نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

محنت کی برکات۔ لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

Nimaz e Janaza in Urdu. How to pray a nimaz e janaza. Explained in urdu

 Nimaz e Janaza in Urdu. How to pray a nimaz e janaza. Explained in urdu. السلام علیکم دوستوں امید کرتا ہوں کہ آپ سب خیریت سے ہوں گے۔ آج ہم نماز جنازہ کو پڑھنے کا طریقہ اور اس کے فوائد جاننے کی کوشش کریں گے۔ تو اس لیے اس مضمون کو پورا پڑھیں اور دھیان سے پڑھے ہیں۔ سب سے پہلے نماز جنازہ اور عام نماز میں فرق کیا ہے۔ ہم جو عام نماز مسجدوں میں پڑھتے ہیں وہ ہم اللہ تعالی کے لیے پڑھتے ہیں جن میں ہم سجدے رکوع اور کرت کی مقدار یعنی التحیات میں بیٹھتے ہیں۔ لیکن نماز جنازہ ہم میت کی بخشش و مغفرت کے لئے پڑھتے ہیں۔ نماز جنازہ میں ہم نہ رکوع کرتے ہیں نہ سجدہ کرتے ہیں اور نہ ہی اتحیات میں بیٹھتے ہیں۔ کیوں کے وہ نماز میت کے لیے ہوتی ہے اور اللہ تعالی نے فرمایا کسی اور کو سجدہ کرنا شرک ہے اور شرک سب سے بڑا گناہ ہے۔ تو سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ کیا نماز جنازہ فرض ہے؟ تو جواب ہے کہ نماز جنازہ پوری طرح سے ہم پر فرض نہیں ہے۔ لیکن کسی حد تک اسے ہم واجب کہہ سکتے ہیں۔ یہ نماز فرض ہے کہافیہ ہے۔ اگر اسے پڑھ لیں تو بہت زیادہ ثواب ملے گا اور اگر نہ پڑھے تو گناہ نہیں ملے گا۔ لیکن مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں چاہیے ک

What subject should I choose for study in urdu?

 What subject should I choose for study in urdu?   ہمیں کون سا مضمون پڑھنا چاہیے۔ اکثر طالب علم یہ سوال کرتے ہیں کہ میٹرک یا ایف ایس سی وغیرہ میں ہمیں کون سا  مضمون پڑھنا چاہیے۔  اور والدین دین کو سب سے پہلے تو یہ نصیحت ہے کہ اپنے بچے کی مرضی کا مضمون ان کو پڑھائے اور لکھائیں گا کہ جس میں اس کا ذہن متفق ہو، وہی وہ مضمون پڑھے اور اس میں ہی اس کو قابلیت حاصل ہوگی چاہے وہ کوئی چھوٹا سا مضمون ہی کیوں نہ ہو۔ اگر آپ اپنے بچے پر زبردستی کوئی مضمون مسلط کر دیں گے تو وہ اسے اپنے آپ پر بوجھ سمجھے گا۔ بچے کی مرضی سے اس کو مضمون پڑھانا۔  جب کہ جب آپ اپنے بچے کی مرضی سے اس کو مضمون پڑھائیں گے تو وہ اس کو شوق سے پڑھے گا۔  اور اسے لگے گا کہ اسے رٹا نہیں لگانا اسے سمجھنا ہے یہ ایک علم ہے جسے ہم نے سیکھنا ہے اور اس کو عمل میں لانا ہے۔ اور وہ اس کو ٹھیک نیت سے پڑھے گا اور اس میں کوئی ریاکاری نہیں کرے گا اسے محنت سے یاد کرے گا اور آپ کو پھر ان کی محنت کا پھل ملے گا اور آپ کے اتنی فیس بھی بچ جائے گی۔  اور آپ کو وہ ایک اچھا اچھا مستقبل بنا کر دے گا اور آپ کو ایک اچھا پھیلے گا اور اسے لگے گا کہ میں آج جہاں

شکر - شکر پر مکمل مضمون۔

 شکر - شکر پر مکمل مضمون۔ شکر کا مفہوم۔ شکر کے لغوی معنی ہیں۔ پر اس کی تعریف کرنا اس کا شکریہ ادا کرنا۔ اس کا احسان ماننا اور زبان سے اس کا کھل کر اظہار کرنا شکر کہلاتا ہے۔ شکر عربی زبان کا لفظ ہے۔ اس کے اصل معنی یہ ہیں کہ مویشی چھوڑے چہرے پراس کے اصل معنی یہ ہیں کہ مویشی تھوڑے چارے پر بی موٹا تازہ رہے اور مادہ تھوڑے چارے پر بھی وافر دودھ دے۔ ایرانی تھوڑی سی بھلائی کا بھی خوب اعتراف کیا جائے۔ اللہ تعالی کا شکر ادا کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالی کی نعمتوں اور احسانات کی دل سے قدر کی جائے اور صبح ان سے اس کا اظہار کیا جائے۔ بندے کی طلب سے اللہ تعالی کے شکر کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ توحید پر پہنچتا ہے نہ رکھے اور اللہ تعالی کی تمام احکام بجا لائے۔ حمادون ہر ایک کو ذکر کرنے والی زبان اور شکر کرنے والا دل رکھنا چاہیے۔ قیامت کے دن بلند آواز میں پکارا جائے گا۔  حمادون مطلب کھڑے ہوں۔ کچھ لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے۔ ان کے لئے ایک جھنڈا نصب کر دیا جائے گا پس وہ جنت میں داخل کر دیئے جائیں گے۔  عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حمادون کون ہوں گے۔ آپ صلی اللہ وسلم نے فرمایا جو ہر حال میں اللہ تع

