نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

طہارت اور پاکیزگی پر مضمون۔

 طھارت اور پاکیزگی۔


Man is taking bath.




: طہارت کا مفہوم

قرآن اور سنت میں صفائی اور پاکیزگی کے لیے طھارت اور تزکیہ کے الفاظ آتے ہیں۔ طہارت کے لفظوں سے مراد ظاہری اور باطنی صفائی یعنی بدنی اور روحانی صفائی ہے۔

جب کے تزکیہ کا لفظ صرف باطنی صفائی اور اخلاق و عادات کو بہتر بنالینے کو کہتے ہیں۔ اسلام چوک کے ضابطہ حیات ہے۔ اس لیے ظاہری اور باطنی صفائی کے تمام اصول اور ضابطے بتاتا ہے۔ انسانی طبیعت گندگی سے نفرت کرتی ہے اور صفائی کو پسند کرتی ہے۔ اسلام چونکہ دین فطر ت ہے۔ اس لئے اسلام نے بھی طہارت اور تزکیہ کو بڑا مقام دیا ہے۔

: حقیقی طہارت

شریعت اسلامیہ میں طہارت حاصل کرنے کا طریقہ بتایا گیا ہے اور صحیح معنی میں طہارت شریعت کے بتائے ہوئے طریقے سے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ اس طریقے کو سامنے رکھے بغیر جو طہارت حاصل کی جائے گی، وہ ناقص ہو گئی۔ اس لیے شریعت میں وہ قابل اعتبار نہیں ہے اور نہ اس حالت میں کی گئی عبادت قبول ہوگی۔ 

طہارت جسمانی اور روحانی ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔ اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں نیت، پابندی، عبادت اور ادائے حقوق کی تعلیم دی۔ وہاں وضو اور غسل کے  تراشنے، بال منڈوانے، بال کتروانے کے احکام، لباس اور مکان کی صفائی، خوشبو لگانے اور مسواک کرنے کے فوائد بھی ذہن نشین کرائے ہیں۔

: طہارت فکر

طہارت فکر سے مراد خیالات کی پاکیزگی ہے۔ یعنی مسلمان ہونے کی نسبت سے مشرکانہ خیالات سے اپنے دل کو پاک رکھا جائے۔ اللہ کے سوا کسی کو معبود نہ مانا جائے، کیونکہ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے مشرکوں کو نجس یعنی ناپاک کہا ہے۔کیوں کہ ان کو فکر میں نجاست ہوتی ہے اور وہ فکری لحاظ سے ناپاک ہوتی ہیں۔


: طہارت اخلاق

طہارت اخلاق سے مراد بری بات، گناہ، برائی، غیبت، بغض، حسد، گالی گلوچ، ناانصافی اور ظلم و زیادتی سے اجتناب ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنا اخلاق کا آپس میں پاک رکھیں اللہ اور اس کے رسول کے لئے باہمی آہنگی کا مظاہرہ کریں۔ تاکہ معاشرہ اسلامی راہ پر گامزن ہو سکے۔

: طہارت جسم

جسم کو ظاھری نجاست سے دور کیا جائے۔ اس طہارت سے مراد جسم کو پاک رکھنا ہے۔ طہارت جسم کے فلسفہ کو جاننے کے بعد انسان اور حیوان میں تمیز سمجھ میں آ جاتی ہے۔ اس طہارت میں وضو، غسل اور اگر نجاست کو دور کرنے کے لیے پانی نہ ملے تو تیمم کیا جائے۔

ناخن تراشنا مستحب ہے اس لئے کہ جب ناخن بڑے ہو جاتے ہیں تو ان کی صورت بری ہو جاتی ہے اور ان میں میل اکٹھا ہو جاتی ہے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کو ناخن تراشنے کے بارے میں فرمایا۔
اے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ اپنے ناخن تراشوں اس لیے جب ناخن بڑھ جاتے ہیں تو ان پر شیطان بیٹھ جاتا ہے۔

