نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

نماز جنازہ کو پڑھنے کا طریقہ اور اس کے فوائد

 نماز جنازہ کو پڑھنے کا طریقہ اور اس کے فوائد 

Nimaz Janaza


السلام علیکم دوستوں امید کرتا ہوں کہ آپ سب خیریت سے ہوں گے۔
آج ہم نماز جنازہ کو پڑھنے کا طریقہ اور اس کے فوائد جاننے کی کوشش کریں گے۔ تو اس لیے اس مضمون کو پورا پڑھیں اور دھیان سے پڑھے ہیں۔

سب سے پہلے نماز جنازہ اور عام نماز میں فرق کیا ہے۔ ہم جو عام نماز مسجدوں میں پڑھتے ہیں وہ ہم اللہ تعالی کے لیے پڑھتے ہیں جن میں ہم سجدے رکوع اور کرت کی مقدار یعنی التحیات میں بیٹھتے ہیں۔

لیکن نماز جنازہ ہم میت کی بخشش و مغفرت کے لئے پڑھتے ہیں۔ نماز جنازہ میں ہم نہ رکوع کرتے ہیں نہ سجدہ کرتے ہیں اور نہ ہی اتحیات میں بیٹھتے ہیں۔ کیوں کے وہ نماز میت کے لیے ہوتی ہے اور اللہ تعالی نے فرمایا کسی اور کو سجدہ کرنا شرک ہے اور شرک سب سے بڑا گناہ ہے۔
تو سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ کیا نماز جنازہ فرض ہے؟
تو جواب ہے کہ نماز جنازہ پوری طرح سے ہم پر فرض نہیں ہے۔ لیکن کسی حد تک اسے ہم واجب کہہ سکتے ہیں۔ یہ نماز فرض ہے کہافیہ ہے۔
اگر اسے پڑھ لیں تو بہت زیادہ ثواب ملے گا اور اگر نہ پڑھے تو گناہ نہیں ملے گا۔ لیکن مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دوسرے بھائیوں کی نماز جنازہ ادا کریں اور اللہ کے ہاں ان کی بخشش و مغفرت کی دعا کریں۔ زیادہ تر آپ کو یہ دعا پڑھنی چاہیے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

نماز جنازہ میں کل چار تکبیریں ہیں۔ پہلے تو آپ کو امام بھی طریقہ بتا دے گا۔ 
نماز جنازہ میں ہمیں صرف قیام ہی کرنے کی ضرورت ہے اور کچھ دعائیں پڑھنے کی ضرورت ہے اور تکبیریں پڑھنا ہے۔

تو چلیں شروع کرتے ہیں کہ نماز جنازہ کیسے پڑھی جاتی ہے۔

سب سے پہلے آپ نے نیت کرنی ہے۔ کچھ ایسے کر کے کہ میں نیت کرتا ہوں چار تکبیر نماز جنازہ پیچھے امام کے اللہ اکبر۔

پھر آپ نے پہلی تکبیر پڑھنی ہے ۔ پہلی تکبیر کے بعد آپ نے ہاتھ ناف پر باندھ لینے ہیں جیسے آپ پہلے نماز میں باندھتے ہیں۔
پھر آپ نے نماز کی ثناء پڑھنی ہے۔ پر یہ ثناء کچھ یوں ہوگی کہ پہلے تو آپ نے وہی سنا پڑھنی ہے جو پہلے آپ نماز میں پڑھتے ہیں پر جب وہاں پر وتعالی جدک کا کے بعد آپ نے وجلا ثناء اکا پڑھنا ہے۔
پھر امام دوبارہ اللہ اکبر کہے گا۔ پھر آپ نے درودِ ابراہیم پڑھنا ہے۔
جب آپ نے درود ابراہیمی پڑھ لیا۔ تب پھر کچھ دیر بعد امام تکبیر کہے گا۔ اس تکبیر کے بعد آپ نے نماز جنازہ کی دعا پڑھنی ہے۔
نماز جنازہ کی دعائیں درج ذیل ہیں۔

بالغ مرد اور عورت کے لیے ایک ہی نماز جنازہ کی دعا ہے۔ جو نیچے بیان کی گئی ہے۔
بالغ مرد اور عورت کی نماز جنازہ کی دعا

نابالغ لڑکے کی نماز جنازہ کی دعا نیچے دی گئی ہے نا بالغ لڑکے اور نابالغ لڑکی کی نماز جنازہ کی دعا الگ الگ ہیں۔
نابالغ لڑکے کی نماز جنازہ کی دعا۔
نابالغ لڑکے کی نماز جنازہ کی دعا

اور اب آخری دعا نابالغ لڑکی کی نماز جنازہ کی دعا ہے۔
یہ دعا بھی درج ذیل دی گئی ہے۔

