نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ہمیں کون سا مضمون پڑھنا چاہیے۔

 What subject should I choose for study in urdu?

Study

 

ہمیں کون سا مضمون پڑھنا چاہیے۔

اکثر طالب علم یہ سوال کرتے ہیں کہ میٹرک یا ایف ایس سی وغیرہ میں ہمیں کون سا  مضمون پڑھنا چاہیے۔ 
اور والدین دین کو سب سے پہلے تو یہ نصیحت ہے کہ اپنے بچے کی مرضی کا مضمون ان کو پڑھائے اور لکھائیں گا کہ جس میں اس کا ذہن متفق ہو، وہی وہ مضمون پڑھے اور اس میں ہی اس کو قابلیت حاصل ہوگی چاہے وہ کوئی چھوٹا سا مضمون ہی کیوں نہ ہو۔
اگر آپ اپنے بچے پر زبردستی کوئی مضمون مسلط کر دیں گے تو وہ اسے اپنے آپ پر بوجھ سمجھے گا۔

بچے کی مرضی سے اس کو مضمون پڑھانا۔

 جب کہ جب آپ اپنے بچے کی مرضی سے اس کو مضمون پڑھائیں گے تو وہ اس کو شوق سے پڑھے گا۔ 
اور اسے لگے گا کہ اسے رٹا نہیں لگانا اسے سمجھنا ہے یہ ایک علم ہے جسے ہم نے سیکھنا ہے اور اس کو عمل میں لانا ہے۔
اور وہ اس کو ٹھیک نیت سے پڑھے گا اور اس میں کوئی ریاکاری نہیں کرے گا اسے محنت سے یاد کرے گا اور آپ کو پھر ان کی محنت کا پھل ملے گا اور آپ کے اتنی فیس بھی بچ جائے گی۔ 
اور آپ کو وہ ایک اچھا اچھا مستقبل بنا کر دے گا اور آپ کو ایک اچھا پھیلے گا اور اسے لگے گا کہ میں آج جہاں پر بھی ہو میرے ماں باپ کی وجہ سے ہی ہو۔ کیوں کہ انہوں نے مجھے میری مرضی سے میرا پسندیدہ مضمون پڑھایا۔

والدین کی مرضی سے بچوں کا مضمون پڑھنا۔


اس کے برعکس اگر آپ اس پر اپنی مرضی کا مضمون مسلط کر دیں گے تو اسے لگے گا کہ یہ مجھ پر بوجھ ہے اور وہ اس سے جان چھڑانے کی کوشش کرے گا اگر کبھی پڑے گا بھی تو آپ کو دکھا کر پڑھے گا اور اس میں خوب ریاکاری کرے گا اس کے نیت اس حساب سے ٹھیک نہ ہو گی کہ وہ دل سے پڑھے اور اسے دل سے یاد کرے۔ 
اور جب اس کے امتحانات  قریب آئیں گے تو اس کو بھی احساس ہو گا اور آپ کو پتہ بھی نہیں ہوگا کہ اس نے پڑھا بھی ہے یا نہیں جب اس کا نتیجہ آئے گا تو آپ بہت ہی زیادہ غمگین ہو جائیں گے۔

اور وہ اپنے مستقبل سے بھی آپ کی وجہ سے محروم ہو جائے گا اور اس بوجھ سے ہمیشہ کے لئے جان چھڑا لے گا۔
ویسے تو پاکستان میں میٹرک سے بچے کی بنیاد بننا شروع ہو جاتی ہے جب آپ میٹرک پر ہی سے اس پر اپنی مرضی مسلط کر دیں گے تو وہ آگے کچھ نہیں کر پائے گا۔
تو اب فیصلہ والدین کے ہاتھ میں ہے کہ اب وہ اپنے بچوں کو کون سا مضمون پڑھانا چاہتے ہیں ہیں اگر اس کی میٹرک سے بنیاد نہ بنی تو ایف ایس سی میں وہ مکمل نا کام ہو جائے گا۔

بچوں کا والدین کو قصوروار سمجھنا۔

اور وہ اس سب پر اتنا افسوس کرے گا کہ اس سب کا قصوروار اپنے والدین کو سمجھنے لگے گا اور اپنی قابلیت سے محروم ہو جائے گا اور قابلیت سے محروم جسم مردے کی مانند ہے۔

