نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

سائنس کے کرشمے۔

 سائنس کے کرشمے۔ انسان اشرف المخلوقات ہے۔ یہ شرف اسے اس لیے حاصل ہے کہ اسے علم جیسی نعمت سے نوازا گیا ہے۔ سائنس علم ہی کا ایک شعبہ مشہور ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو بہترین دماغی صلاحیتیں عطا کی ہیں۔ وہ ان صلاحیتوں سے کام لے کر مسلسل ارتقاء کا اور ترقی کی منازل طے کرتا رہتا ہے۔ انسان نے علم کی بدولت اس قدر ترقی حاصل کر لی ہے کہ اس کے کارناموں پر حیرت ہوتی ہے۔ انسان نے آج تک کتنی منازل طے کی ہیں وہ سائنس ہی کی مرہون منت ہیں اور ابھی ارتقاء اور ترقی کا یہ سلسلہ برابر جاری و ساری ہے۔ آج انسان عقل اور فکر کی کرشمہ سازیوں نے اس کی معاشرت اور طرز زندگی میں ایک ایسا حیرت انگیز انقلاب پیدا کیا ہے کہ اگر انیسویں صدی کا انسان اتفاق سے موجودہ دنیا میں آجائے، تو لوگوں نے حاضر کی معجزہ ایجادات کو دیکھ کر یقینا اپنے حواس کھو بیٹھے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج سائنسی ایجادات کی بدولت ہم ایک ایسی تجربہ سماتی دنیا میں پہنچ گئے ہیں۔ جس کا تصور بھی ہمارے پر پشیرو نہیں کر سکتے تھے۔ ہر لحظ تغیر پذیر ہے۔ ماضی کی ناممکن باتیں آج ممکن ہوگئی ہیں۔ جن چیزوں کا ذکر ہم قدیم قصے کہانیوں میں سنتے تھے اور ان کی صداقت پر یقین

شکر - شکر پر مکمل مضمون۔

 شکر - شکر پر مکمل مضمون۔ شکر کا مفہوم۔ شکر کے لغوی معنی ہیں۔ پر اس کی تعریف کرنا اس کا شکریہ ادا کرنا۔ اس کا احسان ماننا اور زبان سے اس کا کھل کر اظہار کرنا شکر کہلاتا ہے۔ شکر عربی زبان کا لفظ ہے۔ اس کے اصل معنی یہ ہیں کہ مویشی چھوڑے چہرے پراس کے اصل معنی یہ ہیں کہ مویشی تھوڑے چارے پر بی موٹا تازہ رہے اور مادہ تھوڑے چارے پر بھی وافر دودھ دے۔ ایرانی تھوڑی سی بھلائی کا بھی خوب اعتراف کیا جائے۔ اللہ تعالی کا شکر ادا کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالی کی نعمتوں اور احسانات کی دل سے قدر کی جائے اور صبح ان سے اس کا اظہار کیا جائے۔ بندے کی طلب سے اللہ تعالی کے شکر کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ توحید پر پہنچتا ہے نہ رکھے اور اللہ تعالی کی تمام احکام بجا لائے۔ حمادون ہر ایک کو ذکر کرنے والی زبان اور شکر کرنے والا دل رکھنا چاہیے۔ قیامت کے دن بلند آواز میں پکارا جائے گا۔  حمادون مطلب کھڑے ہوں۔ کچھ لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے۔ ان کے لئے ایک جھنڈا نصب کر دیا جائے گا پس وہ جنت میں داخل کر دیئے جائیں گے۔  عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حمادون کون ہوں گے۔ آپ صلی اللہ وسلم نے فرمایا جو ہر حال میں اللہ تع

روزہ کی فضیلت اور اہمیت۔

 روزہ - روزہ کی فضیلت اور اہمیت۔ روزے کا مفہوم قرآن پاک میں رونے کے لئے صوم اور صیام کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ صوم کی جمع صیام ہے۔ صوم کے معنی کسی کام سے روکنا اسے ترک کرنے اور چپ رہنے کے ہیں۔ جبکہ شریعت کی اصطلاح میں صبح صادق سے غروب آفتاب تک کھانے پینے اور دیگر تمام گناہ سے روک جانے کا نام روزہ ہے۔ اسماء رمضان حضور صل وسلم نے ماہ رمضان کو مندرجہ ذیل چار نام دیے ہیں۔ شھر عظیم (عظمت والا مہینہ) شھر الصبر (صبر کا مہینہ) شھر مبارک (بابرکت مہینہ) شھرالمواساۃ (ہمدردی کا مہینہ) فضیلت روزہ روزہ ایک بدنی عبادت ہے اس میں انسان اور جنسی ملاب تعلقات سے رکا رہتا ہے۔ روزہ دین اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے اور ہرا کر بالغوں اور تندرست مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ بیمار اور مسافر روزہ چھوڑ سکتے ہیں بعد میں رکھنے۔ فضیلت رمضان  رمضان المبارک کے ماہ کو نیکیوں کی فصل اور لیلۃ القدر کو جشن قرآن کی رات بھی کہتے ہیں۔ ضبط نفس انسان مسلسل ایک ماہ صرف اللہ کی رضا کی خاطر اپنی اپنی نفسیاتی خواہشات کو قابو میں رکھتا ہے۔ لڑائیوں سے بچتا اور نیکیوں کی طرف لپکتا ہے۔ اس طرح اسے ضبط نفس کیوں وہ

غسل اور وضو کا صحیح طریقہ۔

 غسل اور وضو کا صحیح اسلامی طریقہ۔ وضو کا طریقہ وضو کی تعریف۔ عبادت کرنے سے پہلے کچھ جسمانی حصوں کو خاص ترتیب سے دھونا وضو کہلاتا ہے۔ وضو کے بغیر کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی ہے۔ وضو کا طریقہ۔ پاک اور صاف پانی لے کر پاک اور صاف اونچی جگہ پر بیٹھیں۔  قبلہ کی طرف منہ کرنا زیادہ بہتر ہے۔ پھر بسم اللہ پڑھیں اور تین بار پہنچوں تک دونوں ہاتھ دھوئیں۔ پھر تین بار کال کریں، مسواک کرنا سنت ہے۔ ورنہ انگلی سے دانت مل لیں۔ پھر تین بار ناک میں پانی ڈال کر بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے ناک صاف کریں، پھر تین بار چہرے پر آہستہ آہستہ پانی ڈال کر دھویں۔  پیشانی کے بالوں سے تھوڑی کے نیچے تک  اور دونوں کانوں کی لو تک چہرہ دھونا چاہیے۔ پھر کہنیوں سمیت دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئیں۔ پھر ہاتھ کرکے ایک بار سر، کانوں اور گردن کا مسح کریں۔ دایاں اور بایاں پاؤں ٹخنوں سمیت دھویں۔ یہ وضو کرنے کا مسنون طریقہ ہے۔ وضو کے بعد وضو کرنے کے بعد دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی آسمان کی طرف بلند کرکے کلمہ شہادت پڑھنا اور اس کے ساتھ دعا ملانا سنت ہے۔ نوٹ اگر وضو کرنے کے لئے پانی میسر نہ ہو یا پانی سے بیماری کے بڑھنے کا خدشہ ہو تو ا

طہارت اور پاکیزگی پر مضمون۔

 طھارت اور پاکیزگی۔

گداگری پر مکمل مضمون۔

 گداگری - گداگری پر مکمل مضمون۔

دوستی پر مکمل مضمون۔

 میرے دوست - دوستی پر مکمل مضمون۔