نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

غسل اور وضو کا صحیح طریقہ۔

 غسل اور وضو کا صحیح اسلامی طریقہ۔


Fresh water in human hand



وضو کا طریقہ

وضو کی تعریف۔

عبادت کرنے سے پہلے کچھ جسمانی حصوں کو خاص ترتیب سے دھونا وضو کہلاتا ہے۔ وضو کے بغیر کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی ہے۔

وضو کا طریقہ۔

پاک اور صاف پانی لے کر پاک اور صاف اونچی جگہ پر بیٹھیں۔  قبلہ کی طرف منہ کرنا زیادہ بہتر ہے۔ پھر بسم اللہ پڑھیں اور تین بار پہنچوں تک دونوں ہاتھ دھوئیں۔ پھر تین بار کال کریں، مسواک کرنا سنت ہے۔ ورنہ انگلی سے دانت مل لیں۔
پھر تین بار ناک میں پانی ڈال کر بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے ناک صاف کریں، پھر تین بار چہرے پر آہستہ آہستہ پانی ڈال کر دھویں۔
 پیشانی کے بالوں سے تھوڑی کے نیچے تک 
اور دونوں کانوں کی لو تک چہرہ دھونا چاہیے۔ پھر کہنیوں سمیت دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئیں۔ پھر ہاتھ کرکے ایک بار سر، کانوں اور گردن کا مسح کریں۔ دایاں اور بایاں پاؤں ٹخنوں سمیت دھویں۔ یہ وضو کرنے کا مسنون طریقہ ہے۔

وضو کے بعد

وضو کرنے کے بعد دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی آسمان کی طرف بلند کرکے کلمہ شہادت پڑھنا اور اس کے ساتھ دعا ملانا سنت ہے۔

نوٹ

اگر وضو کرنے کے لئے پانی میسر نہ ہو یا پانی سے بیماری کے بڑھنے کا خدشہ ہو تو اس صورت میں وضو کی بجائے تمیم کرنے کی اللہ تعالی نے اجازت دے رکھی ہے۔

 غسل فرض ہونے کی صورت میں بھی اسی طریقے سے تمیم کیا جائے گا۔

وضو کی اہمیت۔

احادیث کی روشنی میں۔

 ترجمہ۔

وضو نماز کی چابی ہے اور نماز جنت کی کنجی ہے۔

ایک اور جگہ فرمایا۔ 

وضو کی وجہ سے میری امتیوں کے چہرے اور ہاتھ پاؤں جگمگا رہے ہوں گے۔ جو میری سنت کے مطابق اچھی طرح وضو کرے اور وضو کے بعد کلمہ شہادت پڑھے۔ اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے۔

مسائل وضو

وضو میں بعض چیزیں ضروری ہیں۔ جن کے چھوٹ جانے سے وضو قبول نہیں ہوتا۔ انہیں فرض کہتے ہیں۔ 

بعض ایسی چیزیں بھی ہیں جن کے چھوٹ جانے سے وضو ہو جاتا ہے مگر ناقص رہتا ہے۔ انہیں سنت کہتے ہیں۔ بعض ایسی ہیں کہ ان کے کرنے سے ثواب زیادہ ہوتا ہے، لیکن چھوٹ جانے سے گناہ نہیں ہوتا۔ اسے مستحب کہتے ہیں۔

فرائض وضو

وضو میں چار چیزیں فرض ہیں۔

  1. پیشانی کے بالوں سے لے کر تھوڑی کے نیچے تک اور پھر ایک کان سے لے کر دوسرے کان کی لو تک چہرہ کو اچھی طرح سے دھونا
  2. ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونا۔
  3. چوتھائی سر کا مسح کرنا۔
  4. پاؤں ٹخنوں سمیت دھونا۔

سنن وضو

وضو کی تیرہ سنتیں ہیں۔

  1. نیت کرنا۔
  2. بسم اللہ پڑھنا۔
  3. پہلے دونوں ہاتھوں کو تین بار پہنچوں تک دھونا۔
  4. مسواک کرنا۔
  5. تین بار کلی کرنا۔
  6. تین بار ناک میں پانی ڈالنا۔
  7. داڑھی کا خلال کرنا۔
  8. ہاتھ پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرنا۔
  9. ہر عضو تین بار دھونا۔
  10. ایک بار تمام سر کا مسح کرنا 
  11. دونوں کانوں کا مسح کرنا۔
  12. ترتیب سے وضو کرنا۔
  13. اس طرح وضو کرنا کے کسی عضو کے خشک ہونے سے پہلے دوسرا دھو لیا جائے۔

مستحبات وضو

وضو میں پانچ چیزیں مستحب ہیں۔
  1. بائیں طرف سے وضو کرنا۔
  2. گردن کا مسح کرنا۔
  3. وضو میں کسی سے مدد نہ لینا
  4. وضو کرتے وقت قبلہ کی طرف منہ کر کے بیٹھنا۔
  5. اونچی اور پاک جگہ پر بیٹھ کر وضو کرنا۔

