نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

Nimaz e Janaza in Urdu. How to pray a nimaz e janaza. Explained in urdu

 Nimaz e Janaza in Urdu. How to pray a nimaz e janaza. Explained in urdu. السلام علیکم دوستوں امید کرتا ہوں کہ آپ سب خیریت سے ہوں گے۔ آج ہم نماز جنازہ کو پڑھنے کا طریقہ اور اس کے فوائد جاننے کی کوشش کریں گے۔ تو اس لیے اس مضمون کو پورا پڑھیں اور دھیان سے پڑھے ہیں۔ سب سے پہلے نماز جنازہ اور عام نماز میں فرق کیا ہے۔ ہم جو عام نماز مسجدوں میں پڑھتے ہیں وہ ہم اللہ تعالی کے لیے پڑھتے ہیں جن میں ہم سجدے رکوع اور کرت کی مقدار یعنی التحیات میں بیٹھتے ہیں۔ لیکن نماز جنازہ ہم میت کی بخشش و مغفرت کے لئے پڑھتے ہیں۔ نماز جنازہ میں ہم نہ رکوع کرتے ہیں نہ سجدہ کرتے ہیں اور نہ ہی اتحیات میں بیٹھتے ہیں۔ کیوں کے وہ نماز میت کے لیے ہوتی ہے اور اللہ تعالی نے فرمایا کسی اور کو سجدہ کرنا شرک ہے اور شرک سب سے بڑا گناہ ہے۔ تو سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ کیا نماز جنازہ فرض ہے؟ تو جواب ہے کہ نماز جنازہ پوری طرح سے ہم پر فرض نہیں ہے۔ لیکن کسی حد تک اسے ہم واجب کہہ سکتے ہیں۔ یہ نماز فرض ہے کہافیہ ہے۔ اگر اسے پڑھ لیں تو بہت زیادہ ثواب ملے گا اور اگر نہ پڑھے تو گناہ نہیں ملے گا۔ لیکن مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں چاہیے ک

محنت کی برکات۔

 محنت کی برکات۔

Benefits of hardwork.




دنیا میں ہر کام کے لئے حرکت، طاقت اور قوت کی ضرورت ہوتی ہے اور کام کی انجام دہی محنت کہلاتی ہے۔
دنیا کی تمام تر خوبصورتی پائیداری محنت اور مشقت کی بدولت ہے۔ محنت اس کائنات کا ایک ایسا اصول ہے جس پر عمل کی بنیاد پر انسان کو زندگی کے ہر شعبے میں ثمرات میسر آتے ہیں۔
خود خالق کائنات نے بھی بڑے واضح الفاظ میں فرمادیا ہے کہ انسان کو وہی کچھ ملے گا جس کے لیے وہ محنت کرے گا۔
گویا مذہبی اعتبار سے بھی ایک کاہل سست اور بے عمل انسان معاشرے کے لیے قابل قبول نہیں۔ اسلام کی تعلیمات میں کام کرنے والے کو اللہ کا دوست کہا گیا ہے۔
خود ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا ہر کام اپنے ہاتھ سے کرنے میں فخر محسوس کرتے تھے، اپنے جوتے خود گانٹھتے اور پھٹے کپڑوں کو پیوند بھی خود لگایا کرتے تھے۔
مسجد نبوی کی تعمیر میں حضور صلی علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ مل کر پتھر اٹھائے اور غزوہ خندق کے موقع پر خود بھی خندق کھودنے کا کام سرانجام دیا۔
اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ وسلم نے ہمارے لیے ایک مثال اور نمونہ دیا کہ کوئی بھی کام خود کرنے میں عار محسوس نہیں کرنی چاہیے۔
پاکستانی ہونے کی حیثیت سے اگر ہم غور کریں تو یہ بات واضح ہوگئی کہ تحریک پاکستان میں شامل کی شخصیات ایسی ہیں جن کی زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔
سرسید احمد خان رحمۃ اللہ علیہ،قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ اقبال رحمہ اللہ علیہ کا منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا نہیں ہوئے تھے۔
انہوں نے حصول تعلیم اور پھر حصول مقصد کے لیے دن رات محنت کی۔ اسی محنت کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے نہ صرف اپنا اور اپنے والدین کا نام روشن کیا بلکہ برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک الگ وطن کے خواب کو عملی صورت بھی دی۔ 
اگر یہ لوگ دن رات محنت نہ کرتے تو آج ہم جو سکھ اور آزادی کا سانس لے رہے ہیں وہ کبھی ممکن نہ ہوتا۔
ہم انگریزوں کی غلامی کے بعد ہندوؤں کی غلامی کے چنگل میں ہمیشہ کے لئے پھنس گئے ہوتے ہوتے۔
برصغیر پاک و ہند میں اسلام کی تبلیغ و اشاعت کا کام کرنے والے بزرگان دین نیکی کی سال حصول علم میں صرف کیے۔
ہزاروں میل کا سفر کر کے ہندوستان آئے اور لوگوں کے دلوں کو اللہ تعالی کےدین کی روشنی سے منور کیا۔ ان کے پیش نظر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی تھیں۔ جنہوں نے مشرکین مکہ کے ہر ظلم کو برداشت کیا اور طائف میں پتھر کھا کر لہو لوہان بھی ہوئے۔
یہ لوگ اگر محنت نہ کرتے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاتے تو آج سارا عالم اسلام کی تعلیمات سے محروم ہوتا۔ انسان کی حیثیت ایک پودے کی سی نہیں کہ ایک ہی جگہ پر کھڑے کھڑے تناور درخت بن جائے گا۔
انسانی زندگی میں نکھار اور وقار محنت ہی سے آتا ہے اور کوئی شخص ایسا نہیں جو بغیر محنت و مشقت کے کامیابی و کامرانی کا دعوی کرے۔ دنیا میں جس نے بھی شہرت و عزت اور نام کمایا وہ محنت ہی کا ثمر تھا۔
جس انسان نے محنت کو اپنا شعار بنا لیا اسی نے مقام و مرتبہ اور عظمت پائیں۔
کسان کی مثال لے لیں، اگر وہ محنت کرنا چھوڑ دے کھیتی باڑی نہ کرے تو خوراک کا بندوبست کیوں کر ممکن ہوگا؟ آج کا انسان اپنی زندگی میں جن آسائشات اور سہولتوں کے مزے لوٹ رہا ہے، وہ سائنسی ایجادات کی بدولت ہے اور سائنسی ایجادات انسان کی محنت ہی کا ثمر ہیں۔
جن افراد اور اقوام نے محنت کی وہ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل ہوگئیں۔
جنہوں نے محنت اور مشقت سے پہلوتہی کی انہیں معاشرے اور دنیا میں کچھ بھی حاصل نہ ہوسکا۔
  ایک طالب علم اگر سارا سال کچھ نہ پڑھے، وقت ضائع کرے اور پڑھائی کے لئے محنت نہ کرے، تو سال کے آخر میں ناکامی کے سوا اس کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے؟ اس کے مقابلے میں جو طالب علم سارا سال محنت کرتا رہتا ہے کامیابی اس کے قدم چومتی ہے۔
دنیا میں کامیابی و کامرانی عزت نام اور شہرت کے لیے ہمیں سخت محنت اور مشقت کرنی چاہیے۔ ہمارے قومی رہنما قائد اعظم رحمت اللہ علیہ نے بھی کام کام اور صرف کام کی ہی نصیحت کی تھی۔
 گویا پاکستانی قوم کو انہوں نے کامیابی کا کلیاں بتایا تھا کہ اگر ہمیں دنیا میں مضبوط اور طاقتور قوم بننا ہے، تو پھر محنت اور مشقت کو اپنا شعار بنانا ہوگا۔
محنت ہی کی وجہ سے انسان میں ہمت و حوصلہ اور اعتماد کی قوت پیدا ہوتی ہے، جو آگے چل کر کامیابی و کامرانی کا پیش خیمہ بنتی ہے۔ 
معاشرے میں ہماری حیثیت اور مقام کوئی بھی ہو ہر سطح پر محنت اور مشقت کو اپنی عادت بنانا چاہیے تاکہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر ترقی کر سکیں۔
مولانا الطاف حسین حالی نے کیا خوب کہا۔