: طہارت لباس

طہارت لباس اس سے مراد کپڑوں کو صاف اور پاک رکھنا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے کہ اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھا کرو۔
ابھی محاورے میں کپڑے پاک رکھنا سے مراد گناہ چھوڑ دینا ہے۔ کیونکہ عربی محاورے میں جو شخص گناہ گار ہو اسے میرے اور گندے کپڑوں والا کہتے ہیں اور جو شخص نیکی کرنے والا ہوں اسے پاک کپڑوں والا کہتے تھے۔ لیکن یہاں کپڑوں کی طہارت سے مراد یہ ہے کہ کپڑے صاف رکھے جائیں مشرکوں کی طرح اپنا لباس ناپاک نہ رکھا جائے۔ 
ایک دن ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ خراب لباس پہنے ہوئے آپ صلی اللہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا گندہ لباس دے کر ان سے پوچھا کیا تمہیں رب تعالی نے کچھ مال دیا ہے۔ انہوں نے جواب دیا ہاں اللہ نے بہت کچھ عطا کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی خوش ہوتا ہے کہ اپنے بندے پر آپ نے دی ہوئی نعمت کا اثر دیکھے۔ جب اللہ تعالی نے تم پر فضل کیا ہے تو اچھے کپڑے پہن لیا کرو، تاکہ اللہ کی دی ہوئی نعمت کا اظہار ہو۔

: طہارت مکان

طہارت مکان کے بڑے وسیع معنی ہیں۔ اول جس جگہ نماز ادا کی جائے، غلاظت سے پاک رکھا جائے۔ جس جگہ مسلمان رہائش پذیر ہوں وہ پاک صاف ہونی چاہیے۔ پھر گاؤں، محلہ، پھر ملک میں عقیدگی کی فضا برقرار رکھنی چاہیے۔ جیسا کہ خالق کائنات نے ارشاد فرمایا۔
اللہ توبہ کرنے والوں اور پاک و صاف رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

 : طہارت کے فوائد

طہارت دو قسم کی ہوتی ہیں ایک جسمانی اور ایک روحانی صفائی۔ اسی طرح طہارت کے فوائد بھی دو قسم کے ہیں۔ 1- جسمانی طہارت کے فوائد۔ 2۔ روحانی طہارت کے فوائد۔

جسمانی طہارت کے فوائد

: ذہنی اور جسمانی سکون

ہر نماز سے پہلے وضو کرنے سے انسان کی ذہنی اور جسمانی تھکاوٹ دور ہوجاتی ہے اور انسان پھر سے تروتازہ اور چاق و چوبند ہوجاتا ہے۔

: صحت کا راز

انسانی صحت کا راز بھی صفائی میں مضمر ہے۔ گندے جسم اورگندے کپڑوں میں ماریا پھیلانے والے جراثیم اور بیکٹیریا پیدا ہوتے ہیں۔ اکثر بیماریاں انسان کے زندہ رہنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ صاف ستھرا رہنے والے لوگ تندرست و توانا ہوتے ہیں۔

: قبولیت عبادت

عبادت کرنے اور خاص طور پر نماز ادا کرنے کے لیے جسم، لباس اور جگہ کا صاف ہونا بہت زیادہ ضروری ہے۔ اگر ان میں سے کوئی بھی چیز نجاست سے آلودہ ہو تو نماز نہیں قبول ہوتی۔

: سکونِ قلب

طہارت اور پاکیزگی دلی سکون کا بھی باعث ہے۔ اس لیے کہ جب جسم پاک و صاف ہوگا تو دل کو تسکین اور روح کو فرحت اور بالیدگی بھی نصیب ہو گی۔  