مکروہات وضو 

وضو میں چار چیزیں مکروہ ہیں۔

  1. ناپاک جگہ پر وضو کرنا۔
  2. دائیں ہاتھ سے ناک صاف کرنا۔
  3. وضو کرتے وقت دنیاوی باتیں کرنا ۔
  4. سنت کے خلاف وضو کرنا۔

نواقص وضو

وضو آٹھ چیزوں سے ٹوٹ جاتا ہے۔

  1. پاخانہ یا پیشاب کرنا۔
  2.   لہو کا خارج ہونا۔
  3. بدن کے کسی حصے سے خون یا پیپ کا بہہ نکلنا۔
  4. منہ بھر کے قے آنا۔
  5. سہارا لے کر یا لیٹ کر اونگھنا۔
  6. میں ہوش ہو جانا۔
  7. پاگل ہو جانا۔
  8. نماز کے دوران کہ کہاں لگا کہ ہنسنا۔

غسل کا طریقہ۔

غسل کی تعریف۔

سنت کے مطابق بدن پر پانی ڈال کر اسے دھونا غسل کہلاتا ہے۔ اثر کرنے سے بدن پاک ہو جاتا ہے اور جنابت کی صورت میں غسل کرنا فرض ہے۔

غسل کا طریقہ۔

سنت کے مطابق غسل کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے دونوں ہاتھ ہاتھ گٹوں تک دھوئیں۔ پیر استنجاء کریں اور بدن سے حقیقی نجاست دھو ڈالیں۔ بدن میں جہاں کہیں نجاست وغیرہ لگی ہو اسے اچھی طرح دھوئیں۔
پھر نماز کا سا وضو کریں۔ وضو کے بعد سر پر پانی ڈالیں۔ پھر دائیں اور بائیں کندھے پر پانی ڈالنے اور پھر پورے جسم پر پانی ڈالیں اور سبزی وغیرہ استعمال کر کے کم از کم تین بار اپنے پورے بدن پر پانی ڈالیں اور یہ دھیان رکھیں کہ بدن کا کوئی حصہ خشک نہ رہ جائے۔

فرائض غسل۔

غسل میں تین فرض ہیں۔
  1. کلی کرنا، اسے غارت کرنا بھی کہتے ہیں۔
  2. ناک میں پانی ڈالنا۔
  3. سارے بدن پر پانی پہنچانا کے جسم کا کوئی حصہ خشک رہ جائے۔

سنن غسل۔

غسل میں پانچ سنتے ہیں۔

  1. دونوں ہاتھ گٹوں سمیت دھونا۔
  2. استنجا کرنا اور جس جگہ پر نجاست لگی ہو اسے دھونا۔
  3. ناپاکی کے دور کرنے کی نیت کرنا۔
  4. پہلے وضو کر لینا۔
  5. تمام بدن پر تین بار پانی بہانا۔

مستحبات غسل۔

غسل میں چھ چیز مستحب ہیں۔

  1. باپردہ جگہ پر نہانا۔
  2. چادر وغیرہ باندھ کر نہانا
  3. پہلے دائیں طرف اور پھر بائیں طرف کو دھونا۔
  4. پاک اور صاف جگہ پر نہانا۔
  5. بیٹھ کر غسل کرنا۔
  6. مناسب ملتانی کا استعمال کرنا۔

غسل سنت۔

مندرجہ ذیل صورتوں میں غسل کرنا سنت ہے۔

  1. جمعہ کے دن جمعہ کی نماز کے لئے غسل کرنا سنت ہے۔
  2. عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن عیدین کی نماز کے لئے غسل کرنا سنت ہے۔
  3. حج یا عمرہ کے احرام کے لئے غسل کرنا سنت ہے۔
  4. یوم عرفہ یعنی حج والے دن زوال کے بعد غسل کرنا سنت ہے۔

غسل کے مقاصد۔

مسلسل تین مقاصد کے لیے کیا جاتا ہے۔

  1. جنابت سے پاک ہونے کے لئے غسل فرض ہے۔
  2. اجر و ثواب کی نیت سے غسل سنت یا مستحب ہے۔
  3. بدن کو میل کچیل سے صاف کرنے اور گرمیوں کے موسم میں ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے یہ غسل مباح ہے۔

صفائی کے احکامات کے مقاصد۔

صفائی کے احکامات نعت کا مقصد انسان کو تنگ میں ڈالنا نہیں ہے، بلکہ تنگی کو رفع کرنا ہے۔ ناپاکی کی حالت میں انسان ایک خاص قسم کا بوجھ اپنی طبیعت پر محسوس کرتا ہے۔اللہ تعالی نے اس طبی نقص کو دور کرنے کے لئے صفائی کا احکامات اور طریقہ بتا دیا ہے۔ تاکہ کم سے کم تکلیف سے گھٹن دور کی جا سکے۔ اس کا مقصد شریعت کی تکمیل بھی ہے، کیونکہ اسلام زندگی کے کسی شعبے کو بھی نظر انداز نہیں کرتا۔ بلکہ ہر پہلو کے بارے میں رہنمائی مہیا کرتا ہے۔

