نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

روزہ کی فضیلت اور اہمیت۔

 روزہ - روزہ کی فضیلت اور اہمیت۔

Quran e Pak on the stand


روزے کا مفہوم

قرآن پاک میں رونے کے لئے صوم اور صیام کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ صوم کی جمع صیام ہے۔ صوم کے معنی کسی کام سے روکنا اسے ترک کرنے اور چپ رہنے کے ہیں۔ جبکہ شریعت کی اصطلاح میں صبح صادق سے غروب آفتاب تک کھانے پینے اور دیگر تمام گناہ سے روک جانے کا نام روزہ ہے۔

اسماء رمضان

حضور صل وسلم نے ماہ رمضان کو مندرجہ ذیل چار نام دیے ہیں۔

  1. شھر عظیم (عظمت والا مہینہ)
  2. شھر الصبر (صبر کا مہینہ)
  3. شھر مبارک (بابرکت مہینہ)
  4. شھرالمواساۃ (ہمدردی کا مہینہ)

فضیلت روزہ

روزہ ایک بدنی عبادت ہے اس میں انسان اور جنسی ملاب تعلقات سے رکا رہتا ہے۔ روزہ دین اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے اور ہرا کر بالغوں اور تندرست مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ بیمار اور مسافر روزہ چھوڑ سکتے ہیں بعد میں رکھنے۔

فضیلت رمضان

 رمضان المبارک کے ماہ کو نیکیوں کی فصل اور لیلۃ القدر کو جشن قرآن کی رات بھی کہتے ہیں۔

ضبط نفس

انسان مسلسل ایک ماہ صرف اللہ کی رضا کی خاطر اپنی اپنی نفسیاتی خواہشات کو قابو میں رکھتا ہے۔ لڑائیوں سے بچتا اور نیکیوں کی طرف لپکتا ہے۔ اس طرح اسے ضبط نفس کیوں وہ قوت حاصل ہوجاتی ہے جس سے وہ ہر شیطانی ترغیب کا مقابلہ کر سکتا ہے۔

روزوں کا ثواب

جو روز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے مطابق ایمان اور احتساب کے ساتھ رکھے جائیں۔ 

باب الریان

حضرت سہل بن سعد روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
جنت کے کل آٹھ دروازے ہیں۔ ان میں سے ایک دروازہ صرف روزے داروں کے لئے ہے۔ جسے باب الریان کہتے ہیں۔

 

روزہ ڈھال ہے

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
روزہ گناہوں سے بچانے والی ڈھال ہے۔ (یہ انسان کو غیبت چغلی جھوٹ حرام خوری اور بدکاری سے بچاتا ہے۔)

 

رمضان میں اعمال کی جزا

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
رمضان المبارک میں اعمال کی جزا ستر گنا تک بڑھا دی جاتی ہے۔ نوافل کے جزا فرائض کے برابر ہے۔ 

 

احتساب کے بغیر روزے

اگر کوئی شخص روزہ رکھ کر بھی جھوٹ اور غلط کاریوں سے نہیں بچتا، تو اس کا کھانا پینا چھوڑ آنے سے اللہ کو کوئی دلچسپی نہیں۔


حاصل کلام

روزہ رکھنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ روزہ اجر و ثواب اور ایمان کی حالت میں رکھا جائے۔ ماہ رمضان کی راتوں کو قیام یعنی نماز تراویح سنت ہے۔ 
ایک حدیث پاک ہے کہ بیشک اللہ نے تم پر روزے فرض کئے اور رمضان کی راتوں کا قیام پر فرض کر رہا ہوں۔ جو روزے رکھے گا اور نماز تراویح پڑھے گا اس کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔

فرحت افطار

روزہ اور ظاہر ایک مشقت والی عبادت ہے۔ لیکن روزہ دار تمام دن اپنے آپ کو بھوکا اور پیاسا رکھتا ہے اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل میں نہ کچھ کھاتا ہے اور نہ کچھ پیتا ہے۔ مگر جب افطاری کا وقت آتا ہے اور روزہ دار اللہ تعالی کی پاک نعمتوں سے روزہ افطار کرتا ہے۔ تو وہ اپنے فرد کی ادائیگی پر ایک عجیب فرحت اور راحت محسوس کرتا ہے۔
کیونکہ اس وقت اللہ تعالی کے اس پر خاص رحمتیں نازل ہورہی ہوتی ہیں۔ اس طرح جو شخص دوسرے روزہ داروں کو روزہ افطار کراتا ہے اس کے متعلق حدیث پاک میں آیا ہے۔
جو شخص اس (رمضان) میں کسی روزہ دار کو افطار کرائے گا اس کے گناہوں کے لئے معافی ہے اور وہ خود کور نار جہنم سے بچا لے گا۔ اور اسے روزے دار جتنا ہی ثواب ملے گا جبکہ اس روزہ دار کے اپنے ثواب میں کوئی کمی واقع نہ ہو گی۔