 : پر کشش شخصیت

جسمانی اور ذہنی پاکیزگی اور صفائی سے انسان کی شخصیت پرکشش اور جاذب نظر بن جاتی ہے۔ لوگ صاف ستھرے آدمی سے بات کرنا اور اس کے پاس بیٹھنا اور اسے اپنے پاس بٹھانا پسند کرتے ہیں۔ جبکہ گندے آدمی سے لوگ نفرت کرتے ہیں۔

: اللہ کا محبوب

اللہ کا محبوب بننے کے لئے صفائی پسند ہونا ضروری ہے۔

روحانی طہارت کے فوائد

: معرفت الہی کا حصول

دل کی پاکیزگی اور ذہنی صفائی سے انسان میں نور ایمان کا چراغ جلتا ہے اور انسان کا دل جیسے جیسے پاکیزہ اور نیک جذبات کا منبع بن جاتا ہے۔ ویسے ویسے اسے معرفت الہی حاصل ہوتی ہے۔

: مقصد عبادات

،ایک مسلمان کی عبادت کا مقصد اسی وقت حاصل کرسکتا ہے کہ جب وہ اپنے دل و دماغ کو پاکیزہ بنا لیتا ہے۔ پھر اسے نماز پڑھنے میں مزہ بھی آتا ہے اور روزے رکھنے میں بھی روحانی تسکین حاصل ہوتی ہے۔ نماز اور روزہ اس وقت تک مشقت اور فاقہ رہتا ہے۔ جب تک اس کے پیچھے مفیدہ دل اور دماغ نہ ہوں اور دل اور دماغ کی یہ پاکیزگی حلال روزی سے پیدا ہوتی ہے۔

: قربت الہی کا حصول

جب انسان کی عبادات سنور جاتی ہیں تو پھر اسے قرب الہی حاصل ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ پھر ایک حد ایسی آتی ہے کہ وہ اللہ کا مقبول بندہ بن جاتا ہے۔

>

: رضائے الہی کا حصول

طہارت و پاکیزگی اللہ تعالی کی رضا اور خوشنودی کے حصول کا باعث بنتی ہیں اور بندہ جو اللہ تعالی کی رضا کا طالب ہوتا ہے۔ اب اللہ اس کی رضا کا طالب ہو جاتا ہے۔

اسلام میں طہارت اور پاکیزگی کی اہمیت۔

اسلام میں طہارت اور پاکیزگی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی ہے۔ یہ نقہ اسلامی کا پہلا باب ہے۔ طہارت پر جس قدر اسلام نے زور دیا ہے کسی اور مذہب نے اس قدر طہارت پر زور نہیں دیا۔ طہارت کی اہمیت کے پیش نظر قرآن میں جگہ جگہ اس کی ترغیب دی ہے۔
چنانچہ ارشاد ہوتا ہے۔
اور اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو خوب پاک صاف رہتے ہیں۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یوں سب سے پہلی وحی نازل ہوئی۔ اس میں درس توحید کے بعد اولین ہدایات یہ ہے کہ طہارت کا کامل اہتمام کیا جائے۔

کاہلی کے نقصان پر مکمل مضمون


امید ہے آپ کو یہ مضمون طہارت اور پاکیزگی کے اوپر بہت زیادہ پسند آیا ہو گا اور آپ اس سے بہت زیادہ معلومات حاصل کر چکے ہوں گے۔ طہارت اور پاکیزگی بہت زیادہ ضروری ہے۔ 

آپ کا بہت بہت شکریہ ہماری ویب سائٹ وزٹ کرنے کے لیے مزید اچھی اچھی معلومات کے لئے ہماری ویب سائٹ کو وزٹ کرتے رہا کریں۔
اگر آپ کے ذہن میں کوئی بھی سوال ہے تو ہمیں کمنٹ کریں یا کانٹیکٹ فارم پوچھ لیں۔

ہم سے رابطہ کرنے کے لیئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کریں۔


ٹیگز

طھارت اور پاکیزگی
طہارت اور پاکیزگی۔ کیا ہے؟ 
تزکیہ
 طہارت
طہارت کے فوائد
ذہنی اور جسمانی سکون
جسمانی فوائد
روحانی فوائد
صحت کا راز۔ 