خاص احتیاطیں۔

مرد اور عورت کے لیے ضروری ہے کہ اس طرح نہائیں کہ جسم کا کوئی بھی حصہ اور بال خشک نہ رہے۔ 
پانی اعتدال کے ساتھ استعمال کیا جائے خواہمخواہ پانی ضائع نہ کیا جائے۔ غسل خانے میں نہایا جائے اور اگر غسل خانہ میسر نہ ہو تو کپڑا پہن کر مرد کے لیے نہ آنے کی اجازت ہے۔ البتہ عورت کے لیے ضروری ہے کہ پردے میں نہائے غسل کرتے وقت گنگنانے اور باتیں کرنے سے منع کیا گیا ہے۔


طہارت اور پاکیزگی پر مکمل مضمون۔


امید ہے آپ کو کو غسل اور وضو کا مکمل طریقہ پتہ چل گیا ہوگا اور آپ اب سب کچھ غسل اور وضو کے بارے میں سیکھ گئے ہوں گے۔ 
اپنے جسم کو پاک رکھنا بہت بڑی عبادت ہے اور اللہ تعالی بھی صاف ستھرے لوگوں کو پسند کرتا ہے۔

اگر آپ کے دل میں کوئی بھی سوال ہے تو ہمیں کمنٹ کریں۔
آپ کا بہت بہت شکریہ مارکیٹ کرنے کے لئے اللہ تعالی آپ کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

طہارت اور پاکیزگی پر مضمون۔

 طھارت اور پاکیزگی۔

اتحاد و اتفاق کی برکت۔

 اتحاد - اتحاد و اتفاق کی برکت۔ اتحاد کے معانی ہے اتفاق ، ایکا، میل، دوستی اور محبت۔ مشہور کہاوت ہے کہ اتفاق میں طاقت ہے۔ اتحاد ہی قوت اور طاقت کا ذریعہ ہے۔ نااتفاقی انتشار، کمزوری اور زوال ہے۔ قوموں کی تعمیر اور ترقی خوشحالی اور استحکام کا دارومدار اتحاد پر ہے۔ قوم مستحد ہو تو اسے کوئی ہے دشمن مغلوب نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر قومی یکجہتی نہ ہو تو دشمن آسانی کے ساتھ اسے زیر کر لیتا ہے۔ احادیث میں بھی مسلمانوں کے اتحاد پر بہت زور دیاگیاہے۔ چنانچہ ارشاد ہے۔ مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی ہے اگر جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہو تو اس کا سارا بدن پر پڑتا ہے۔ ایک اور موقع پر آپ صل وسلم نے فرمایا اللہ تعالی کا ہاتھ جماعت پر ہے۔ کتاب کی شیرازہ بندی اتفاق و اتحاد کی مرہون منت ہے۔ اگر یہ شیرازہ بندی نہ ہو تو منتشر اوراق پر کتاب کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ جب منتشر اوراق کو باہم جوڑ کر ان کی شیرازہ بندی کر دی گئی تو کتاب وجود میں آئی۔ اس شیراز کو توڑ دیجیے تو اوراق منتشر ہو جائیں گے اور کتاب کا وجود ختم ہو جائے گا۔ دریا، سمندر، نہر اور چشمہ کیا ہیں؟ یہ پانی کے قطروں کا اتحاد ہی تو ہے۔ اگر قطروں میں یہ

سائنس کے کرشمے۔

 سائنس کے کرشمے۔ انسان اشرف المخلوقات ہے۔ یہ شرف اسے اس لیے حاصل ہے کہ اسے علم جیسی نعمت سے نوازا گیا ہے۔ سائنس علم ہی کا ایک شعبہ مشہور ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو بہترین دماغی صلاحیتیں عطا کی ہیں۔ وہ ان صلاحیتوں سے کام لے کر مسلسل ارتقاء کا اور ترقی کی منازل طے کرتا رہتا ہے۔ انسان نے علم کی بدولت اس قدر ترقی حاصل کر لی ہے کہ اس کے کارناموں پر حیرت ہوتی ہے۔ انسان نے آج تک کتنی منازل طے کی ہیں وہ سائنس ہی کی مرہون منت ہیں اور ابھی ارتقاء اور ترقی کا یہ سلسلہ برابر جاری و ساری ہے۔ آج انسان عقل اور فکر کی کرشمہ سازیوں نے اس کی معاشرت اور طرز زندگی میں ایک ایسا حیرت انگیز انقلاب پیدا کیا ہے کہ اگر انیسویں صدی کا انسان اتفاق سے موجودہ دنیا میں آجائے، تو لوگوں نے حاضر کی معجزہ ایجادات کو دیکھ کر یقینا اپنے حواس کھو بیٹھے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج سائنسی ایجادات کی بدولت ہم ایک ایسی تجربہ سماتی دنیا میں پہنچ گئے ہیں۔ جس کا تصور بھی ہمارے پر پشیرو نہیں کر سکتے تھے۔ ہر لحظ تغیر پذیر ہے۔ ماضی کی ناممکن باتیں آج ممکن ہوگئی ہیں۔ جن چیزوں کا ذکر ہم قدیم قصے کہانیوں میں سنتے تھے اور ان کی صداقت پر یقین