نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

شکر - شکر پر مکمل مضمون۔

 شکر - شکر پر مکمل مضمون۔

Muslim is praying


شکر کا مفہوم۔

شکر کے لغوی معنی ہیں۔ پر اس کی تعریف کرنا اس کا شکریہ ادا کرنا۔ اس کا احسان ماننا اور زبان سے اس کا کھل کر اظہار کرنا شکر کہلاتا ہے۔ شکر عربی زبان کا لفظ ہے۔ اس کے اصل معنی یہ ہیں کہ مویشی چھوڑے چہرے پراس کے اصل معنی یہ ہیں کہ مویشی تھوڑے چارے پر بی موٹا تازہ رہے اور مادہ تھوڑے چارے پر بھی وافر دودھ دے۔ ایرانی تھوڑی سی بھلائی کا بھی خوب اعتراف کیا جائے۔

اللہ تعالی کا شکر ادا کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالی کی نعمتوں اور احسانات کی دل سے قدر کی جائے اور صبح ان سے اس کا اظہار کیا جائے۔ بندے کی طلب سے اللہ تعالی کے شکر کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ توحید پر پہنچتا ہے نہ رکھے اور اللہ تعالی کی تمام احکام بجا لائے۔

حمادون

ہر ایک کو ذکر کرنے والی زبان اور شکر کرنے والا دل رکھنا چاہیے۔ قیامت کے دن بلند آواز میں پکارا جائے گا۔  حمادون مطلب کھڑے ہوں۔ کچھ لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے۔ ان کے لئے ایک جھنڈا نصب کر دیا جائے گا پس وہ جنت میں داخل کر دیئے جائیں گے۔ 
عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حمادون کون ہوں گے۔ آپ صلی اللہ وسلم نے فرمایا جو ہر حال میں اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے رہتے ہوں۔

شکر کے فوائد

نعمتوں میں اضافہ۔

جب اللہ تعالی کا بندہ اس کی نعمتوں کا شکر بجا لاتا ہے۔ تو اس پر خالق کائنات کی طرف سے انعام کی بےپناہ بارش ہوتی ہے۔ گویا جس قدر شکر بڑھتا جائے گا۔ اسی قدر اللہ تعالی کے لطف و کرم میں اضافہ ہوتا جائے گا۔

گناہوں کا کفارہ

شکر آدمی کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے شکر اختیار کرنے سے انسان کے سابقہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
جو شخص کھانا کھائے اور پھر یہ کہے کہ اللہ تعالی کا شکر ہے۔  جس نے مجھے یہ کھانا دیا بغیر میری تدبیر اور قوت کے اس کے پہلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔

عذاب الہی سے چھٹکارا

شکر عذابِ الہی سے بچاؤ کا بہترین ذریعہ ہے۔ جب کہ کفر اللہ کے غضب کو دعوت دیتا ہے۔

ارشاد ربانی ہے۔

اگر تم شکر کرو اور ایمان لاؤ تو اللہ تعالی تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا اور اللہ تو مدد پہنچانے والا اور علم رکھنے والا ہے۔

 

درجات کی بلندی

شکر گزار بندہ ایک طرف تو دنیا میں سکون و راحت کی زندگی بسر کرتا ہے اور دوسری طرف سے اسے آخرت میں دائمی سکون و راحت کا شرف حاصل ہوتا ہے اور اللہ تعالی اس کو بلند درجات سے ہمکنار فرمائے گا۔
ارشاد ربانی ہے۔
ہم عنقریب شکر ادا کرنے والوں کو جزا دیں گے۔

 شکر حضرات انبیائے کرام کا شیوا

حضرت امبیا کرام کی زندگیاں شکر خداوندی کا اعلیٰ نمونہ تھیں۔ تمام انبیاء ائے کریم اللہ تعالی کے ہمیشہ شکر گزار اور ممنون احسان رہے۔ ان کی نمان سے کبھی نہ شکری کا ادنیٰ سا اظہار بھی نہ ہوا۔
رسول صلی اللہ علیہ وسلم اگر دین اور اخلاق حسنہ کے لحاظ سے سید المرسلین ہیں۔ تو شکل کے لحاظ سے بھی تمام انبیائے کرام میں نمایاں ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری حیات طیبہ شکر خداوندی کا مجسم نمونہ تھی۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف خود سراپا آپا شکر تھے۔ بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کو بھی جذبہ شکر کی مغفرت تلقین فرمایا کرتے تھے۔