آپ کا بہت بہت شکریہ اللہ تعالی آپ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اتحاد و اتفاق کی برکت۔

 اتحاد - اتحاد و اتفاق کی برکت۔ اتحاد کے معانی ہے اتفاق ، ایکا، میل، دوستی اور محبت۔ مشہور کہاوت ہے کہ اتفاق میں طاقت ہے۔ اتحاد ہی قوت اور طاقت کا ذریعہ ہے۔ نااتفاقی انتشار، کمزوری اور زوال ہے۔ قوموں کی تعمیر اور ترقی خوشحالی اور استحکام کا دارومدار اتحاد پر ہے۔ قوم مستحد ہو تو اسے کوئی ہے دشمن مغلوب نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر قومی یکجہتی نہ ہو تو دشمن آسانی کے ساتھ اسے زیر کر لیتا ہے۔ احادیث میں بھی مسلمانوں کے اتحاد پر بہت زور دیاگیاہے۔ چنانچہ ارشاد ہے۔ مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی ہے اگر جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہو تو اس کا سارا بدن پر پڑتا ہے۔ ایک اور موقع پر آپ صل وسلم نے فرمایا اللہ تعالی کا ہاتھ جماعت پر ہے۔ کتاب کی شیرازہ بندی اتفاق و اتحاد کی مرہون منت ہے۔ اگر یہ شیرازہ بندی نہ ہو تو منتشر اوراق پر کتاب کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ جب منتشر اوراق کو باہم جوڑ کر ان کی شیرازہ بندی کر دی گئی تو کتاب وجود میں آئی۔ اس شیراز کو توڑ دیجیے تو اوراق منتشر ہو جائیں گے اور کتاب کا وجود ختم ہو جائے گا۔ دریا، سمندر، نہر اور چشمہ کیا ہیں؟ یہ پانی کے قطروں کا اتحاد ہی تو ہے۔ اگر قطروں میں یہ

سائنس کے کرشمے۔

 سائنس کے کرشمے۔ انسان اشرف المخلوقات ہے۔ یہ شرف اسے اس لیے حاصل ہے کہ اسے علم جیسی نعمت سے نوازا گیا ہے۔ سائنس علم ہی کا ایک شعبہ مشہور ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو بہترین دماغی صلاحیتیں عطا کی ہیں۔ وہ ان صلاحیتوں سے کام لے کر مسلسل ارتقاء کا اور ترقی کی منازل طے کرتا رہتا ہے۔ انسان نے علم کی بدولت اس قدر ترقی حاصل کر لی ہے کہ اس کے کارناموں پر حیرت ہوتی ہے۔ انسان نے آج تک کتنی منازل طے کی ہیں وہ سائنس ہی کی مرہون منت ہیں اور ابھی ارتقاء اور ترقی کا یہ سلسلہ برابر جاری و ساری ہے۔ آج انسان عقل اور فکر کی کرشمہ سازیوں نے اس کی معاشرت اور طرز زندگی میں ایک ایسا حیرت انگیز انقلاب پیدا کیا ہے کہ اگر انیسویں صدی کا انسان اتفاق سے موجودہ دنیا میں آجائے، تو لوگوں نے حاضر کی معجزہ ایجادات کو دیکھ کر یقینا اپنے حواس کھو بیٹھے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج سائنسی ایجادات کی بدولت ہم ایک ایسی تجربہ سماتی دنیا میں پہنچ گئے ہیں۔ جس کا تصور بھی ہمارے پر پشیرو نہیں کر سکتے تھے۔ ہر لحظ تغیر پذیر ہے۔ ماضی کی ناممکن باتیں آج ممکن ہوگئی ہیں۔ جن چیزوں کا ذکر ہم قدیم قصے کہانیوں میں سنتے تھے اور ان کی صداقت پر یقین