نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

آخری جنتی کا حال جو جہنم سے نکلے گا۔

 آخری جنتی کا حال کیا ہوگا جو جہنم سے نکلے گا۔

Heaven


السلام علیکم۔

آج ہم اس موضوع پر بات کریں گے کہ اس آخری جنتی کا حال کیا ہوگا جو ابھی ابھی جہنم سے نکلا ھو گا۔

دوستو ہم مسلمان ہونے کے ناطے یہ ضرور جانتے ہیں کہ ہمارا پروردگار ایک ہے اور وعدہ لاشریک ہے۔ وہ بہت مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے وہ اپنے گناہگار بندوں کو بخش دیتا ہے جس کے دل میں ذرا سا بھی ایمان ہو۔ اگر ایک انسان زمین اور آسمان کو اپنے گناہوں سے کالا کر دے اور پھر اللہ تعالی کے آگے صرف ایک آنسو بہا کے کہے یا اللہ مجھے معاف کر دے اور اپنے گناہوں پر شرمندہ ہو کر اللہ سے معافی مانگیں۔ 

تو وہ اللہ کے جو مہربان نہایت رحم کرنے والا اور بخشنے والا ہے وہ اس کے سارے گناہوں کو ایسے معاف کر دے گا جیسے کہ پیدا ہوئے بچے کے گناہ ہوتے ہیں۔

ہم زمین اور آسمان پر اللہ کی مرضی سے چلتے پھرتے ہیں اور اللہ کا رزق کھاتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس ہم اللہ تعالی کا شکر اور حق ادا بالکل نہیں کر سکتے۔ ہماری عمر اللہ تعالی کا شکر ادا کرنے کے لئے اس قدر کم ہے کہ ہماری ایسی سو  عمر بھی ہو تو ہم چیونٹی کے برابر بھی اللہ تعالی کا حق ادا نہیں کر سکتے۔

اللہ تعالی کے ہم پر بہت سارے احسان ہیں اور ان میں سے سب سے بڑا احسان ہمیں مسلمان بنانا ہے۔ اللہ تعالی کا ہمیں اس قدر شکر ادا کرنا چاہیے کہ انہوں نے ہمیں کروڑوں انسانوں میں سے مسلمان بنایا اور ہمیں ایمان جیسی عظیم نعمت سے نوازا۔ 

اللہ کی محبت کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بھی محبت کرنی چاہیے۔

پھر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کے ساتھ ساتھ ہمیں ان کی آل سے بھی محبت کرنی چاہیے یعنی ہم اہل بیت سے محبت کرنی چاہیے۔ یہی سب سے بڑی دنیا اور آخرت کی کامیابی ہے اور عزت کا کام ہے۔

ایک بندہ اللہ تعالی کے اتنے احسانات ہونے کے باوجود اللہ تعالی کا شکر ادا نہیں کرتا۔ اللہ تعالی سے شکوہ شکایت کرتا ہے۔ اللہ کی دی ہوئی صحت نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے۔ اللہ کے دئیے ہوئے رزق سے خوش نہیں ہوتا۔ اللہ کی فرض کی ہوئی پانچ نمازیں نہیں پڑتا۔ اللہ کے حکم پر نہیں چلتا اور حلال اور حرام کی تمیز نہیں کرتا۔ 

زنا، شراب، چوری، جوا، چغل خوری، غیبت، ناشکری، کرتا ہے۔ یہ سب گناہ کبیرہ ہیں اور ان کی سزا بھی بہت بری ہیں ہیں۔

انسان میں غرور اور اکڑ بلکل نہیں ہونا چاہیے چاہیے کیونکہ یہ سب سے بڑی ناکامی ہے اور ان کا کام کرکے چھوڑتا ہے۔ انسان کو اللہ تعالی نے علم کی وجہ سے اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ اس علم کو اچھے کاموں میں استعمال کرے۔ حلال اور حرام کی تمیز کرنا سیکھ جائے۔ 

اس کے باوجود اگر کوئی انسان حلال اور حرام کی تمیز نہ کرے اور زمین کو اپنے گناہوں سے اس قدر بھر دے کے اسے بے سکونی محسوس ہونے لگتی بے۔ تو انسان کو چاہئے کہ اللہ رب العزت جو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے اس سے معافی کا طلب گار ہوں اور دل سے تمام گناہوں کی معافی مانگ لے۔

جب آخری جنتی جو جہنم سے ابھی ابھی نکلا ہوگا ہوگا اللہ تعالی اس سے اس کی خواہش پوچھیں گے۔ وہ مختلف اپنی خواہشوں کا اظہار کرے گا اللہ تعالی فرمائیں گے جا تیری سب خواہشیں پوری ہوں گئیں۔ 

پھر اللہ تعالی جنت کے بارے میں پوچھیں گے۔ اس گناہ گار انسان کو تو جنت کے سائے کے تلے جگہ مل جائے تو وہ غنیمت سمجھے گا۔ اللہ تعالی فرمائیں گے جا تجھے دس زمینوں جتنی جنت دے دی گئی۔

وہ انسان پریشان ہو کر پوچھے گا اے رب تو بادشاہ ہو کر مجھ سے مذاق کر رہا ہے۔ اللہ تعالی فرمائیں گے کہ میں مذاق نہیں کر رہا جا تجھے دس زمینوں جتنی جنت دے دی گئی ہے۔