شکر ادا کرنے کے طریقے

شکر قولی

انسان کے ذمہ فرض ہے کہ اللہ تعالی کی عطا کردہ نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرے کھانا اور مشروبات استعمال کرنے کے بعد الحمدللہ کہے یا کہے کہ اے اللہ تعالی تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔

شکر قلبی

قلبی شکریہ ہے کہ ذکر الہی، تلاوت قرآن، مجید، عبادت اور بھلائی کے کاموں سے دل کی اصلاح کی جائے۔ یہ صحیح معنوں میں رجوع الی اللہہوگا اور دل میں اللہ تعالی کی یاد اور ذکر کو جاگزیں کیا جائے گا۔ تو پھر یہ سراپا شکر بن جائے گا۔ جب دل شکر کا منبع اور سرچشمہ بن جائے گا تو انسان کا ہر قول و فعل شکر کا ترجمان ہو جائے گا۔

شکر عملی

قولی اور قلبی شکر کا اصل مقصد عملی شکر کی تربیت ہے۔ ظاہر ہے جب زبان سے شکر کا اظہار ہو گا اور قلب سراپا شکر ہوگا تو عمل کے ذریعے لازماً اس کا اظہار ہو گا۔ املی شکر گزاری کا طریقہ یہ ہے کہ انسان اللہ تعالی کی عطا کردہ نعمتوں اور قوتوں کو صحیح طور پر اس کی مرضی کے مطابق خرچ کرے۔ انہیں ضائع نہ کرے اور نہ ہی غلط مصروف میں لائے۔

جسمانی شکر

اللہ تعالی نے ہمیں کس قدر خوبصورت اور متناسب جسم عطا کیا ہے۔ لہذا اس کی صحت اور حفاظت کا خیال رکھنا اور اسے ہر طرح کئی بیماریوں سے بچانا اور اس سے اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقے سے کام میں لانا جسمانی شکر ہے۔

مالی شکر

مالی شکر سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ہمیں جو مال و دولت عطا کی ہے اسے اللہ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق خرچ کریں۔ اس کی زکوٰۃ ادا کریں اسے غریبوں مسکینوں اور ضرورت مندوں پر خرچ کریں۔ اسے جہاد میں صرف کریں۔

کھانے پر شکر

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ جو شخص کھانا کھائے اور پھر درج ذیل دعا پڑھے، تو اس کے پہلے گناہ معاف ہو جائیں گے۔
شکر ہے اس کا جس نے مجھے یہ کھانا دیا غیر میری اپنی تدبیر اور طاقت کے۔

اللہ تعالی نے شکر ادا کرنے میں بہت سے اجر رکھے ہیں۔
شکر ادا کرنے سے اللہ تعالی اپنی اور زیادہ نعمتوں سے ہمیں نوازتا ہے پھر اور زیادہ نعمتیں بھی عطا فرماتا ہے۔
تو آپ سے بھی گزارش ہے کہ آپ اللہ تعالی کا بہت زیادہ شکر ادا کیا کریں کیونکہ وہ رحیم اور کریم ہے۔ اس رب نے ہی ہمیں اتنی زیادہ نعمتیں عطا فرمائی ہیں جس کی ہمیں توقع بھی نہ تھی۔

غسل اور وضو کا مکمل طریقہ۔


 امید ہے آپ کو یہ مضمون شکر کی پر بہت زیادہ پسند آیا ہوگا۔ آپ نے اس مضمون سے بہت زیادہ علم حاصل کیا ہوگا اور معلومات حاصل کیں ہو نگی۔
مزید ایسی معلومات کے لئے ہماری ویب سائٹ کو وزٹ کرتے رہا کرو۔
آپ کا بہت بہت شکریہ ہماری ویب سائیٹ کو وزٹ کرنے کے لئے اللہ تعالی آپ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین۔
اگر آپ کے ذہن میں کوئی سوال ہے تو ہمیں نیچے کمنٹ کریں یا ہمارا کانٹیکٹ فارم فل کریں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