  

احادیث نبوی

  1. روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کو مشک سے زیادہ عزیز ہے۔
2. افطار کے وقت روزہ افطار کرنے والے کی طرف اللہ تعالی ستر مرتبہ نظر رحمت فرماتا ہے۔

3. نیو فنی رمضان کی آمد پر خوشی منائی اللہ تعالی اسے اگلے رمضان تک کسی غم سے دوچار نہ ہونے دے گا۔


حاصل کلام

 روزہ دار افطار کے وقت اللہ تعالی سے جو دعا کرتا ہے۔ اللہ تعالی اس دعا کو قبول فرماتا ہے۔ یہ بات روزہ دار کی خوشی کا باعث بنتی ہے اور دوسری خوشی وہ ہوگی جو اللہ تعالی سے ملاقات کے وقت اسے حاصل ہوگی۔ اس دلدار کے لفظ جنت کے ہر نعمت سے زیادہ پر لطف ہوگی۔ یعنی روزہ دار جب قیامت کے دن اپنے پروردگار کی تجلیات کا مشاہدہ اپنی آنکھوں سے کرے گا تو اسکی خوشی اور لطف کا کیا کہن

روزے کے فوائد۔

روزہ ہر بالغ مرد اور عورت پر فرض ہے۔ روزے میں ہمیں گناہوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔ روزے کے دوران گالی گلوچ وغیرہ نکالنا ممنوع ہے ورنہ روزہ ٹوٹ جائے گا۔
اگر کبھی روزے کہ باوجود آپ کچھ کھا لیتے ہیں یا کچھ بھی لیتے ہیں اور آپ کو پتا نہیں ہوتا۔  تو روزہ قبول ہو جائے گا۔ مگر بعد میں افطار تک کوئی چیز نہ کھائی جائے نہ پی جائے اور فورا کلی کرلی جائے۔
لیکن اگر آپ نے جان بوجھ کر کوئی چیز کھائی ہے یا بھی ہے تو اس کا کفارہ ادا کرنا ہو گا۔
جب انسان بالغ ہوجاتا ہے تو اس پر روزہ فرض ہو جاتا ہے۔ روزہ رکھ کے ہم بہت سے گناہوں سے بچ سکتے ہیں۔ روزے کے بدولت بہت تندرست رہ سکتے ہیں اور صحت یاب رہ سکتے ہیں۔
روزے سے بیماریاں ختم ہوجاتی ہیں اور آدمی گناہوں سے بچا رہ جاتا ہے۔ روزے سے انسان نے کیا کرتا رہتا ہے اور نمازوں میں لگا رہتا ہے۔ روزے کی وجہ سے انسان فارغ نہیں بیٹھتا ہر وقت اللہ تعالی کی عبادت کرتا رہتا ہے اور ثواب حاصل کرتا رہتا ہے۔ جس سے وہ بہت سے گناہوں سے بچ سکتا ہے۔


تو آپ سے گزارش ہے کہ آپ روزہ رکھیں رمضان کے مہینے میں ہر ایک نیکی ستر نیکیوں کی نسبت ہوتی ہے۔ آپ روزہ رکھے اور اللہ تعالی کا قرب حاصل کریں۔

طہارت اور پاکیزگی پر مکمل مضمون۔


امید ہے آپ کو یہ مضمون روزوں کے اوپر بہت زیادہ پسند آیا ہوگا اور آپ روزے کے بارے میں بہت زیادہ خود جان گئے ہوں گے۔ امید ہے آپ نے نے یہ معلومات غور سے پڑھی ہوں گی اور آپ کو کو اب روزوں کے فرض اور مکروہات کا بہت اچھے سے پتہ چل گیا ہوگا۔
آپ کو روزے کی اہمیت اور فوائد کا بھی پتہ چل گیا ہوگا اور یہ بھی آپ کو پتہ چل گیا ہوگا کہ آپ روزے سے کس طرح گناہوں سے بچ سکتے ہیں۔
اگر آپ کے ذہن میں کوئی بھی سوال ہے تو ہمارا کانٹیکٹ اس پیج فل کریں یا نیچے کمنٹ کر دیں۔