یہ دعا پڑھنے کے بعد امام پھر دوبارہ تکبیر کہے گا اور یہ چوتھی اور آخری تکبیر ہوگی۔
اس تکبیر کے بعد آپ نے سلام پھیر دینا ہے۔
اور ایک بات یاد رکھیں آپ نے نماز جنازہ کے بعد میت کی بخشش و مغفرت کی دعا ضرور کرنی ہے۔ 
یہ ہے نماز جنازہ کا مکمل اور درست طریقہ۔
امید ہے آپ کو بہت زیادہ اچھا لگا ہوگا کوئی بھی سوال آپ کے ذہن میں ہو تو ہم سے ضرور رابطہ کریں یا کمنٹ کریں۔

شکریہ اللہ تعالی آپ کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

طہارت اور پاکیزگی پر مضمون۔

 طھارت اور پاکیزگی۔

اتحاد و اتفاق کی برکت۔

 اتحاد - اتحاد و اتفاق کی برکت۔ اتحاد کے معانی ہے اتفاق ، ایکا، میل، دوستی اور محبت۔ مشہور کہاوت ہے کہ اتفاق میں طاقت ہے۔ اتحاد ہی قوت اور طاقت کا ذریعہ ہے۔ نااتفاقی انتشار، کمزوری اور زوال ہے۔ قوموں کی تعمیر اور ترقی خوشحالی اور استحکام کا دارومدار اتحاد پر ہے۔ قوم مستحد ہو تو اسے کوئی ہے دشمن مغلوب نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر قومی یکجہتی نہ ہو تو دشمن آسانی کے ساتھ اسے زیر کر لیتا ہے۔ احادیث میں بھی مسلمانوں کے اتحاد پر بہت زور دیاگیاہے۔ چنانچہ ارشاد ہے۔ مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی ہے اگر جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہو تو اس کا سارا بدن پر پڑتا ہے۔ ایک اور موقع پر آپ صل وسلم نے فرمایا اللہ تعالی کا ہاتھ جماعت پر ہے۔ کتاب کی شیرازہ بندی اتفاق و اتحاد کی مرہون منت ہے۔ اگر یہ شیرازہ بندی نہ ہو تو منتشر اوراق پر کتاب کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ جب منتشر اوراق کو باہم جوڑ کر ان کی شیرازہ بندی کر دی گئی تو کتاب وجود میں آئی۔ اس شیراز کو توڑ دیجیے تو اوراق منتشر ہو جائیں گے اور کتاب کا وجود ختم ہو جائے گا۔ دریا، سمندر، نہر اور چشمہ کیا ہیں؟ یہ پانی کے قطروں کا اتحاد ہی تو ہے۔ اگر قطروں میں یہ

سائنس کے کرشمے۔

 سائنس کے کرشمے۔ انسان اشرف المخلوقات ہے۔ یہ شرف اسے اس لیے حاصل ہے کہ اسے علم جیسی نعمت سے نوازا گیا ہے۔ سائنس علم ہی کا ایک شعبہ مشہور ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو بہترین دماغی صلاحیتیں عطا کی ہیں۔ وہ ان صلاحیتوں سے کام لے کر مسلسل ارتقاء کا اور ترقی کی منازل طے کرتا رہتا ہے۔ انسان نے علم کی بدولت اس قدر ترقی حاصل کر لی ہے کہ اس کے کارناموں پر حیرت ہوتی ہے۔ انسان نے آج تک کتنی منازل طے کی ہیں وہ سائنس ہی کی مرہون منت ہیں اور ابھی ارتقاء اور ترقی کا یہ سلسلہ برابر جاری و ساری ہے۔ آج انسان عقل اور فکر کی کرشمہ سازیوں نے اس کی معاشرت اور طرز زندگی میں ایک ایسا حیرت انگیز انقلاب پیدا کیا ہے کہ اگر انیسویں صدی کا انسان اتفاق سے موجودہ دنیا میں آجائے، تو لوگوں نے حاضر کی معجزہ ایجادات کو دیکھ کر یقینا اپنے حواس کھو بیٹھے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج سائنسی ایجادات کی بدولت ہم ایک ایسی تجربہ سماتی دنیا میں پہنچ گئے ہیں۔ جس کا تصور بھی ہمارے پر پشیرو نہیں کر سکتے تھے۔ ہر لحظ تغیر پذیر ہے۔ ماضی کی ناممکن باتیں آج ممکن ہوگئی ہیں۔ جن چیزوں کا ذکر ہم قدیم قصے کہانیوں میں سنتے تھے اور ان کی صداقت پر یقین