مشقت کی ذلت جنہوں  نے اٹھائی
یہاں  میں  ملی  ان کو  آخر  بڑائی
کسی نے مغیر اس کے ہر گز نہ پائی
فضیلت،  نہ عزت،  نہ   فرما  روائی
نہال اس گلستان میں جتنے بڑھے ہیں
ہمیشہ وہ نیچے سے اوپر چڑھے ہیں

دوستی پر مضمون


امید ہے آپ کو یہ معلومات پسند آئی ہوگی مزید اچھی اور اسلامی معلومات کے لئے ہماری ویب سائٹ ویٹ کرتے رہا کریں۔

ہماری ویب سائٹ وزٹ کرنے کے لئے آپ کا شکریہ۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اتحاد و اتفاق کی برکت۔

 اتحاد - اتحاد و اتفاق کی برکت۔ اتحاد کے معانی ہے اتفاق ، ایکا، میل، دوستی اور محبت۔ مشہور کہاوت ہے کہ اتفاق میں طاقت ہے۔ اتحاد ہی قوت اور طاقت کا ذریعہ ہے۔ نااتفاقی انتشار، کمزوری اور زوال ہے۔ قوموں کی تعمیر اور ترقی خوشحالی اور استحکام کا دارومدار اتحاد پر ہے۔ قوم مستحد ہو تو اسے کوئی ہے دشمن مغلوب نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر قومی یکجہتی نہ ہو تو دشمن آسانی کے ساتھ اسے زیر کر لیتا ہے۔ احادیث میں بھی مسلمانوں کے اتحاد پر بہت زور دیاگیاہے۔ چنانچہ ارشاد ہے۔ مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی ہے اگر جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہو تو اس کا سارا بدن پر پڑتا ہے۔ ایک اور موقع پر آپ صل وسلم نے فرمایا اللہ تعالی کا ہاتھ جماعت پر ہے۔ کتاب کی شیرازہ بندی اتفاق و اتحاد کی مرہون منت ہے۔ اگر یہ شیرازہ بندی نہ ہو تو منتشر اوراق پر کتاب کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ جب منتشر اوراق کو باہم جوڑ کر ان کی شیرازہ بندی کر دی گئی تو کتاب وجود میں آئی۔ اس شیراز کو توڑ دیجیے تو اوراق منتشر ہو جائیں گے اور کتاب کا وجود ختم ہو جائے گا۔ دریا، سمندر، نہر اور چشمہ کیا ہیں؟ یہ پانی کے قطروں کا اتحاد ہی تو ہے۔ اگر قطروں میں ی

طہارت اور پاکیزگی پر مضمون۔

 طھارت اور پاکیزگی۔

گداگری پر مکمل مضمون۔

 گداگری - گداگری پر مکمل مضمون۔
COPYRIGHT © BY MHASSAAN.XYZ