آپ کا بہت بہت شکریہ ہماری ویب سائٹ کو وزٹ کرنے کے لئے اللہ تعالی آپ کو ہمیشہ خوش رکھے اور اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

طہارت اور پاکیزگی پر مضمون۔

 طھارت اور پاکیزگی۔

اتحاد و اتفاق کی برکت۔

 اتحاد - اتحاد و اتفاق کی برکت۔ اتحاد کے معانی ہے اتفاق ، ایکا، میل، دوستی اور محبت۔ مشہور کہاوت ہے کہ اتفاق میں طاقت ہے۔ اتحاد ہی قوت اور طاقت کا ذریعہ ہے۔ نااتفاقی انتشار، کمزوری اور زوال ہے۔ قوموں کی تعمیر اور ترقی خوشحالی اور استحکام کا دارومدار اتحاد پر ہے۔ قوم مستحد ہو تو اسے کوئی ہے دشمن مغلوب نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر قومی یکجہتی نہ ہو تو دشمن آسانی کے ساتھ اسے زیر کر لیتا ہے۔ احادیث میں بھی مسلمانوں کے اتحاد پر بہت زور دیاگیاہے۔ چنانچہ ارشاد ہے۔ مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی ہے اگر جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہو تو اس کا سارا بدن پر پڑتا ہے۔ ایک اور موقع پر آپ صل وسلم نے فرمایا اللہ تعالی کا ہاتھ جماعت پر ہے۔ کتاب کی شیرازہ بندی اتفاق و اتحاد کی مرہون منت ہے۔ اگر یہ شیرازہ بندی نہ ہو تو منتشر اوراق پر کتاب کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ جب منتشر اوراق کو باہم جوڑ کر ان کی شیرازہ بندی کر دی گئی تو کتاب وجود میں آئی۔ اس شیراز کو توڑ دیجیے تو اوراق منتشر ہو جائیں گے اور کتاب کا وجود ختم ہو جائے گا۔ دریا، سمندر، نہر اور چشمہ کیا ہیں؟ یہ پانی کے قطروں کا اتحاد ہی تو ہے۔ اگر قطروں میں یہ

سائنس کے کرشمے۔

 سائنس کے کرشمے۔ انسان اشرف المخلوقات ہے۔ یہ شرف اسے اس لیے حاصل ہے کہ اسے علم جیسی نعمت سے نوازا گیا ہے۔ سائنس علم ہی کا ایک شعبہ مشہور ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو بہترین دماغی صلاحیتیں عطا کی ہیں۔ وہ ان صلاحیتوں سے کام لے کر مسلسل ارتقاء کا اور ترقی کی منازل طے کرتا رہتا ہے۔ انسان نے علم کی بدولت اس قدر ترقی حاصل کر لی ہے کہ اس کے کارناموں پر حیرت ہوتی ہے۔ انسان نے آج تک کتنی منازل طے کی ہیں وہ سائنس ہی کی مرہون منت ہیں اور ابھی ارتقاء اور ترقی کا یہ سلسلہ برابر جاری و ساری ہے۔ آج انسان عقل اور فکر کی کرشمہ سازیوں نے اس کی معاشرت اور طرز زندگی میں ایک ایسا حیرت انگیز انقلاب پیدا کیا ہے کہ اگر انیسویں صدی کا انسان اتفاق سے موجودہ دنیا میں آجائے، تو لوگوں نے حاضر کی معجزہ ایجادات کو دیکھ کر یقینا اپنے حواس کھو بیٹھے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج سائنسی ایجادات کی بدولت ہم ایک ایسی تجربہ سماتی دنیا میں پہنچ گئے ہیں۔ جس کا تصور بھی ہمارے پر پشیرو نہیں کر سکتے تھے۔ ہر لحظ تغیر پذیر ہے۔ ماضی کی ناممکن باتیں آج ممکن ہوگئی ہیں۔ جن چیزوں کا ذکر ہم قدیم قصے کہانیوں میں سنتے تھے اور ان کی صداقت پر یقین