سے بھی گزارش ہے کہ اگر آپ کبھی دوستی کریں تو خوب طریقے سے نبھائیں۔ کیوں کہ دوستی میں بغض رکھنے میں اللہ تعالی نے گناہ رکھا ہے اور دوستی کو مکمل طریقہ سے نبھانے میں اللہ تعالی نے بڑا اجر رکھا ہے۔

والدین کے ساتھ حسن سلوک جاننے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کریں۔


امید ہے آپ کو یہ مضمون دوستی کے اوپر بہت زیادہ پسند آیا ہوگا اور آپ دوستی کے مطلب اور دوستی کے حقوق سے اچھی طرح واقف ہو گئے ہوں گے۔ دوستی کے بغیر انسان تنہا ہوتا ہے۔ ہمیں دوستی کرنی چاہیے لیکن اس دوست سے جو دوستی کو اچھے طرح نبھائے۔ نہ کہ اس کی مال و دولت سے۔ اللہ تعالی سب کو اور ہمارے دوستوں کو محفوظ رکھے آمین۔

ٹیگز

میرے دوست
دوستی پر مکمل مضمون
دوستی پر مضمون
دوستی کیا ہے
دوستی کیسے نبھائیں جاتی ہے۔
باقول شیخ سعدی۔


آپ کا بہت بہت شکریہ ہماری ویب سائیٹ کو وزٹ کرنے کے لیے۔ مزید اچھی اچھی معلومات کے لئیے ہماری سائٹ وزٹ کرتے رہا کریں۔
شکریہ

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اتحاد و اتفاق کی برکت۔

 اتحاد - اتحاد و اتفاق کی برکت۔ اتحاد کے معانی ہے اتفاق ، ایکا، میل، دوستی اور محبت۔ مشہور کہاوت ہے کہ اتفاق میں طاقت ہے۔ اتحاد ہی قوت اور طاقت کا ذریعہ ہے۔ نااتفاقی انتشار، کمزوری اور زوال ہے۔ قوموں کی تعمیر اور ترقی خوشحالی اور استحکام کا دارومدار اتحاد پر ہے۔ قوم مستحد ہو تو اسے کوئی ہے دشمن مغلوب نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر قومی یکجہتی نہ ہو تو دشمن آسانی کے ساتھ اسے زیر کر لیتا ہے۔ احادیث میں بھی مسلمانوں کے اتحاد پر بہت زور دیاگیاہے۔ چنانچہ ارشاد ہے۔ مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی ہے اگر جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہو تو اس کا سارا بدن پر پڑتا ہے۔ ایک اور موقع پر آپ صل وسلم نے فرمایا اللہ تعالی کا ہاتھ جماعت پر ہے۔ کتاب کی شیرازہ بندی اتفاق و اتحاد کی مرہون منت ہے۔ اگر یہ شیرازہ بندی نہ ہو تو منتشر اوراق پر کتاب کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ جب منتشر اوراق کو باہم جوڑ کر ان کی شیرازہ بندی کر دی گئی تو کتاب وجود میں آئی۔ اس شیراز کو توڑ دیجیے تو اوراق منتشر ہو جائیں گے اور کتاب کا وجود ختم ہو جائے گا۔ دریا، سمندر، نہر اور چشمہ کیا ہیں؟ یہ پانی کے قطروں کا اتحاد ہی تو ہے۔ اگر قطروں میں ی

طہارت اور پاکیزگی پر مضمون۔

 طھارت اور پاکیزگی۔

گداگری پر مکمل مضمون۔

 گداگری - گداگری پر مکمل مضمون۔
COPYRIGHT © BY MHASSAAN.XYZ