غسل اور وضو کا صحیح طریقہ۔

 غسل اور وضو کا صحیح اسلامی طریقہ۔ وضو کا طریقہ وضو کی تعریف۔ عبادت کرنے سے پہلے کچھ جسمانی حصوں کو خاص ترتیب سے دھونا وضو کہلاتا ہے۔ وضو کے بغیر کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی ہے۔ وضو کا طریقہ۔ پاک اور صاف پانی لے کر پاک اور صاف اونچی جگہ پر بیٹھیں۔  قبلہ کی طرف منہ کرنا زیادہ بہتر ہے۔ پھر بسم اللہ پڑھیں اور تین بار پہنچوں تک دونوں ہاتھ دھوئیں۔ پھر تین بار کال کریں، مسواک کرنا سنت ہے۔ ورنہ انگلی سے دانت مل لیں۔ پھر تین بار ناک میں پانی ڈال کر بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے ناک صاف کریں، پھر تین بار چہرے پر آہستہ آہستہ پانی ڈال کر دھویں۔  پیشانی کے بالوں سے تھوڑی کے نیچے تک  اور دونوں کانوں کی لو تک چہرہ دھونا چاہیے۔ پھر کہنیوں سمیت دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئیں۔ پھر ہاتھ کرکے ایک بار سر، کانوں اور گردن کا مسح کریں۔ دایاں اور بایاں پاؤں ٹخنوں سمیت دھویں۔ یہ وضو کرنے کا مسنون طریقہ ہے۔ وضو کے بعد وضو کرنے کے بعد دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی آسمان کی طرف بلند کرکے کلمہ شہادت پڑھنا اور اس کے ساتھ دعا ملانا سنت ہے۔ نوٹ اگر وضو کرنے کے لئے پانی میسر نہ ہو یا پانی سے بیماری کے بڑھنے کا خدشہ ہو تو ا

اپنی مدد آپ کرنے کے فوائد۔

 اپنی مدد آپ - اپنی مدد آپ کرنے کے فوائد۔

زم زم کی کہانی۔

  زم زم - زم زم کی کہانی۔ مکہ معظمہ کی مسجد الحرام میں کعبہ شریف سے پندرہ میٹر کے فاصلے پر جنوب مشرق میں حجر اسود کی سیدھ میں ایک کنواں ہے۔ جس کے پانی کو آب زم زم کہتے ہیں۔ یہ کنواں کعبہ شریف سے بھی قدیم ہے۔ اور اس کی گہرائی کے بارے میں کیا تھا کہ وہ ایک سو چالیس فٹ ہے۔ لیکن حالیہ پیمائش پر یہ 207 فٹ گہرا پایا گیا۔ ممکن ہے پانی کی مسلسل نکاسی کی وجہ سے یہ نیچا ہو گیا ہوں مسلمانوں کے نزدیک اس کا پانی متبرک ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھڑے ہو کر پیا اور ایک خصوصی دعا فرمائیں۔ اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ایک ایسے علم کا جو فائدہ دینے والا اور ایسے رزق کا جو مجھے دل سے عطا کیا جائے اور مجھے بیماریوں سےشفاء مرحمت فرما۔ آج سے ہزاروں سال پہلے کی بات ہے کہ آج کل جہاں مکہ مکرمہ کا متبرک شہر آباد ہے۔ وہاں ریت اور سٹری ہوئی پہاڑیوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ دور دور تک کسی جاندار کا گمان تک نہ تھا۔ اسی زمانے میں اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ اپنی بیوی حضرت ہاجرہ علیہ السلام کو ان کے نومولود حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ہمرا مکے کی بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ آئیں۔ جب

محنت کی برکات۔

 محنت کی برکات۔ دنیا میں ہر کام کے لئے حرکت، طاقت اور قوت کی ضرورت ہوتی ہے اور کام کی انجام دہی محنت کہلاتی ہے۔ دنیا کی تمام تر خوبصورتی پائیداری محنت اور مشقت کی بدولت ہے۔ محنت اس کائنات کا ایک ایسا اصول ہے جس پر عمل کی بنیاد پر انسان کو زندگی کے ہر شعبے میں ثمرات میسر آتے ہیں۔ خود خالق کائنات نے بھی بڑے واضح الفاظ میں فرمادیا ہے کہ انسان کو وہی کچھ ملے گا جس کے لیے وہ محنت کرے گا۔ گویا مذہبی اعتبار سے بھی ایک کاہل سست اور بے عمل انسان معاشرے کے لیے قابل قبول نہیں۔ اسلام کی تعلیمات میں کام کرنے والے کو اللہ کا دوست کہا گیا ہے۔ خود ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا ہر کام اپنے ہاتھ سے کرنے میں فخر محسوس کرتے تھے، اپنے جوتے خود گانٹھتے اور پھٹے کپڑوں کو پیوند بھی خود لگایا کرتے تھے۔ مسجد نبوی کی تعمیر میں حضور صلی علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ مل کر پتھر اٹھائے اور غزوہ خندق کے موقع پر خود بھی خندق کھودنے کا کام سرانجام دیا۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ وسلم نے ہمارے لیے ایک مثال اور نمونہ دیا کہ کوئی بھی کام خود کرنے میں عار محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ پا
COPYRIGHT © BY MHASSAAN.XYZ