طہارت اور پاکیزگی پر مضمون۔

 طھارت اور پاکیزگی۔

اتحاد و اتفاق کی برکت۔

 اتحاد - اتحاد و اتفاق کی برکت۔ اتحاد کے معانی ہے اتفاق ، ایکا، میل، دوستی اور محبت۔ مشہور کہاوت ہے کہ اتفاق میں طاقت ہے۔ اتحاد ہی قوت اور طاقت کا ذریعہ ہے۔ نااتفاقی انتشار، کمزوری اور زوال ہے۔ قوموں کی تعمیر اور ترقی خوشحالی اور استحکام کا دارومدار اتحاد پر ہے۔ قوم مستحد ہو تو اسے کوئی ہے دشمن مغلوب نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر قومی یکجہتی نہ ہو تو دشمن آسانی کے ساتھ اسے زیر کر لیتا ہے۔ احادیث میں بھی مسلمانوں کے اتحاد پر بہت زور دیاگیاہے۔ چنانچہ ارشاد ہے۔ مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی ہے اگر جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہو تو اس کا سارا بدن پر پڑتا ہے۔ ایک اور موقع پر آپ صل وسلم نے فرمایا اللہ تعالی کا ہاتھ جماعت پر ہے۔ کتاب کی شیرازہ بندی اتفاق و اتحاد کی مرہون منت ہے۔ اگر یہ شیرازہ بندی نہ ہو تو منتشر اوراق پر کتاب کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ جب منتشر اوراق کو باہم جوڑ کر ان کی شیرازہ بندی کر دی گئی تو کتاب وجود میں آئی۔ اس شیراز کو توڑ دیجیے تو اوراق منتشر ہو جائیں گے اور کتاب کا وجود ختم ہو جائے گا۔ دریا، سمندر، نہر اور چشمہ کیا ہیں؟ یہ پانی کے قطروں کا اتحاد ہی تو ہے۔ اگر قطروں میں یہ

سائنس کے کرشمے۔

 سائنس کے کرشمے۔ انسان اشرف المخلوقات ہے۔ یہ شرف اسے اس لیے حاصل ہے کہ اسے علم جیسی نعمت سے نوازا گیا ہے۔ سائنس علم ہی کا ایک شعبہ مشہور ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو بہترین دماغی صلاحیتیں عطا کی ہیں۔ وہ ان صلاحیتوں سے کام لے کر مسلسل ارتقاء کا اور ترقی کی منازل طے کرتا رہتا ہے۔ انسان نے علم کی بدولت اس قدر ترقی حاصل کر لی ہے کہ اس کے کارناموں پر حیرت ہوتی ہے۔ انسان نے آج تک کتنی منازل طے کی ہیں وہ سائنس ہی کی مرہون منت ہیں اور ابھی ارتقاء اور ترقی کا یہ سلسلہ برابر جاری و ساری ہے۔ آج انسان عقل اور فکر کی کرشمہ سازیوں نے اس کی معاشرت اور طرز زندگی میں ایک ایسا حیرت انگیز انقلاب پیدا کیا ہے کہ اگر انیسویں صدی کا انسان اتفاق سے موجودہ دنیا میں آجائے، تو لوگوں نے حاضر کی معجزہ ایجادات کو دیکھ کر یقینا اپنے حواس کھو بیٹھے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج سائنسی ایجادات کی بدولت ہم ایک ایسی تجربہ سماتی دنیا میں پہنچ گئے ہیں۔ جس کا تصور بھی ہمارے پر پشیرو نہیں کر سکتے تھے۔ ہر لحظ تغیر پذیر ہے۔ ماضی کی ناممکن باتیں آج ممکن ہوگئی ہیں۔ جن چیزوں کا ذکر ہم قدیم قصے کہانیوں میں سنتے تھے اور ان کی صداقت پر یقین