فیصلہ اب آپ کے ہاتھ میں ہے۔

تو ابھی سے ہی اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں سوچے اور ان کی فکر کرے اور ان کو پڑھائی میں تو اپنی مرضی کرنے دے پر اگر وہ پڑھائی نہ کرنے کا سوچے تب ان پر اپنی مرضی کرلیں۔ اپنے بچوں کا مستقبل  آپ کو بنانا ہے یا ان کا مستقبل آپ کو بگاڑنا ہے یہ فیصلہ اب مکمل والدین کے ہاتھ میں ہے چاہے بگاڑ دے چاہے سوار لیں۔


اس کو پڑھنے کے لئے آپ کا بہت بہت شکریہ امید ہے آپ کو اس نے بہت زیادہ سبق دیا ہوگا۔

شکریہ۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

طہارت اور پاکیزگی پر مضمون۔

 طھارت اور پاکیزگی۔

اتحاد و اتفاق کی برکت۔

 اتحاد - اتحاد و اتفاق کی برکت۔ اتحاد کے معانی ہے اتفاق ، ایکا، میل، دوستی اور محبت۔ مشہور کہاوت ہے کہ اتفاق میں طاقت ہے۔ اتحاد ہی قوت اور طاقت کا ذریعہ ہے۔ نااتفاقی انتشار، کمزوری اور زوال ہے۔ قوموں کی تعمیر اور ترقی خوشحالی اور استحکام کا دارومدار اتحاد پر ہے۔ قوم مستحد ہو تو اسے کوئی ہے دشمن مغلوب نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر قومی یکجہتی نہ ہو تو دشمن آسانی کے ساتھ اسے زیر کر لیتا ہے۔ احادیث میں بھی مسلمانوں کے اتحاد پر بہت زور دیاگیاہے۔ چنانچہ ارشاد ہے۔ مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی ہے اگر جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہو تو اس کا سارا بدن پر پڑتا ہے۔ ایک اور موقع پر آپ صل وسلم نے فرمایا اللہ تعالی کا ہاتھ جماعت پر ہے۔ کتاب کی شیرازہ بندی اتفاق و اتحاد کی مرہون منت ہے۔ اگر یہ شیرازہ بندی نہ ہو تو منتشر اوراق پر کتاب کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ جب منتشر اوراق کو باہم جوڑ کر ان کی شیرازہ بندی کر دی گئی تو کتاب وجود میں آئی۔ اس شیراز کو توڑ دیجیے تو اوراق منتشر ہو جائیں گے اور کتاب کا وجود ختم ہو جائے گا۔ دریا، سمندر، نہر اور چشمہ کیا ہیں؟ یہ پانی کے قطروں کا اتحاد ہی تو ہے۔ اگر قطروں میں یہ

سائنس کے کرشمے۔

 سائنس کے کرشمے۔ انسان اشرف المخلوقات ہے۔ یہ شرف اسے اس لیے حاصل ہے کہ اسے علم جیسی نعمت سے نوازا گیا ہے۔ سائنس علم ہی کا ایک شعبہ مشہور ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو بہترین دماغی صلاحیتیں عطا کی ہیں۔ وہ ان صلاحیتوں سے کام لے کر مسلسل ارتقاء کا اور ترقی کی منازل طے کرتا رہتا ہے۔ انسان نے علم کی بدولت اس قدر ترقی حاصل کر لی ہے کہ اس کے کارناموں پر حیرت ہوتی ہے۔ انسان نے آج تک کتنی منازل طے کی ہیں وہ سائنس ہی کی مرہون منت ہیں اور ابھی ارتقاء اور ترقی کا یہ سلسلہ برابر جاری و ساری ہے۔ آج انسان عقل اور فکر کی کرشمہ سازیوں نے اس کی معاشرت اور طرز زندگی میں ایک ایسا حیرت انگیز انقلاب پیدا کیا ہے کہ اگر انیسویں صدی کا انسان اتفاق سے موجودہ دنیا میں آجائے، تو لوگوں نے حاضر کی معجزہ ایجادات کو دیکھ کر یقینا اپنے حواس کھو بیٹھے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج سائنسی ایجادات کی بدولت ہم ایک ایسی تجربہ سماتی دنیا میں پہنچ گئے ہیں۔ جس کا تصور بھی ہمارے پر پشیرو نہیں کر سکتے تھے۔ ہر لحظ تغیر پذیر ہے۔ ماضی کی ناممکن باتیں آج ممکن ہوگئی ہیں۔ جن چیزوں کا ذکر ہم قدیم قصے کہانیوں میں سنتے تھے اور ان کی صداقت پر یقین