تو دیکھے اللہ تعالی اتنے رحمان اور رحیم ہیں کہ ہم ان کا ذرا سا بھی حق ادا نہیں کر سکتے ہیں کہ ہماری عمر بہت ہی زیادہ کم ہے۔ لیکن پھر بھی ہم اللہ تعالی کا شکر ادا کرکے اور پانچ نمازوں کی کثرت کرکے۔ اللہ تعالی کا قرب حاصل کر سکتے ہیں اور اللہ تعالی کی محبت حاصل کر سکتے ہیں۔

جب ہمیں اللہ تعالی کی محبت نصیب ہو گی تب ہمیں دنیا کی ہر چیز مل جائے گی۔ دنیا تو ملے گی ہی مگر اس کے ساتھ ساتھ ہماری قاری آخرت بھی سنور جائے گی۔

تو آج ہی پانچ نمازیں پڑھنے کا ارادہ کرے اور اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنے کا ارادہ کرے تاکہ ہم دنیا و آخرت میں کامیاب ہوسکے۔

امید ہے آپ عبادت کو کو اپنی زندگی کا معمول بنا لیں گے اور اللہ تعالی سے بہت محبت کریں گے اور اللہ تعالی کے ساتھ ساتھ اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت محبت کریں گے۔ کیوں کہ انہوں نے ہمیں دین سکھائیں اور ہمیں چاہیے کہ ہم دوسروں کو دین سکھائے۔

اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

طہارت اور پاکیزگی پر مضمون۔

 طھارت اور پاکیزگی۔

اتحاد و اتفاق کی برکت۔

 اتحاد - اتحاد و اتفاق کی برکت۔ اتحاد کے معانی ہے اتفاق ، ایکا، میل، دوستی اور محبت۔ مشہور کہاوت ہے کہ اتفاق میں طاقت ہے۔ اتحاد ہی قوت اور طاقت کا ذریعہ ہے۔ نااتفاقی انتشار، کمزوری اور زوال ہے۔ قوموں کی تعمیر اور ترقی خوشحالی اور استحکام کا دارومدار اتحاد پر ہے۔ قوم مستحد ہو تو اسے کوئی ہے دشمن مغلوب نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر قومی یکجہتی نہ ہو تو دشمن آسانی کے ساتھ اسے زیر کر لیتا ہے۔ احادیث میں بھی مسلمانوں کے اتحاد پر بہت زور دیاگیاہے۔ چنانچہ ارشاد ہے۔ مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی ہے اگر جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہو تو اس کا سارا بدن پر پڑتا ہے۔ ایک اور موقع پر آپ صل وسلم نے فرمایا اللہ تعالی کا ہاتھ جماعت پر ہے۔ کتاب کی شیرازہ بندی اتفاق و اتحاد کی مرہون منت ہے۔ اگر یہ شیرازہ بندی نہ ہو تو منتشر اوراق پر کتاب کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ جب منتشر اوراق کو باہم جوڑ کر ان کی شیرازہ بندی کر دی گئی تو کتاب وجود میں آئی۔ اس شیراز کو توڑ دیجیے تو اوراق منتشر ہو جائیں گے اور کتاب کا وجود ختم ہو جائے گا۔ دریا، سمندر، نہر اور چشمہ کیا ہیں؟ یہ پانی کے قطروں کا اتحاد ہی تو ہے۔ اگر قطروں میں یہ

سائنس کے کرشمے۔

 سائنس کے کرشمے۔ انسان اشرف المخلوقات ہے۔ یہ شرف اسے اس لیے حاصل ہے کہ اسے علم جیسی نعمت سے نوازا گیا ہے۔ سائنس علم ہی کا ایک شعبہ مشہور ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو بہترین دماغی صلاحیتیں عطا کی ہیں۔ وہ ان صلاحیتوں سے کام لے کر مسلسل ارتقاء کا اور ترقی کی منازل طے کرتا رہتا ہے۔ انسان نے علم کی بدولت اس قدر ترقی حاصل کر لی ہے کہ اس کے کارناموں پر حیرت ہوتی ہے۔ انسان نے آج تک کتنی منازل طے کی ہیں وہ سائنس ہی کی مرہون منت ہیں اور ابھی ارتقاء اور ترقی کا یہ سلسلہ برابر جاری و ساری ہے۔ آج انسان عقل اور فکر کی کرشمہ سازیوں نے اس کی معاشرت اور طرز زندگی میں ایک ایسا حیرت انگیز انقلاب پیدا کیا ہے کہ اگر انیسویں صدی کا انسان اتفاق سے موجودہ دنیا میں آجائے، تو لوگوں نے حاضر کی معجزہ ایجادات کو دیکھ کر یقینا اپنے حواس کھو بیٹھے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج سائنسی ایجادات کی بدولت ہم ایک ایسی تجربہ سماتی دنیا میں پہنچ گئے ہیں۔ جس کا تصور بھی ہمارے پر پشیرو نہیں کر سکتے تھے۔ ہر لحظ تغیر پذیر ہے۔ ماضی کی ناممکن باتیں آج ممکن ہوگئی ہیں۔ جن چیزوں کا ذکر ہم قدیم قصے کہانیوں میں سنتے تھے اور ان کی صداقت پر یقین